پاکستان ایک لمبے عرصے تک منتخب لٹیروں یا منتخب احمقوں کی قیادت کا متحمل نہیں ہوسکتا

آج کی یہ بات 04-12-2009کو شائع ہوئی تھی۔۔۔

گزشتہ دنوں مجھے ٹی وی کے چند ایسے پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کے شرکاءمیں چند جانے پہچانے انیکرپرسن بھی تھے اور کچھ تجزیہ کار بھی ۔
جب بولنے والی زبانیں زیادہ تعداد میں ہوں اور بولنے والے صرف بولنے کے موڈ میں ہوں اور سننے کے لئے تیار نہ ہوں تو ناظرین اور سامعین کے لئے یہ جاننا کافی مشکل ہوتا ہے کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے۔ پھر بھی جو ” گفتگو“ میں نے سنی اس کا موضوع سمجھنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگی۔ موضوع کا ایک حصہ میڈیا کے کردار کے بارے میں تھا ` اور دوسرا حصہ جمہوری نظام کی بقاءافادیت اور فضلیت کے ساتھ ساتھ اسے لاحق خطرات کے بارے میں۔
میڈیا سے یہاں مراد الیکٹرانک میڈیا ہے۔ آپ کے سامنے ٹی وی سکرین پر کچھ چہرے آتے جاتے رہتے ہیں جن کا کام بولنا ہوتا ہے۔ کوئی سوال کرتا ہے۔ کوئی جواب دیتا ہے۔ کوئی تائید کرتا ہے ` اور کوئی تردید کرتا ہے۔ کچھ باتیں آپ سننا چاہتے ہیں اور سن سن کر خوش ہوتے ہیں۔ اور کچھ باتیں آپ سننا نہیں چاہتے۔ اور سن کر سیخ پا ہوجاتے ہیں۔
یوں الیکٹرانک میڈیا ہمارے افکار ` ہمارے جذبات اور ہمارے دل و دماغ پر اثر انداز ہونے کا عمل جاری رکھتا ہے۔
جن پروگراموں کا ذکر میں نے کیا ہے ان میں جو کچھ بھی کہا گیا اس کا لب لباب یہ تھا کہ جمہوریت کا تسلسل ناگزیر ہے اور جمہوریت کے تسلسل کے بغیر ہمارا مستقبل مخدوش ہوجائے گا۔ ساتھ ہی یہ بات بھی کہی گئی کہ گورننس(Governance)یعنی ” حکمرانی“ کا عمدہ ہونا بھی ناگزیر ہے ` اور اگر بری حکمرانی جاری رہی تو بھی ہمارا مستقبل محفوظ نہیں۔
ان دو باتوں میں بہت بڑا تضاد ہے۔
اگر جمہوریت کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لئے ” بری حکمرانی“ کو گلے لگائے رکھنا ناگزیر ہو تو پھر کون سا راستہ اختیار کیا جائے۔؟
کیاملک کو تباہی کے راستے پر صرف اس لئے چلتے رہنا دینا چاہئے کہ دوسری صورت میں جمہوریت کا تسلسل ٹوٹ جائے گا؟
اگرچورڈاکو اور لٹیرے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ` انہیں اپنے لمبے چوڑے دعوﺅں سے گمراہ کرکے ` ان کے ووٹوں کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جائیں ` اور پھر لوٹ مار کی ایک نئی داستان رقم کرنے میں مصروف ہوجائیں ` تو عوام کے سامنے کیا راستہ رہ جاتا ہے۔؟
وہ کیسے اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کریں جو انہوں نے چوروں اور لٹیروں کواقتدار کے ایوانوں تک پہنچا کر کیا ؟
میرے ان سوالوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں جمہوریت کو اب تک دریافت شدہ نظام ہائے حکمرانی میں سب سے بہتر نہیں سمجھتا۔ اسلام کی تو روح ہی جمہوریت ہے۔ اسلام میں مطلق العنان )قادر مطلق( صرف خدا ہے۔
لیکن سوال یہاں یہ پیداہوتا ہے کہ کیا صرف انتخابات کرانا اور کامیابی حاصل کرنے والوں کی اکثریت پراقتدار کے دروازے کھول دینا جمہوریت کے نفاذ کے لئے کافی ہے۔؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ 18فروری2008ءکو عوام نے جو مینڈیٹ دیا تھا پونے دو برس کے عرصے میں اس کی دھجیاں بکھیری جاچکی ہیں۔ ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جس سترہویں ترمیم کے فوری خاتمے کا عہد صمیم کیا گیا تھا اسے مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھا جارہا ہے۔؟
میرے خیال میں جس جمہوریت کے نفاذ سے وطن عزیز کی تقدیر بدلے گی وہ ہمیں ابھی تک ملی ہی نہیں۔
جمہوریت کا مطلب میرے نزدیک چھ سات درجن ” منتخب نالائقوں“ کے ہاتھوں میں وزارت کے قلمدان اور ملک کی تقدیر پکڑانا نہیں ` کثرت رائے سے ایک ایسے ” لیڈر“ کا انتخاب کرناہے جو عوام کے خوابوں کو تعبیر دینے کی اہلیت رکھتا ہو۔
پاکستان میں آج تک کوئی لیڈر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوا۔ اور یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔
پارلیمانی جمہوریت پاکستان کے لئے بنی ہی نہیں تھی۔ جب بھی ہم اس کا تجربہ کریں گے ` ہمارے سامنے ایسی ہی صورتحال آئے گی جس کا سامنا ہم کررہے ہیں۔
ناگزیر جمہوریت کا تسلسل نہیں۔
ناگزیر ایسی جمہوریت کی دریافت ہے جو ہمیں اپنے لیڈر کے انتخاب کا موقع دے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے عوام کو ایک نیا شعور۔ اور ایک نیا عزم دینے میں بڑا مرکزی کردار ادا کیاہے۔ مگر جن ” اہل رائے“ کے ہاتھ میں قلم ہے ` یا جن کی آواز میں تاثیر ہے ` انہیں پارلیمانی جمہوریت کو مذہب کا درجہ دینے کے رویے پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔
پاکستان ایک لمبے عرصے تک منتخب لٹیروں یا منتخب احمقوں کی قیادت کا متحمل نہیں ہوسکتا

Scroll To Top