عوام کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں ! 10-09-2013

سابق صدر زرداری نے ایوان صدر چھوڑتے وقت اس عزمِ صمیم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اب بلاول ہاﺅس لاہور میں بیٹھ کر ” جیوے بھٹو “ کے نعروں کی گونج میں قائم رہنے والی پارٹی پی پی پی کی ازسر نو تنظیم کریں گے اور اسے اگلے انتخابات میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے لائیں گے۔
ساتھ ہی ساتھ زرداری صاحب نے اس مضبوط اور اٹل ارادے کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ موجودہ جمہوری نظام کوقائم رکھنے کے لئے میاں نوازشریف کی حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے اور ان کی تمام ترتوانائیاں اس بات پر خرچ ہوں گی کہ جس طرح پی پی پی نے پانچ برس کی مدت ایوانِ ہائے اقتدار میںکامیابی کے ساتھ گزاری ہے ` اسی طرح میاں برادران کو بھی اپنی مدتِ اقتدار کی کامیاب تکمیل کا موقع نصیب ہو۔
زرداری صاحب اور ان کے سیاسی مخالفین کا لیلائے جمہوریت کے ساتھ والہانہ عشق ایسے لوگوں کے لئے ناقابلِ فہم نہیں جو اس حقیقت سے بخوبی آگہی رکھتے ہیں کہ جمہوریت نے دونوں بڑے حکمرانوں خاندانوں کو اپنی برکات سے بڑے بھرپور انداز میں نوازا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان خاندانوں کے منظورانِ نظر نے بھی جمہوریت کا پورا پورا فیض دل کھول کرحاصل کیا ہے۔
اس ملک میں جمہوریت کے ثمرات سے اگر کسی کو محرومیت کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہ اس کے عوام ہیں۔
زرداری صاحب نے عوام کے غیظ و غصب کا کچھ مزہ 11مئی 2013ءکو چکھ لیا۔ اب وہ اس امید پر اگلے چار پانچ برس کا ٹنا چاہتے ہیں کہ عوام کے حافظے سے وہ سارے عذاب آہستہ آہستہ نکل جائیں جن کا سامنا مہنگائی ` لوٹ مار اور کرپشن کے عفریتوں کی صورت میں انہیں گزشتہ پانچ برس کے دوران کرنا پڑا۔ جن پرُ خلوص نیک خواہشات کا اظہار وہ اپنے سیاسی رقیبوں کے لئے آج کررہے ہیں اُن کے پیچھے اس ” امید “ کا بھی کافی واضح عمل دخل ہے کہ میاں برادران احتساب کے نعروں کو مفاہمت کی قبر میں دفن کردیں گے۔
موجودہ نظام کے تمام فیض یافتگان کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ جس تبدیلی کے تصور سے ان کا خون خشک ہوجاتا ہے ` اس کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ فوج پر اقتدار کے دروازے بند رکھنے کی ”جمہوری “خواہش کا حقیقی فائدہ انہیں اسی صورت میں ہوگا کہ ان کی کارکردگی کا گراف معجزاتی طورپر بلند ہوجائے۔ ورنہ انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پانچ برس قبل جو عمران خان محض ایک بڑے نام کی حیثیت رکھتا تھا وہ آج ایک بڑی سیاسی قوت بن چکا ہے۔
اور ” فوج “ کا آپشن بھی تب تک فضاﺅں میں گردش کرتا رہے گا جب تک یہ ملک حکومتی بدعملی ` حکومتی بدعنوانی اور حکومتی لوٹ مار کی شرمناک تصویر بنا رہتا ہے۔
عوام کو جمہوریت کے نام پر ہمیشہ کے لئے دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا!

Scroll To Top