فوج اور عدلیہ کو بھی پرائیویٹائز کردیاجائے ! 14-09-2013

kal-ki-baat
تقدیر سے کوئی فرار نہیں۔ گزشتہ حکومت جب پی آئی اے کو تباہی کے کنارے تک پہنچانے کے لئے کمربستہ نظر آرہی تھی تو عام خیال یہ کیا جارہا تھاکہ اس عظیم قومی ادارے کی اونے پونے داموں نجکاری کا منصوبہ بنایا جاچکاہے۔ اس قسم کی نجکاری کے لئے مناسب گاہک کا انتخاب یا ”انتظام “ پہلے سے ہی کیا جاچکا ہوتاہے۔ جناب زرداری صاحب نے بھی کوئی نہ کوئی گاہک تیار رکھا ہوگا۔ لیکن پی آئی اے کی نجکاری کے ” سودے “ کا پھل کھانا ان کے مقدر میں نہ تھا۔ شاید اس لئے بھی کہ وہ اُس فوج ظفر موج کے شدید ردّعمل سے ڈرتے رہے جو انہوں نے اپنی پارٹی کی صفوں میں سے پی آئی اے میں بھرتی کروائی تھی۔ بہرحال انہوں نے پی آئی اے کو جن حالات تک پہنچا دیا وہ نجکاری کے اس فیصلے کے لئے نہایت سازگار تھے جو اَب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ پی آئی اے کو خریدنا چاہیں گے یا جن کے حوالے پی آئی اے کو کیا جائے گا ان سب کی نظریں پی آئی اے کی املاک پر ہوں گی جن میں نیویارک کا ایک مہنگا ہوٹل بھی شامل ہے۔ متذکرہ ہوٹل کی قیمت 300ملین ڈالر بتائی جاتی ہے (تقریباً30ارب روپے)
اس امکان سے ڈرنے کا وقت آگیا ہے کہ ملک کے ایسے اداروں کی نجکاری بھی کردی جائے جن کے بارے میں ابھی تک کسی کے ذہن میں خیال تک نہیں آیا ہوگا۔ (مثال کے طور پر ملک کا سارا عسکری نظام جس میں تینوں افواج اور ایٹمی اثاثے شامل ہیں)۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے ملک کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ عسکری نظام پر خرچ ہوتا ہے اور اندرون ملک و بیرون ملک ایسے ” صاحبانِ وسائل “ کی کوئی کمی نہیں ہوگی جو اتنے بھاری بجٹ کو خرچ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لینا چاہیں گے۔
نجکاری کا خوف ہماری عدلیہ کو بھی محسوس کرنا چاہئے ۔ کسی بھی صاحب ِ اختیار کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ کیوں نہ عدلیہ کو بھی پرائیوٹائز کردیا جائے۔!
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

Scroll To Top