اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

zaheer-babar-logo
سابق وزیر اعظم نوازشریف کی اڈیالہ جیل میں طبعیت خراب ہونے کے بعد انھیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میدیکل سائنسزمنتقل کردیا گیا ۔ ڈاکٹرز رپورٹس کے مطابق میاں نوازشریف کا بلڈ پریشر اور شوگر کا لیول بڑھا ہے جسے نارمل کرنے کی کوشش کی جارہی ۔ بظاہر مسلم لیگ ن کے قائد عمر کے جس حصہ میں اور ان کی صحت کے مسائل جس قدر ہیںاس کے پیش نظر ایسی صورت حال خارج ازمکان نہیں کہ اب انھیں بیرون ملک بھیجنے کا مطالبہ سامنے آجائے۔
میاں نوازشریف کی بگڑی طبیعت کے مسائل اپنی جگہ مگر پانامہ لیکس میں وہ اور ان کے بچوں کی بدعنوانی جس طرح ثابت ہوچکی بظاہر اس کے بعد ایسا کوئی بھی اقدام نہیں اٹھایا جاسکتا جس کے نتیجے میں یہ تاثر مضبوط ہو کہ وطن عزیز میں بدستور طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے سقراط جیسی دانش کی ضرورت نہیں کہ قومی تاریخ میں تادم تحریر کوئی طاقتور آدمی انجام کو نہیں پہنچا۔گذشتہ سال میاں نوازشریف کا وزارت عظمی سے محروم ہونا اور پھر جیل جانا اہم پیش رفت مگر ابھی ایون فلیڈ کے لندن فلیٹس اور شریف خاندان کے دیگر اثاثے حکومت پاکستان کی ملکیت میں آنا باقی ہیں۔
یہ سوال پوچھا جارہا کہ کیا ماضی کی طرح ایک اور این آر او باآسانی قبول کرلیا جائیگا بظاہر اس کا جواب نفی میں ہے۔ حالات بدل چکے، عدالت عظمی ہو یا کوئی قومی ادارے کسی کی خواہش نہیں ہوگی کہ اس پر انگلیاں اٹھیں چنانچہ جاری مقدمات میں سابق وزیر اعظم کا بچ کر لندن جا پہنچنا آسان نہیں دکھائی دیتا ۔ ایک رائے یہ ہے کہ پاکستان میں اب بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے چنانچہ یہ ناممکن نہیں کہ میاں نوازشریف بیماری کی آڈ میں لندن اپنے اشتہاری بچوں سے جاملیں۔
سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بننے سے پاکستان مسلم لیگ ن جارحانہ سیاست کرسکتی ہے۔ ایوان کے اندر اور باہر پی ایم ایل این کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ ہر طرح پی ٹی آئی حکومت کو دباو میں رکھا جائے چنانچہ تحریک انصاف نہیں چاہے گی کہ ہمہ وقت اسے متحدہ اپوزیشن کی شکل میں مشکل پیش رہے لہذا میاں نوازشریف کو ریلیف ملنے کی شکل میں پی ٹی آئی کو قدرے سکون مل سکتا ہے۔
اگر یقین کرلیا جائے کہ ملکی سیاست بدل چکی تو پھر سمجھ لینا چاہے کہ وہ سیاسی رہنما جو محض چند سال تھے خودکو ناگزیر سمجھتے رہے اب ماضی کا قصہ بن چکے۔ شبہ نہیں کہ سیاست میں وقت کی اہمیت مسلمہ ہے مگر 25جولائی کے عام انتخابات نے خبیر تا کراچی یہ واضح پیغام دیا کہ اب ان روایتی ہتکھنڈوں کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں جو کئی دہائیوں سے آزمودہ سمجھے جاتے رہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو باخوبی جان لینا چاہے کہ اس کی اصل سیاسی قوت ان روایتی قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے سے ہی بڑھتی رہی جن کو لکارتے ہوئے عمران خان نے پورے 22سال انتھک جدوجہد کی۔ کپتان یہ بات باخوبی جانتا ہے کہ خبیر تا کراچی عام پاکستانیوں کو ان سے جو توقعات ہیں وہ اس بدلے ہوئے پاکستان کے لیے ہیں جس میں امیر و غریب اور طاقتور و کمزور ہر قسم کی تفریق سے آذاد نظر آئے۔ چنانچہ امکان یہی ہے کہ عمران خان عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے تاکہ کے پی کے ہی نہیں پنجاب میں بھی خان کی حمایت میںمستقل بنیادوں پر قائم ودائم رہے۔
یہ پوچھا جارہا کہ کسی بھی طرح میاں نوازشریف کی ملک سے روانگی خود مسلم لیگ ن کے سیاسی امور کو کس قدر متاثر کرسکتی ہے۔ دراصل پی ایم ایل این کے کارکن کو یہ طعنہ تواتر کے ساتھ سننے کو مل سکتا ہے کہ ان کا تاحیات قائد لیڈروں کی طرح بہادری سے جیل کاٹنے کی بجائے بزدلوں کی طرح ملک سے بھاگ گیا۔ یعنی آخر کب تک مسلم لیگ ن کے زمہ دار اگرمگر اور چونکہ چنانچہ سے کام لے کر نوازشریف کی رخصتی کو حیلے بہانوں سے ٹالتے رہیں گے۔
کوئی ماننے یا نہ ماننے مگر پی ایم ایل این کی میڈیا مینجمنٹ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ پانامہ لیکس کے قومی منظر نامے پر سامنے آنے سے لے کر اب تک خالصتا عدالتی کاروائی کو جس طرح سیاسی رنگ دیا گیا اس کی نظیر ماضی میں نہیںملتی۔ ٰمیاں نوازشریف اور ان کی صاحبزدای مریم نواز اور پی ایم ایل این کے دیگر لوگوں نے خالص بدعنوانی کے مقدمہ کو اس طرح سازشی رنگوں سے بھر دیا جس میں ن لیگ کے کارکن ہی نہیں دیگر معصوم پاکستانی بھی الجھ کر رہ گے۔ عدالت عظمی کے پانچ فاضل ججز کی جانب سے اقتدار سے بے دخل کرنے پر میاں نوازشریف کا یہ جملہ تو تاریخ کا حصہ بن چکا کہ ”کیوں نکالا میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے کیوں نکالا“۔
ہٹلر کے دست راست گوبلز نے کہا تھا کہ اتینا جھوٹ بولواتینا جھوٹ بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کی طرح ہماری سیاست بھی دروغ گوئی سے پاک نہیں ۔ عین ممکن ہے کہ بڑے بڑے سیاسی رہنما کئی دہائیوں سے اس طرح جھوٹ پہ جھوٹ بولتے چلے آرہے ہوں کہ کسی باضمیر آدمی کے لیے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو ۔ مسلم لیگ ن کی فکرمندی سمجھ میں آنے والی بات ہے مگراس کا کیا کریں کہ میاں نوازشریف ملک کے اندر رہیں یا بیرون ملک روانہ ہوجائیں ان کی مشکلات میں ڈرامائی کمی آنے کا امکان کم دکھائی دے رہا ۔ شائد منیر نیازی نے ایسی ہی صورت حال پر کہا تھا ۔۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

Scroll To Top