خدا کے خلاف جنگ 11-09-2013

kal-ki-baat
پاکستان نے من حیث المعاشرہ ` من حیث المملکت اور من حیث القوم خدا کے خلاف جنگ شروع کررکھی ہے۔ میں یہاں افراد کی بات نہیں کررہا کیوں کہ مملکتیں معاشرے اور قومیں افراد کے اجتماع سے ہی جنم لیتی ہیں۔ جب افراد اپنی انفرادی زندگی میں خدا کے قوانین سے کھلم کھلا انحراف کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں تو جو مملکتیں معاشرے اورقومیں ان کے وجود کی بدولت تشکیل پاتی ہیں ان کے لئے خدا کا خوف اپنے اندر سے نکال باہر پھینکنا ذرا بھی مشکل نہیں رہتا۔ اور اگر خدا کا خوف دلوں سے نکل جائے تو ریاست اور اس کے قانون کا خوف کیسے دلوں میں قائم رہ سکتا ہے۔ ؟
پاکستان کا نظم و نسق ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جاچکا ہے جن کی سوچیں اور اعمال ہر قسم کے خوف سے آزادی پاچکے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم خدا اور اس کے قوانین سے بغاوت کرتے وقت بھی نام خدا اور اس کے رسول کا ہی لے رہے ہوتے ہیں۔
جس معاشرے میں شاہ رخ جتوئی جیسے سفاک وڈیرہ زادے ریاستی قوانین اور خدا کی قائم کردہ حدود کا مذاق اس شان سے اڑاتے ہوں جس شان سے وہ شاہ زیب کے قتل کے مقدمے کی پیروی کرتے وقت اڑاتے دکھائی دیتے ہیں ` اس معاشرے پر جلد یا بدیر عذاب الٰہی ضرور نازل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ایک عرصے سے اس قوم سے روٹھی ہوئی ہیں۔ گزشتہ پانچ چھ برس میں ہم نے قوم میں اخلاقی انحطاط کے عمل کو تیزی کے ساتھ نقطہءعروج پر پہنچتے دیکھا ہے۔ زرداری صاحب خود بھی یہی سمجھ رہے ہیں اور انہیں بتایا بھی یہی جارہا ہے کہ انہوں نے اقتدار کے پانچ سال پوری عزت کے ساتھ پورے کئے ہیں۔ اُن کی ” عزت “ کی قیمت پاکستان نے من الحیث القوم ناقابلِ تصور رسوائیوں کو گلے لگانے کی صورت میں ادا کی ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں بچا جو کپکپا دینے والے اخلاقی انحطاط کا شکار نہ ہوا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب میاں نوازشریف نے زرداری صاحب کو الوداع کہتے وقت انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تو ان لاکھوں ووٹروں پر سکتہ سا طاری ہوئے بغیر نہ رہ سکا جن کے بھرپور اعتمادنے انہیں ایک بار پھر وزیراعظم بنوایا ہے۔
یقین کریں کہ ناامیدی کے یہ الفظ لکھتے وقت مجھے بے حد ذہنی اذیت محسوس ہورہی ہے۔ لیکن شاہ رخ جتوئی اوراس کے خاندان نے اپنی بے پناہ دولت کا سہارا لے کر مملکتِ خداداد پاکستان کامذاق جس سفاکی کے ساتھ اڑایا ہے اس نے میرے وجود میں امید کے بہت سارے چراغ بجھا دیئے ہیں۔ایک بات مجھے حوصلہ ضرور دیتی ہے کہ جلی ہوئی راکھ میں بھی کبھی کبھی کچھ سلگتی چنگاریاں چھپی رہ جاتی ہیں جنہیں بھڑک کر الاﺅ کی صورت اختیار کرنے کے لئے ہوا کے صرف ایک تیز جھونکے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
وہ تیز جھونکا کب آئے گا ؟
خدا کے یہ باغی کب اپنے انجام کو پہنچیں گے۔؟
طاغوتی اندھیروں کی کوکھ سے ایمان کا سورج کب طلوع ہوگا۔؟

Scroll To Top