واجبات کی عدم فراہمی، ہاکی پلیئرز کا ایشین گیمز میں شرکت سے انکار

e

فیصلے سے ٹیم مینجمنٹ کو بھی آگاہ کردیا، بغاوت نہیں کررہے بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں، قومی کپتان رضوان سینئر کا اصرار۔ فوٹو : فائل

 لاہور:  پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پی ایچ ایف کیخلاف بغاوت کردی، ڈیلی الاؤنس نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے صاف انکارکردیا۔

ہالینڈ میں شیڈول ایف آئی ایچ چیمپئنز ٹرافی کے بعد آئندہ ماہ انڈونیشیا میں شیڈول ایشینزگیمزکے بھی تاحال واجبات نہ ملنے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کپتان سمیت تمام کھلاڑی بغاوت پر آمادہ ہو گئے ہیں اور انھوں نے واجبات کی ادائیگی تک ایشیائی ایونٹ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے، کھلاڑیوں نے یہ اعلان گزشتہ روز اصلاح الدین صدیقی ہاکی اسٹیڈیم میں شیڈول ٹرائلز کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔

ایشین گیمز میں ٹرائلز کا حصہ بننے والے کھلاڑیوں میں عمران بٹ، مظہر عباس، امجد علی، محمد عرفان سینئر، راشد محمود، محمد علیم بلال، عماد شکیل بٹ، مبشرعلی، تصورعباس، محمد رضوان سنیئر، محمد توثیق راشد، علی شان، محمد عمر بھٹہ، ابوبکر محمود، شفقت رسول، محمد ظفر یعقوب، محمد ارسلان قادر، ایاز احمد، ایم عرفان جونئیر، رانا سہیل ریاض، محمد رضوان جونئیر، محمد دلبر، محمد عتیق، محمد فیصل قادر، محمد عاطف مشتاق، جنید منظور اور اسد عزیز شامل ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1996 میں بھی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے سہولیات نہ ملنے کے خلاف اسی قسم کی بغاوت کی تھی جس کے بعد 1994 ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی کی فاتح قومی ٹیم اٹلانٹا اولمپکس1996میں تاریخ میں پہلی بار مایوس کن کارکردگی کے بعد صرف چھٹی پوزیشن ہی حاصل کرنے میں ہی کامیاب ہو سکی تھی۔

ٹرائلزکے بعد کپتان رضوان سینئر سمیت تمام کھلاڑیوں نے ایک اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ہر کھلاڑی کے ڈیلی الاؤنس کی مد میں 8 لاکھ روپے واجب الادا ہیں، کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کا کیمپ ایبٹ آباد کے بعدکیمپ کراچی میں لگایا گیا، بعد ازاں ایک کیمپ ہالینڈ میں لگایاگیا لیکن اس کے بعد ڈیلی الاؤنس نہیں دیے گئے اس کے باوجود ہم نے پاکستان کے لیے بغیرالاؤنس کے ہی چیمپئنر ٹرافی میں شرکت کی اور اپنی طرف سے بھرپورعمدہ کھیل پیش کرنے کی کوشش کی۔

کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ ہم ایشین گیمز کے لیے ٹرائلز بھی دیں گے اور ٹریننگ میں بھی حصہ لیں گے لیکن اگر 27 کھلاڑیوں کے تمام واجبات ادا نہیں کیے گئے تو ہم ایشین گیمز میں شرکت نہیں کریں گے، ٹیم مینجمنٹ کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ایک سوال پر قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینئر کا کہنا تھا کہ ہم بغاوت نہیں کر رہے اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ آئندہ ماہ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے گلورا بنگ کارنو اسپورٹس کمپلیکس میں شیڈول ایشینز گیمز مین شریک تمام 11 ٹیموں کو 2گروپس میں رکھا گیا ہے، پول اے میں کوریا، جاپان، سری لنکا اور ہانگ کانگ چائنہ کی ٹیموں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ پول بی میں ملائیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، اومان ، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کی ٹیمیں شامل ہیں۔پاکستانی ٹیم اپنے پہلے میچ میں تھائی لینڈ کے خلاف ایکشن میں دکھائی دے گی۔ ایشیائی ایونٹ کے دوران پاکستان کو ایشین گیمز کے دوران اب تک 7 بار گولڈ میڈل حاصل کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔

پہلی بار گرین شرٹس نے1958 کے ٹوکیو گیمز کے دوران طلائی تمغہ حاصل کیا، بعد ازاں جکارتہ گیمز1962، بنکاک 1970، تہران 1974، بنکاک 1978، نیو دہلی1982، بیجنگ 1990میں گولڈ میڈلز حاصل کیے۔بعد ازاں پاکستانی ٹیم نے 20سال کے طویل عرصہ کے دوران گوانگزو میں ہونے والے گیمز کے دوران پہلی پوزیشن حاصل کی۔

Scroll To Top