ایک بدرُوح کا سفر 12-09-2013

kal-ki-baat
ایک بدرُوح صدیوں سے پیغمبرِ اسلام کی امت کے تعاقب میں ہے۔ میری مراد یہاں ابلیس سے نہیں ہے۔ جس بدرُوح کی بات میں کررہا ہوں اسے ابلیس کی نیابت کا امتیاز ضرور حاصل ہوگا کیوں کہ اس کا مشن بھی وہی رہا ہے جس کا بیڑہ ابلیس نے پیدائش آدمؑ کے وقت اٹھایا تھا اور جس کی تکمیل کے لئے اس نے قادرِ مطلق سے خصوصی مہلت اور اجازت مانگی تھی ۔ ابلیس پیدائشِ آدم ؑ کے وقت سے ہی بنی نوع انسان کو گمراہی کے راستے پر ڈالنے کے مشن پر کاربند رہا ہے اور جس بدرُوح کا ذکر میں یہاں کررہا ہوں اس کا کام بنی نوع انسان کے ہادی ءاعظم اور روئے زمین پر خالق حقیقی کا آخری پیغام لانے والے بطل جلیل حضرت محمد کی امت کو راہِ راست سے بھٹکانا اور باطل کے راستے پر ڈالنا رہا ہے۔
میں یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ اس بدرُوح کا وجود علامتی ہے۔ اسے آپ تاریخ کے صفحات پر تلاش نہ کریں۔
یہی بدرُوح تھی جس نے خلافتِ راشدہ کے بعد امتِ رسول میں نفاق پیدا کیا اور اسلام کی پہلی صدی میں ہی جنگ جمل ` جنگ صفین اور سانحہ ءکربلا جیسے المیوں کے رونما ہونے کی وجہ بنی۔یہی بدرُوح تھی جس نے بغداد کے آخری عباسی وزیراعظم ابن علقمی کو اسلامی تاریخ میں غداری کے سب سے خونی باب کا اضافہ کرنے پر مجبور کیا۔ یہی بدرُوح تھی جو غرناط کے ابو عبداللہ ` پلاسی کے میر جعفر اور سرنگا پٹم کے میرصادق کی غداریوں کو ہماری تاریخ کا شرمناک حصہ بنانے کا سبب بنی۔ اسی بدرُوح کے زیر اثر مملکت خدادادِ پاکستان کے حکمرانوں نے نائن الیون کے خونی واقعات کے بعد اس ملک کی تقدیر کو آگ اور خون کے سمندر میں دھکیل دیا۔ اور اسی بدرُوح کا کمال ہے کہ کراچی جیسا بڑا شہر ایک اشارے پر بندہونا شروع ہوجاتا ہے اوروہاں کے گلی کوچوں میں موت محوِ رقص نظر آنے لگتی ہے۔
جب تک اس بدرُوح کی طاغوتی قوت سے ٹکرانے کا عزم ہمارے ایمان کا حصہ نہیں بنتا اور ہم چپ چاپ بے بسی سے اس کی چیرہ دستیوں کا شکار بنے رہنے کا رویہ ترک کرکے اس پر غالب آنے اور اسے نیست و نابود کرنے کے لئے اٹھ کھڑے نہیں ہوتے ` اس وقت تک یہ بدرُوح ہمارے مقدر میں نت نئی تباہی اور نت نئی بربادی کی داستان لکھتی رہے گی۔
میں کوئی خاص چہرہ سامنے رکھ کر اس بدرُوح کا ذکر نہیں کررہا۔ یہ بدرُوح مجھے بہت سارے چہروں سے جھانکتی دکھائی دیتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اِن سارے چہروں سے آپ کو بھی یہ بدرُوح جھانکتی دکھائی دے رہی ہوگی۔ اگر ہم اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم ازکم یہ تو کرسکتے ہیں کہ مل کر ان چہروں پر تھوک دیں!

Scroll To Top