حکومت چاہے تو ڈیموں کی تعمیر کےلئے قائم فنڈ کو ٹیک اوور کرلے ،چیف جسٹس

  • ڈیزائن کیا ہوگا، ٹھیکہ کسے دینا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ، ریاست ،انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کرینگے
اسلام آباد:۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارجوڈیشنل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد:۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارجوڈیشنل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

اسلام آباد (این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حکومت چاہے تو ڈیموں کی تعمیر کےلئے قائم فنڈ کو ٹیک اوور کرلے کیونکہ فنڈ اکٹھا کرنا ججوں کا کام نہیں ہے، ڈیمز کی تعمیر کےلئے درکار رقم ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہے، بجلی کے بلوں میں ناجانے کون کون سے ٹیکس اور سرچاج شامل کردیئے جاتے ہیں ،غریب لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں، وہ اتنے ٹیکسز کیسے دے سکتے ہیں؟،ان ہوشربا ٹیکسز پر بھی نوٹس لینگے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ جن ڈیموں پر تنازع نہیں ہے وہ ڈیم بنیں گے، ابھی انہی پر فوکس ہے تاہم کالا باغ ڈیم پر جب کبھی اتفاق ہوگا تو وہ بھی بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیمز کا ڈیزائن کیا ہوگا، ٹھیکہ کسے دینا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ،ہم ریاست اور انتظامیہ کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کی وجہ سے فنڈز میں پیسے نہیں آسکے، اگر حکومت فنڈز اکٹھے کرسکتی ہے تو کرے ،حکومت چاہے تو قائم فنڈز کو ٹیک اوور کرلے کیوں کہ عدالت کے ججز کا کام نہیں کہ فنڈز اکٹھے کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں ڈیمز فنڈز کی نگرانی عدالت کرے، کل درگاہ کی حاضری پر مجھے کسی نے 5 لاکھ کا چیک دیا، لوگ اب پانی کے ضیاع پر بھی توجہ دے رہے ہیں اور ڈیمز کی تعمیر کےلئے فنڈز دینا چاہتے ہیں۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈیمز بنانا عدالت کا کام نہیں، عدالت صرف حکومت کی مدد کر رہی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈیمز کے فنڈز سے رقم کیسے جاری ہوگی؟ کیونکہ زلزلہ متاثرین کے فنڈز دوسرے منصوبوں میں استعمال ہوگئے تھے۔چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کیا کہ کیا عدالت کا ڈیمز کےلئے فنڈز بنانے کا فیصلہ درست ہے؟ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈیمز کےلئے فنڈز بنانے کا فیصلہ درست اور اچھا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 9 سال کی بچی نے اپنے سکول کے بچوں سے 5300 روپے اکٹھے کرکے مجھے دیئے ہیں، آنے والی نسلوں کو بچانے کیلئے کچھ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمز کی تعمیر کےلئے درکار رقم ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ناجانے کون کون سے ٹیکس اور سرچاج شامل کردیئے جاتے ہیں اس لئے بجلی کے بلوں پر ہوشربا ٹیکسز پر بھی نوٹس لیں گے۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں، وہ اتنے ٹیکسز کیسے دے سکتے ہیں؟انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی معاہدہ یا ٹریٹی کرنا حکومت کا کام ہے، عدالت ٹریٹی سے متعلق حکومت کو ہدایت یا حکم کیسے دے سکتی ہے؟ حکومت کو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے۔بعدازاں عدالت نے ڈیمز کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی کردی۔

Scroll To Top