کرپشن کیخلاف مہم رنگ لے آئی:انتخابات میں 100سے زائد کرپٹ سیاستدان مسترد

  • یوسف گیلانی بمعہ بیٹے،شاہد خاقان عباسی،سعد رفیق،سائرہ افضل تارڑ،لیاقت جتوئی،طارق فضل چوہدری،انجم عقیل،اکرم درانی،مولانا فضل الرحمان،امیر مقام،اسفندیارولی شکست کھانے والوں میںشامل
  • کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز20سال قبل عمران خان نے کیا تھا ،جدوجہد رنگ لے آئی ،کرپٹ سیاستدانوں کو عوام نے مستردکر دیا

انتخابات میں 100سے زائد کرپٹ سیاستدان مسترد

اسلام آباد(آن لائن)گزشتہ پانچ برسوں سے کرپشن اور کرپٹ افرادکیخلاف جاری مہم رنگ لائی ہے جس کے نتیجہ میں عام انتخابات 2018ءکو پاکستان کی عوام نے کرپٹ سیاستدانوں کو شکست فاش دی ہے،عوام نے عام انتخابات میں کرپشن میں ملوث 100سے زائد سیاستدانوں کو کرپٹ ہونے کی وجہ سے مسترد کیا ہے جبکہ ماضی مںی یہی کرپٹ سیاستدان ملک کی عریب عوام پر حکمرانی کرتے رہے ہیں ،تاہم بعض کرپٹ سیاستدان الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں ان میں راجہ پرویزاشرف،شہبازشریف،حمزہ شبہازو غیرہ لیکن عام طور پر عوام نے کرپٹ لوگوں کو ووٹ نہیں دیئے۔تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرپشن میں ملوث100سیاستدانوں کو عوام نے بھاری مارجن سے شکست فاش دے کر ثابت کیا ہے کہ کرپٹ سیاستدانوں کا مستقبل تاریک ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے پورے ٹبر پر کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ عوام نے انہیں بری طرح شکست دی ہے،ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی،علی موسی گیلانی ایفیڈرین سکینڈل میں ملوث تھے،تینوں باپ بیٹے ہارے ہیں ۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر اربوں روپے لوٹنے کے الزامات ہیں عوام نے انہیں بھی شکست فاش دی ہے اور یہ دونوں حلقوں سے ناکام ہوئے ہیں۔امیر مقام پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں عوام نے انہیں بھی مسترد کردیا ہے۔شہبازشریف،حمزہ شہباز،رانا مشہور،ثناءاللہ کرپٹ ہونے کے باوجود کامیاب ہوئے ہیں۔راولپنڈی کے قبضہ مافیا ملک ابرار کو عوام نے مسترد کیا ہے ۔اے این پی کے اسفندیارولی پر کرپشن کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنانے کا الزام ہے،عوام نے انہیں بری طرح شکست دی ہے۔طارق فضل چوہدری 9ارب کی کرپشن الزامات کے نتیجے میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔اکرم درانی کو کرپشن کی نانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ بھی مسترد ہوئے ہیں۔غلام احمد بلور نے بطور وزیر ریلوے بھاری کرپشن کی ہے وہ بھی ناکام ہوئے ہیں۔سردار شاہ جہاں کے والد کے بطور وزیر مذہبی امور کرپشن کے الزامات تھے عوام نے انہیں بھی مسترد کردیاہے۔انجم عقیل پر9ارب کی کرپشن کا الزام تھا ہار گئے ہیں۔فیض ٹمن پر عورت سے زیادتی کا مقدمہ ہے عوام نے انہیں بھی مسترد کیا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کرپشن میں مشہور ہیں اب ہار کھا چکی ہیں۔طلال چوہدری کرپشن میں مشہورہیں جبکہ سردار آصف احمد علی پر بھاری کرپشن کے الزامات تھے وہ بھی مسترد ہوگئے ہیں۔مخدوم شہاب الدین ایفیڈرین سکینڈل کے ملزم ہیں اعجاز جاکھرانی پر نیب کرپشن کی تحقیقات کرنے میں مصروف ہے،لیاقت جتوئی پر کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں۔عابد شیرعلی پربھی کرپشن کے الزامات ہیں ۔سائرہ افضل تارڑ پر بھی کرپشن کے مقدمات ہیں،شیرعلی گورچائی بھی کرپشن کے ان داتاہیں،سعود مجید بھی3 ارب کرپشن سکینڈل کے ملزم ہیں،دانیال چوہدری کا پورا خاندان کرپشن الزامات کی زد میں رہا تھا جبکہ طلال چوہدری نے بھی کرپشن سے خوب مال کمایا ہے۔کرپشن سے ہارنے والوں میں عبدالحکیم بلوچ،ر¶ف صدیقی،فاروق ستار،چنگیز خان جمالی،قمرالزمان کائرہ،غلام عباس،طارق انیس ،کرپشن کے بادشاہ منظور وٹو،نادیہ عزیز،عبیداللہ شادی خیل،اکرم انصاری کو عوام نے مسترد کیا ہے،بس ہاکری سے زندگی شروع کرنے والے شیخ وقاص کا ارب پتی خاندان بھی کرپشن میں ثانی نہیں رکھتا۔پرویز الٰہی نے شیخ اکرم کی ٹیکس چوری،کرپشن بارے مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا اس خاندان کے سربراہ شیخ نواز بس یاکری سے زندگی کی ابتداءکی تھی اب یہ خاندان ارب پتی ہے جس کی وجہ کرپشن ہے اب عوام نے انہیں بری طرح شکست فاش دی ہے۔نوریز شکور بطور وزیر پٹرولیم کرپشن سے مالی نمایا تھا عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے۔تہمینہ دولتانہ،رانا قاسم نون،علیم خان،رانا افضل سابق وزیر مملکت قبضہ گروپ کے نام کے مشہور ہیں شکست کھا چکے ہیں۔فیصل صالح حیات پر بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکے۔خواجہ سعد رفیق پر اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں وہ بھی ہار گئے ہیں۔کرپشن کے خلاف مہم کا آغاز20سال قبل عمران خان نے کیا تھا اور عوام کو کرپٹ سیاستدانوں کیخلاف ابھارا تھا ان کی20سالہ جدوجہد رنگ لائی ہے اور اب کرپٹ سیاستدان کو عوام نے مسترد کردیا ہے،آئندہ بھی کرپٹ سیاستدانوں کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے تاہم سندھ کی عوام میں ابھی تک کرپشن کی بنیاد پر ووٹ دینے کا شعور نہیں ہے اسلئے سندھ سے کرپشن میں ملوث خورشید شاہ،نوید قمر،زرداری کے علاوہ درجنوں کرپٹ سیاستدان کامیاب ہوئے ہیں لیکن کرپشن کیخلاف مہم اس زوروشور سے جاری رہی تو مزید بہتر نتائج آسکتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان پر6 ہزار کنال کے علاوہ اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں#/s#

Scroll To Top