پنجاب بائیو انرجی کمپنی :3 ارب کی مالی بدعنوانیوں کا سکینڈل سامنے آگیا

  • شہبازشریف کے ساتھی حسین جہانیاں گریزی بھی سکینڈل کے بڑے کرداروں میں شامل ،منصوبے کی لاگت 57 کروڑ سے بڑھا کر 3 ارب روپے کردی گئی
  • کرپٹ افسران دس میگاواٹ کے بائیو انرجی منصوبہ پر اربوں روپے خرچ کرکے ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کر سکے، منصوبہ فلاپ ہوگیا

نیباسلام آباد (آن لائن) پنجاب کی 56 کمپنیوں میں مجوزہ اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت سامنے آگئے ہیں‘ سپریم کورٹ کے حکم پر کی گئی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ پنجاب بائیوانرجی کمپنی میں بھی مجوزہ 3 ارب روپے کی مالی بدعنوانی اور کرپشن سامنے آئی ہے اس کرپشن میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے حسین جہانیاں گردیزی بھی ملوث قرار دیئے گئے ہیں۔ کمپنی افسران نے دس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے 3 ارب سے زائد خرچ کرکے ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کر سکے۔ جبکہ قومی خزانہ سے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہوچکے ہیں اربوں روپے گاڑیوں‘ تنخواہوں اور پرتعیش کھانوں پر خرچ کردیئے جبکہ بائیو انرجی کا منصوبہ کرپشن کے باعث فلاپ ہوگیا۔ سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب بائیو انرجی کمپنی کے افسران نے دس میگاواٹ منصوبہ کی لاگت 57 لاکھ سے بڑھا کر تین ارب روپے کردی اور قومی خزانہ کو دو ارب بیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا منصوبہ کی لاگت میں 508 فیصد اضافہ کردیا گیا جس کو ایک غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے افسران نے قومی خزانہ لوٹنے کیلئے منصوبہ کے ڈیزائن میں خود تبدیلی کی جس سے قومی خزانہ کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے جبکہ کرپٹ افسران نے اربوں روپے کی لاگت میں اضافہ اور ڈیزائن میں مجوزہ تبدیلی بارے متعلقہ بورڈ آف ڈائریکٹر سے پیشگی اجازت بھی نہیں لی گئی ہے۔ اس کرپشن سکینڈل کے اہم کرداروں میں مسلم لیگ ن کے ایم پی اے حسین جہانیا گریزی ‘ حامدملہی، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رانا محمد عارف‘ سیکرٹری فنانس حامد یعقوب ‘سیکرٹری زراعت پنجاب واسع خورشےد ‘حسن رضا ڈائریکٹر اور افتخار علی سہو ڈائریکٹر اس گروپ نے پنجاب میں بائیو انرجی منصوبہ کے نام پر اربوں روپے کی مالی بدعنوای کر رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر کی گئی تحقیقات میں سارش کی گئی ہے کہ اربوں روپے کی مالی بے قاعدگی ذمہ داروں سے وصول کی جائیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بائیو انرجی کمپنی کے کرپٹ افسران سے 50 لاکھ روپے مالیت سے تین لگژری گاڑیاں خرید لیں جس کیلئے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے پیشگی اجازت بھی طلب نہیں کی گئی جبکہ افسران نے یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ کمپنی انتظامیہ نے 16 نجی کمپنیوں کو کروڑون روپے کی ادائیگیوں سے لاکھوں روپے کا سیلز ٹیکس کی کٹوتی بھی نہں کی اور قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچانے کے مرتکب قرار دیئے گئے ہیں۔ سرکاری دستاویزات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ بائیو انرجی کمپنی کے افسران نے 24 لاکھ 7 ہزار روپے کا فرنیچر خریدا تھا اور خریداری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار دیئے گئے ہیں۔ کمپنی افسران نے بھاری تنخواہوں کی وصولی اور غیر ضروری اخراجات کرکے قومی خزانہ کو 4 کروڑ 42 لاکھ سے زائد کا مالی نقصان پہنچایا ہے جبکہ بیل مشین کی سستے داموں من پسند افراد کو فروخت کرکے 63 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ کمپنی افسران نے تنخواہوں کی مد میں 1 کروڑ 44 لاکھ روپے ہضم کر رکھے ہیں جن کی ریکوری کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمپنی افسران نے قواعد کے برعکس نجی کمپنی ٹیکنو لیگل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کیں جن کو غیر قانونی طریقہ سے 20 لاکھ روپے ادائیگی کی گئی ہے جن کی ریکوری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بائیو انرجی کمپنی کے کرپٹ افسران نے مسلم ٹاﺅن آفس لاہور کیلئے عمارت کرایہ پر حاصل کی اور ماہانہ کرایہ 1 لاکھ 75 ہزار روپے ادا کیا گیا جبکہ کنال روڈ فیصل آباد میں بنگلہ کرایہ پر حاصل کرکے آفس بنایا گیا اور ماہانہ کرایہ 37 ہزار روپے ادا کیا گیا تاہم کمپنی افسران نے غیر قانوی طریقہ سے عمارت مالکان کو 63 لاکھ روپے ایک سال میں ادا کئے گئے جس کی ریکوری کی ہدایت کی گئی ہے۔ بائیو انرجی منصوبہ کرپشن سکینڈل میں ملوث مبینہ ملزمان سے رابطہ کرکے موقف جاننے کی بار بار کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی افسر اپنے موقف نہ دے سکا۔ ن لیگی ایم پی اے حسین جہانیہ گردیزی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کمپنی کی بورڈ آف ڈائریکٹر کا میں ممبر تھا لیکن کمپنی کے اجلاس میں نہ کبھی شرکت کی ہے اور نہ اس کمپنی کے دیگر مالی معاملات میں میرا کوئی عمل دخل رہا ہے،جب ان کی توجہ کمپنی میں مبینہ اربوں روپے کی مالی بدعنوانیوں کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ جب معاملہ آئے گا تو دیکھ لیں گے ۔

Scroll To Top