چوہدری شجاعت کی طرف سے مکمل حمایت کا اعلان:حکومت سازی میں تحریک انصاف کےساتھ اتحادی کا کردار ادا کرینگے، پرویز الٰہی

  • ہماری مکمل حمایت عمران خان کو حاصل ہے،تحریک انصاف کے ساتھ مل کرچلیں گے، حکومت سازی کے اس مشکل مرحلے میں ان کے ساتھ ہیں. ملاقات میں وزارت اعلیٰ سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ہم سیاستدان ہیں بلیک میلر نہیں،ن لیگی رہنما ایاز صادق نے رابطہ کیا تھا جس پر میں نے جواب دیا کہ ہم عمران خان سے ملنے جا رہے ہیں، پرویز الٰہی
  • پنجاب اور قومی اسمبلی میں مطلوبہ اراکین کی تعداد حاصل ہوگئی ہے، وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں گے،بلوچستان میں مخلوط حکومت بنائی جائے گی جبکہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت موجود ہے،وزیراعلیٰ پنجاب تحریک انصاف سے ہی ہوگا ،فیصلہ عمران خان کریں گے، ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری
اسلام آباد:۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے سربرا ہ چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کر رہا ہے

اسلام آباد:۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے سربرا ہ چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کر رہا ہے

لاہور(ریاض ملک ) مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما پرویز الہیٰ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں چوہدری پرویز الٰہی و دیگر رہنماﺅں نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی، اور حکومت سازی پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے عمران خان کو مکمل اور غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ اتحادی ہونے کے ناطے ان کی جماعت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعد ازاں نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ہماری پوری حمایت عمران خان کو حاصل ہے. آج کی ملاقات میں وزارت اعلیٰ سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، یہ معاملات بات چیت سے طے کیے جائیں گے.ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مل جل کرچلیں گے، حکومت سازی کے اس مشکل مرحلے میں ان کے ساتھ ہیں.ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی ایک نشست چھوڑرہا ہوں، وہاں سے مونس الیکشن لڑیں گے.ن لیگ سے رابطوں کے سوال پر انھوں نے کہا کہ سردار ایاز صادق نے رابطہ کیا تھا، ان سے ہمارا احترام کا رشتہ ہے، ایازصادق نے کہا کہ حمزہ شہباز آپ سے ملنا چاہتے ہیں.پرویزالہیٰ نے کہا کہ میں نے جواب میں ایاز صادق کو بتا دیا کہ ہم عمران خان سے ملاقات کے لئے اسلام آباد جا رہے ہیں انہوںنے مزید کہا کہ ہم سیاستدان بلیک میلر نہیں۔ دریں اثناءپاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اور قومی اسمبلی میں مطلوبہ اراکین کی تعداد حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ترجمان پی ٹی آئی فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں قومی اسمبلی کا ایوان 328 سے 330 کا ہے جس میں سے 168 اراکین کی حمایت پی ٹی آئی کو مل گئی ہے جس میں خواتین اور اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں۔پنجاب اسمبلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی اسمبلی میں بھی ان کی پارٹی کو مطلوبہ نمبرز حاصل ہوگئے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا ہاو¿س 371 کا ہے لیکن اس وقت کی صورت حاصل میں یہ ایوان 360 کے لگ بھگ رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری 180 نشستیں ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت ہم بنائیں گے، بلوچستان میں مخلوط حکومت بنائی جائے گی جبکہ خیبرپختونخوا میں ان کی پارٹی کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے۔ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق مسلم لیگ (ق) سے فارمولا طے پایا ہے، وہ پنجاب اور مرکز دونوں میں شراکت دار ہوگی تاہم وزیراعلیٰ پنجاب تحریک انصاف سے ہی ہوگا جس کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں اتحادیوں کو نمائندگی دی جائے گی جس کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین سے پی ٹی ا?ئی رہنماو¿ں کی ملاقات ہوئی جنہوں نے حمایت کی یقین دہانی کروادی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے پارٹی رہنما جہانگیر ترین جلد ملاقات کریں گے۔اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے 4 اور قومی اسمبلی کے 2 آزاد اراکین نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔پی ٹی آئی میں شامل ہونے والوں میں پی پی97 ملتان سے سعید ا?بر نوانی، پی پی 98 سے امیر محمدحسن خیلی، پی پی 237 سے فدا حسین وٹو اور پی پی 270 سے عبدالحئی دستی شامل ہیں۔قومی اسمبلی کے آزاد اراکین میں این اے97 سے ثنائ الل? مستی خیل اور این اے 166 سے غفار وٹو نے عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین کو پارٹی کے مفلر پہنائے اور خوش آمدید کہا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ق نے بھی تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے جس کی صوبے میں 7 نشستیں ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنااللہ کے صوبے میں نمبر گیم پورا کرنے کے لیے آزاد ارکان سے رابطے جاری ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ چند روز میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کر لی جائے گی۔ مسلم لیگ ن کا وفد پیپلز پارٹی سے بھی آج دوبارہ مذاکرات کرے گا جس کے دوران میثاق جمہوریت کے مطابق پنجاب حکومت کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت طلب کی جائے گی۔یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں 29 آزاد اراکین کے علاوہ، مسلم لیگ ق کی 7 اور پیپلز پارٹی کی 6 نشستیں ہیں۔

Scroll To Top