دھاندلی کا واویلا کیا جاتا رہیگا !

الیکشن کمیشن کا حالیہ انتخاب میں ہونے مبینہ دھاندلی کے الزامات کے بعد قومی اسمبلی کی 14اور صوبائی اسمبلی کی 10نشتوں پر دوبارہ گنتی کرانے کا اعلان خوش آئند ہے۔ ادھر سرکردہ اپوزیشن جماعتوں کےا اندرونی زرائع کا دعوی ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے بعد بھی پی ایم ایل این ہو یا پی پی پی ، جمیت علماءاسلام ہو یا عوامی نینشل پارٹی کوئی بھی اعلانیہ طور پر مطمعن نہیں ہونے والا۔ یہ راز راز نہیں رہا کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے سے روکنے کے لیے پوری طرح کوشاں ہیں۔ نمایاں وجہ یہ ہے کہ سمجھاجارہا کہ عمران خان نے خبیر تا کراچی انھیں جس بدترین شکست سے دوچار کیا اس کے بعد یہی حکمت عملی کارگر ہے کہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچایا جائے۔ بدقسمتی کے ساتھ عام انتخابات سے قبل ہی پی ایم ایل این اور پی پی پی یہ بیانیہ آگے بڑھانے میں پیش پیش رہیں کہ انھیں دیوار سے لگاتے ہوئے مخصوص سیاسی جماعت کی سرپرستی کی جارہی۔ بظاہر پی ایم ایل این کی حد تک اس بیانیہ کو پیش کرنے کی وجہ بڑی یہ رہی کہ پانامہ لیکس کے بعد جس طرح میاں نوازشریف اور ان کے خاندان پر بدعنوانی کے مقدمات بنے اس کے نتیجے میں ن لیگ کی سیاست شدید خطرات سے دو چار ہوگی یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مسلم لیگ ن میں نوازشریف کی شخصیت اور پارٹی لازم وملزوم ہیں۔
بظاہر ملک کی نمایاں سیاسی جماعتیں کسی طورپر خود کو بدلنے کو تیار ہیں بظاہر یقین ہی نہیں کررہیںکہ دوہزار اٹھارہ کا پاکستان نوئے کی دہائی والا ملک نہیںرہا۔ آج ایک طرف عوام کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوچکا تو دوسری جانب شہری ہی نہیں دیہی علاقوں کے رہنے والے بھی موجودہ سیاسی صورت حال کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہوچکے۔ بلاشبہ ملک کی نمایاں سیاسی ومذہبی جماعتوںکے مفاد سٹیس کو سے وابستہ ہیں لہذا ان کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسلہ ہے کہ وہ اپنی کئی دہائیوں سے چلی آنے والی سیاسی روش تبدیل کرلیں ۔
اقبال نے کہا تھا ”ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں “ دراصل تبدیلی کا عمل کسی لمحہ میں رکا نہیں کرتا۔اہل دانش تو روزمرہ کے حالات میں بتدریج تبدیلیوں سے آگاہ رہتے ہیں مگر عام شہری آہستہ آہستہ آنے والی ان تبدیلیوں کے محرکات سے بڑی حد تک بے خبر ہوتا ہے۔کم وبیش 22سال قبل عمران خان نے جب اپنا سیاسی سفر شروع کیا تو اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ اس جمود کو توڈنے چاہتے تھے جو ہماری سیاست پر اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ مسلط تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اس ضمن میں طویل عرصہ جدوجہد کرنے پڑی کہ وہ عوام کو سمجھائیں کہ رہنمائی کے نام پر ان پر ایسی شخصیات مسلط ہیں جو ان کے ٹیکسوں کی کمائی پرڈاکہ مارنے میںذرا برابر بھی پس وپیش سے کام نہیں لتیں ۔
سیاست میں صحت مندانہ رججان کا ایک ثبوت تو یہ ہوتا کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی کی ہم خیال جماعتیں اپنی خود احتسابی شروع کردتیں یعنی فوری طور پر جائزہ لیا جاتا کہ عام انتخاب میں عوام نے انھیں کیونکر مسترد کردیا۔ مگر ایسا نہیں ہوا اس کے برعکس مولانا فضل الرحمن جیسا ”تجربہ کار “رہنما بھی دھاندلی کی دہائی دے رہا۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی حکومت یا الیکشن کمیشن جو بھی کرلے اپوزیشن جماعتیں عام انتخابات میں گڑبڑ کو بنیاد بنا کرشور شرابے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ معاملہ کم وبیش ایک سال تک ملکی سیاست کا موضوع بحث بنا رہے چنانچہ پی ٹی آئی کے لیے یہی بہتر ہوگا وہ ممکنہ طور پر وفاق اور صوبوں میں حکومتیں بناتے ہی پوری توجہ عوامی مسائل حل کرنے کی جانب مبذول کردیں۔
کے پی کے میں مولانا فضل الرحمن جس طرح اپنی دو سیٹیوں سے ہار گے وہ ان کے لیے مسلسل ڈروانا خواب ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے یہ ہرگز ایسا نہ سوچا تھا کہ کے پی کے ہی نہیں ملک بھر میں انھیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم ایم اے کے ناقدین کے بعقول مذہب کی نام پر ملک کے بشیتر علاقوں می رہنے والوں نے بلیک میل ہونے توبہ کرلی ۔مذہبی سیاسی جماعتوں کو سمجھ لینا چاہے کہ عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیںلہذا ان کی ترجیح اول اپنے مسائل کا حل ہے ۔
اہل مذہب سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اور ان کے خاندان کے قریبی افراد زندگی کی ہر ضرورت سے لطف اٹھاتے ہیںمگر اپنے حامیوںکو غربت میں رکھنے پر ہی بضد ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی پالیسی سے آگاہ بعض حلقوں کے بعقول کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی سمیت حزب اختلاف کی کوئی بھی سیاسی جماعت فوری طور پر عوام کو سڑکوں کو نکالنے کی طاقت نہیں رکھتی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ شکست کھانے والی سیاسی جماعتوں کی قیادت اب کہہ رہی کہ وہ اسمبلیوں میں جاکر احتجاج کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ (ڈیک)حقیقت یہ ہے کہ باشعور پاکستانی سمجھتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو کام کرنے کا موقعہ دیا جانا چاہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہ پی ٹی آئی نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں اسے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیں دراصل آج یہی ملک کے جمہوری ، روشن اور محفوظ مسقبل کے لیے لازم ہوچکا۔ (ڈیک)

Scroll To Top