مولانا فضل الرحمن بڑے پن کا مظاہرہ کریں

zaheer-babar-logo

مولانا فضل الرحمن کا حالیہ انتخابات میں اپنی دونوں سیٹیس ہار کر بہکی بہکی باتیں کرنا سمجھ میں آنی والی بات ہے۔ مثلا تازہ بیان میں جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کابینہ تشکیل دینے سے باز رہے ۔“ 25 جولائی کے انتخابات میں مولانا کی جماعت یا ان کی سیاست جس طرح بدترین شکست سے دوچار ہوئی وہ شائد اپنی مثال آپ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی اور نہیں مولانا فضل الرحمن ہی تھے جن کی ”انتھک “ کوششوں کے نتیجے میں چند ماہ قبل متحدہ مجلس عمل کاقیام ایک بار پھر عمل میںلایا۔ بعض حلقوں کا اصرار ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ہی جماعت اسلامی کو ”مجبور “ کیا کہ کے پی کے حکومت میں پانچ سال تک اتحادی پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرلی جائیں۔ جاننے والے یہ بھی جانتے ہیںکہ جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے اشارے پر صوبے بھر میں بھرپور انتخابی مہم چلاتے رہے ۔ بادی النظر میںمولانا فضل کو یقین تھا کہ وہ عام انتخابات میں کے پی کے میں پی ٹی آئی کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ اسے جمیت علماءاسلام کی سیاسی نادانی کہہ لیں یا ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کہ انتخابی مہم میں وہ بار بار کہتے رہے کہ ان کا اتحاد سیکولر قوتوں کو شکست فاش دینے کے لیے میدان میں اترا ہے لہذا انھیں کامیاب کروانے کے لیے ہر راسخ العقیدہ مسلمان اپنا کردار ادا کرے۔
ہر حکومت کے ساتھ شرکت اقتدار کے خوگر مولانا فضل الرحمن یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ اہل پاکستانی بتدریج سیاسی طور پر بالغ نظر ہورہے ۔ خبیر تا کراچی کروڈوں پاکستانی ایسے ہیں جو سیاست کو خدمت کو سمجھتے ہیں چنانچہ ان کی یہ توقع غلط نہیں کہ ایسے لوگوں کو منتخب ایوانوں میں موجود ہونا چاہے جو ان کی بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے لیے پورے اخلاص سے اپنا کردار ادا کریں ۔ حیرت ہے کہ جمیت علماءاسلام کے سربراہ سے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ وہ سیاسی امور کو گہرائی سے سمجھتے ہیں، یعنی وہ بدترین حالات میں بھی اپنے مفاد سے دسبتردار نہیں ہوا کرتے مگر اس بار مولانا کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ایک طرف متحدہ مجلس عمل کے کئی امیدوار اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے تو دوسری جانب ایم ایم اے کے قائدین کے لیے اپنی نشستیں بچانا مشکل رہا۔
ایک تبصرہ ہے کہ اعتدال پسند پاکستانی ہی نہیں خود مذہبی جماعتوں کے کارکنوں بھی اپنی قیادت پر اندھا اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی نمایاں مثال یوں سامنے آئی کہ مولانا فضل الرحمن ایک سے زائد بار ٹی وی کمیروں کی موجودگی میں کہہ چکے کہ الیکشن میںمبینہ دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں ان کے کارکن احتجاج کررہے جنھیں کسی طور پر روک نہیں جاسکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ ایم ایم اے میں شامل دیگر مذہبی جماعتیں تو ایک طرف خود جے یو آئی ف کے درجن بھر کارکن بھی احتجاج کرتے نظر نہ آئے۔
آل پارٹیز کانفرنس کی شکل میں مولانا اس بات کے لیے بھی کوشاںرہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی جیسی سیاسی قوتیں ان کے مطالبہ پر اسمبلی سے حلف لینے سے باز رہیں مگر ایسا نہ ہوا۔ افسوس کہ اس بار تمام تر تجربہ کے باوجود مولانا فضل الرحمن یہ نہ جان پائے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے اگر حالیہ انتخاب میں فاتح نہیں کہلائیں تو کم ازکم اتینی تعداد میں نشستیں ضرور حاصل کر گئیں کہ اسمبلیوں میں اپنی بھرپور موجودگی ثابت کرسکیں چنانچہ پہلے پی پی پی اور پھر پی ایم ایل این نے مولانا کی اس تجویز کو ماننے سے عملا انکار کردیا۔
جاری سیاسی صورت حال سے یہ نتیجہ یقینا نکالا جاسکتا ہے کہ ملک کی اکثر سیاسی ومذہبی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کو دھاندلی کی پیدوار قرار دے رہیں۔ بظاہر یہ ہماری سیاسی روایت بن چکی کہ شائد ہی کسی انتخاب میں بشیتر سیاسی جماعتوں نے اپنی شکست کھلے دل سے تسلیم کی ۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ملکی سیاست میں تاحال ایسی بہتری نہ آسکی جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ کسی دانشور نے خوب کہا کہ زندگی دوسروں کی خامیوں کی بجائے اپنی خوبیوں کے سہارے بسر کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سمیت عمران خان کے دیگر مخالفین کو کپتان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کے پی کے میں تسلسل کے ساتھ دوسری بار حکومت بنانا بتا رہا کہ خبیر پختونخواہ کے عوام نے اس تبدیلی کا اپنی زندگیوں میں بھرپور مشاہدہ کیا جس کا دعوی عمران خان کرتے چلے آرہے ۔
وطن عزیز کو در پیش سنگین حالات کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے ہار کو تسلیم کرتے ہوئے ایوانوں میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ انتخاب کے نتیجے میں ایک پارٹی کا جیتنا اور دیگر کا ہار جانا حیران کن نہیں۔ جمہوری نظام کا تسلسل آج شکست کھانے والی ہر بڑی چھوٹی جماعت کو یہ موقعہ فراہم کرسکتا ہے کہ 2023کے عام انتخاب میں عوامی حمایت کے نتیجے میں جیت کو اپنا مقدر بنا لے۔مذہبی سیاسی قوتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ترکی جیسے جدید مسلم ممالک میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ بلاشبہ آج کے ترکی میںطیب اردگان کی کامیابی ان کی اپنے عوام کے لیے انتھک جدوجہد کے نتیجے میں سامنے آئی مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سیاست دانوںمیں خود کو بہتر بنانے کی لگن موجود بھی یا نہیں۔

Scroll To Top