بڑے خوش نصیب ہوں گے ہم کہ اگر ہمیں ایک اچھا سلطان مل جائے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new

اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ اہل پاکستان نے آدھا پاکستان جستجوئے جمہوریت میں گنوا دیا۔ جستجوئے جمہوریت کے قافلے میں شریک ہونے کا شرف مجھے بھی حاصل ہے۔ یہ شرف مجھے تب حاصل ہوا جب میں روزنامہ کوہستان کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا۔ لاہور ` راولپنڈی اور ملتان سے بیک وقت شائع ہونے والا یہ روزنامہ اپنے عہد کا ملک میں دوسرا سب سے بڑا اخبار تھا۔ نسیم حجازی اس کے چیف ایڈیٹر تھے۔ جمہوریت کی تلاش میں سب سے پہلا قدم تب حکومتِ وقت کی اپوزیشن نے محترمہ فاطمہ جناح کے جھنڈے تلے جمع ہو کر اٹھایا۔ تب ذوالفقار علی بھٹو حکومتِ وقت کا ایک ستون تھے اور جو لوگ جمہوریت کی سربلندی کے لئے مادرِ ملت کی قیادت میں ایک جھنڈے تلے جمع ہوئے ان میں شیخ مجیب الرحمان ` خان ولی خان ` مولانا بھاشانی اور خیر بخش مری وغیرہ سے لے کر مولانا مودودی تک ہر قسم کے لوگ تھے۔ بعد میں جو حقائق سامنے آئے ان سے یہ راز کھلا کہ مادرِ ملت ابتداءمیں صدارتی انتخابات میں فیلڈ مارشل ایوب کے خلاف اپوزیشن کی امیدوار بننے کے لئے تیا ر نہ تھیں مگر جمہوریت کے ثناءخوانوں نے انہیں بالآخر آمادہ کرلیا۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان کو عدم استحکام کے راستے پر ڈالنے کی خواہش رکھنے والی قوتوں نے شیخ مجیب الرحمان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ ویسے شیخ صاحب برسہا برس پہلے سے خفیہ طور پر نئی دہلی کے ساتھ روابط رکھتے تھے۔ دو جنوری 1965ءکو ہونے والے انتخابات میں جمہوریت سرخرو نہ ہوسکی مگر اسی سال کے اختتامی ایام میں صدر ایوب خان کے سابقہ منظور نظر ” اعلان ِ تاشقند“ کے شوشے سے مسّلح ہو کر جمہوریت کے حصول کی جنگ میں کود پڑے۔
تاریخ کی کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جس ذوالفقار علی بھٹو کو بالآخر امریکہ نے تختہ دار تک پہنچوایا اسے ” لانچ“ بھی امریکہ نے ہی کیا تھا۔ اور اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ صدر ایوب کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کے دوسرے بڑے کردار ایئر مارشل اصغر خان کو بھی امریکہ نے ہی لانچ کیا تھا۔ لازمی نہیں کہ وطنِ عزیز کی یہ دو بڑی شخصیات اس حقیقت سے آگاہ ہوں گی کہ پاکستان کو عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شکست وریخت کے راستے پر ڈالنے کی سازش میں ان کی حیثیت واشنگٹن کے مہروں سے زیادہ نہیں ۔
جنرل یحییٰ خان نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو فارغ کرکے اقتدار سنبھالتے ہی 1956ءکا آئین بھی فارغ کردیا۔ ون یونٹ بھی توڑ دیا گیا۔ ملک کے دونوں بازوﺅں کے درمیان قائم کی جانے والی برابری(Parity)بھی ختم کردی گئی۔
پھر7دسمبر1970ءکو ملک کے پہلے شفاف انتخابات ہوئے جن کے نتیجے میں ” اِدھر ہم اور اُدھر تم “ کے منظرنامے نے جنم لیا۔ جمہوریت سربلند ہوئی اور پاکستان ٹوٹ گیا۔
میری طرح بے شمار آنکھیں سقوطِ ڈھاکہ پر اشک بار ہوئی ہوں گی ۔ مگر میرے اندر جمہوریت کے بارے میں بھی شکوک و شہبات کچھ ایسے رچ بس گئے کہ میرے لئے اس بات پر ایمان لانا کافی مشکل ہوچکا ہے کہ ” جمہوریت “ کا مطلب سلطانی ءجمہور ہے ۔۔۔ تاریخ میں جمہور صرف ایک مرتبہ سلطان ہوئے تھے اور وہ دور آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفاءکا دور تھا۔ عمران خان اسی ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ مگر کاش کوئی ایسا طریقہ ہوتا کہ ہم گھاس کی فصل بو کر چاول کی فصل کاٹ سکتے۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت ایک سراب ہے۔ ہمیشہ سلطان ہی سلطان ہوا کرتے ہیں۔ کچھ چھوٹے سلطان اور کچھ بڑے سلطان۔ کچھ اچھے سلطان اور کچھ بُرے سلطان ۔
بڑے خوش نصیب ہوں گے ہم کہ اگر ہمیں ایک اچھا سلطان مل جائے۔ آج ہم بے شمار تجربات سے گزرنے کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان ایک اچھے سلطان تھے۔
اور سب سے برُے سلطان سے ہم نے حال ہی میں نجات حاصل کی ہے۔۔۔

Scroll To Top