”بیس ارب اب تک خرچ کرچکا ہوں تمہارے نسخوں پر۔۔۔ پرانا زمانہ ہوتا تو کم ازکم دس جنرل اور بیس جج ضرور خرید لیتا اتنی رقم میں۔۔۔“

ہم کافی لمبی چھٹی کے بعد آج صبح اپنی بیانک بیٹریوں کو سیٹ کرہی رہے تھے کہ کمرے میں بھائی جنابر کی بھاری بھر کم آواز گونجی۔ ” السلام علیکم بھائی ہمہ گن گوش۔“
” ہم دنیائے جِنّات سے ایک مشن پر کرہ ءارض پر آئے ہوئے تھے کہ خیال آیا کہ آپ کو مبارکباد دیتے جائیں۔ “ بھائی جنابر نے کہا۔
” آپ تو یوں کہہ رہے ہیں کہ کرہ ءارض سے آپ کا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ بہرحال مبارکباد کا شکریہ۔ “ ہم نے جواب دیا۔
” کرہ ء ارض سے ہمارا واسطہ شروع سے ہی ہے۔ چودہ سو برس قبل ہماری پیدائش مدینہ کے نواح میں واقع وادی جِّن میں ہوئی تھی۔ ہم نے اسلام بھی مدینہ جاکر قبول کیا تھا۔ مگر یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ انسانوں کے معاملات میں دخل دینے کی ہمیں اجازت نہیں۔“
” پھر بھی آپ ہمارے دوست بن چکے ہیں۔“ ہم نے جواب میں کہا۔
” ہر مسلمان دوسر ے مسلمان کا دوست ہے۔ ہم جِنّ سہی اور آپ انسان سہی مگر ہیں تو ایک ہی دین کو ماننے والے۔ یہ اور بات ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جب بھی ہمارا آنا ہوتا ہے تو آپ کے ٹیلی ویڑن پر اسلام کی بیٹیوں کا لباس وانداز وغیرہ دیکھ کر ہمیں ان کے والدین پر سخت غصہ آتا ہے۔ کیا قرآن منع نہیں کرتا کہ گھر سے باہر دل لبھانے والے انداز اختیار کرکے نہ نکلو۔۔۔ ؟“ بھائی جنابر بولے۔۔۔ جواب میں ہم نے کہا۔
” منع تو کرتا ہے مگر مولانا فضل الرحمن نے ان معاملات سے توجہ ہٹا کر اپنے آپ کو پورے کا پورا سیاست کے حوالے کردیا ہے۔“
” آپ کے عمران خان نے مولانا کی سیاست تو فی الحال دفن کردی ہے۔ اب وہ کیا کریں گے۔؟“ بھائی جنابر بولے۔ ” خیر۔۔۔ اللہ انہیں بھی ہدایت دے۔۔۔ اب ہم جارہے ہیں۔۔۔“
بھائی جنابر کے جانے کے بعد ہم نے اپنی بیانک بیٹریوں پر فریکوئنسی سیٹ کی اور میاں صاحب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ہمیں ان کی آواز تک پہنچنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔۔۔
” بیٹی۔۔۔ چند دنوں کے لئے تم ٹیلیفون کا استعمال کم سے کم کیا کرو۔۔۔“
” ابا جان۔۔۔ میں آپ کی خیریت دریافت کرنا چاہ رہی تھی۔ “ یہ آواز مریم بی بی کی تھی۔ وہ فون پر بات کررہی تھیں۔۔۔
” شکر ہے بیٹی کہ تم نے ٹویٹ در ٹویٹ کرنے کی عادت پر قابو پا لیا ہے۔ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔
” ابا حضور۔۔۔ پوری کوشش کررہی ہوں کہ آپ کی ہدایات پر عمل کروں۔ مگر وہ میاں والی والے نیازی نے کہا ہے ناکہ جیسے مچھلی پانی سے باہر نہیں رہ سکتی`ویسے ہی مولانا حکومت سے باہر نہیں رہ سکتے۔ میرا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ دل چاہ رہا ہے کہ خود ٹویٹ بن کر ساری دنیا میں پھیل جا?ں۔“
” پتہ ہے کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں مریم۔۔۔؟ تم پاکستان آکر بھول گئی ہو کہ تمہاری امی کی حالت تشویشناک ہے۔ کوئی ایک بلٹین جاری نہیں ہوا کلثوم کی صحت کے بارے میں۔۔۔“
” ابا حضور۔۔۔ اب بات آپ کی تشویشناک صحت پر آگئی ہے۔ “ مریم بولیں۔۔۔
” مجھے پلیز وینٹی لیٹر پر مت ڈالنا۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔ “ میاں صاحب نے کہا۔
” ابا جان کوئی صورت نکالیں ناں۔۔۔ کہ وہ میاں والی کااجڈگنوارکرکٹر حلف نہ اٹھا سکے۔۔۔ چچا زرداری کو وزیراعظم بنوادیں یا پھر۔۔۔ فریال تالپور کو۔۔۔ اب کوئی چھانگا مانگا کیوں نہیں ہوسکتا۔۔۔ ؟ “ یہ مریم کی آواز تھی۔
” بیٹی تمہاری باتوں میں نہ آیا ہوتا تو کوئی نہ کوئی چھا نگا مانگا ضرور سوچ لیتا۔۔۔ اب تو تمہارے انکل مودی نے بھی اس م±سلے کو مبارک باد دے دی ہے۔۔۔“
” میں نے ایک بابا جی کا سراغ لگایا ہے جو دشمنوں کی کشتی ڈبونے کا علم جانتا ہے۔۔۔ مگر وہ بیس کروڑ مانگ رہا ہے۔۔۔“
” بالکل نہیں۔۔۔ بیس ارب اب تک خرچ کرچکا ہوں تمہارے نسخوں پر۔۔۔ پرانا زمانہ ہوتا تو کم ازکم دس جنرل اور بیس جج ضرور خرید لیتا اتنی رقم میں۔۔۔“ میاں صاحب بولے۔۔۔ اس سے پہلے کہ مریم بی بی جواب دیتیں ` فضائی شور نے ہمارا رابطہ توڑ دیا۔۔۔

Scroll To Top