احتجاج کرنے والے مایوس ہونگے

پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی ، جمیت علماءاسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت جو جماعتیں بھی حالیہ انتخاب کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کررہیں اس کی وجہ بڑی حد تک سیاسی ہیں۔ ہم باخوبی جانتے ہیںکہ ارض وطن میں سیاست تاحال اس قدر پختہ روایات کی حامل نہیں جس میں کوئی جماعت بھی اپنی شکست کھلے دل وماغ سے قبول کرلے ۔ یہی سببب ہے کہ” تجربہ کار“ کہلانے والے سیاسی رہنماوں کی حرکات وسکنات میں بھی بالغ نظری تلاش کرنا مشکل ہورہا۔
(دیک)عمران خان کی کامیابی کو قومی اداروں کی کارستانی قرار دینا کسی جرم سے کم نہیں۔ ایسے میں جب ملک ایک نہیں کئی پچیدہ مسائل کا شکار ہے ملکی اداروں کو بدنام کرنا ہرگز حب الوطنی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہے تو یہ کہ اگر عام انتخابات میں دھاندلی یا بے ضابطگیوںکے حوالے سے کسی قسم کی شوائد موجود ہیں تو انھیں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ دودہ کا دودہ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ (ڈیک)
وطن عزیز میں جمہوری عمل کے نتیجے می تیسری حکومت بنے جارہی۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ عام انتخابات سے قبل ہی تو اتر کے یہ واویلا کیا جاتا رہا ہے کہ بروقت انتخابات کا انعقاد نہیں جارہا ۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کے بھی عدالتی کاروائی کو بھی سازش سے تعبیر کیا گیا ۔ دراصل مسلم لیگ ن ہی نہیں اس کے ہمدرر سمجھے جانے والے لکھاری اور دانشور بھی شور مچاتے رہے کہ شریف خاندان کو سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت سیاسی طور پر نقصان پہنچایا جارہا۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عوام کو کسی خاص زوایہ سے سوچنے پر مجبور کرنا ناممکنات میں سے نہیں۔ایک ایسے ملک میں جہاں غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزارنے والے لاکھوں میں نہیں کروڈوں میں ہوں وہاںمثالی سیاسی شعور کی امید کرنا خلاف حقیقت ہوگا۔ درحقیقت کئی دہائیوں سے عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ نہیں کیا جارہا وجہ ظاہر ہے کہ طاقتور اشرافیہ نہیں چاہتی کہ اسے ایسے ووٹروں کا سامنا کرنا پڑے جو اس سے سوال جواب کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔ بھلا ہو پرویز مشرف کا جس نے نجی ٹی وی چنیلز کو لائسنس جاری کرکے ارض وطن پر وہ انقلاب برپا کردیا جس کا چند دہائیوں قبل تک تصور کرنا بھی محال تھا۔
آج تمام تر اعترضات کے باوجود الیکڑانک ہی نہیں، پرنٹ اور سوشل میڈیا کی شکل میں ایسا پلیٹ فارم موجود ہے جس میں خبیر تا کراچی عام وخاص اپنے جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ بظاہر الیکڑانک اور سوشل میڈیا نے عوام کو آواز دی جس کا فائدہ خاص طور پر عمران خان کو پہنچا۔ سالوں تک پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا مخاطب وہ مڈل کلاس رہی جو سیاسی شعور تو رکھتی تھی مگر آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنے میںہچکاہٹ کا شکار تھی۔ کپتان کا کمال یہ ہے کہ پڑھے لکھے طبقہ اپنے حقوق کی جنگ کے لیے ڈرائنگ روم سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا چنانچہ پاکستان تحریک انصاف کے جلسے جلوسوں میں مرد اور خواتین کی بہت بڑی تعداد نہ صرف تعلیم یافتہ رہی بلکہ وہ جمہوریت کے مطلب سے باخوبی آگاہ نظر آئے ، دراصل ان ہی لوگوں نے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی ہی نہیں جے یو آئی ف ، اے این پی اور ایم کیوایم جیسی جماعتوں کو حالیہ انتخاب میں بری طرح مسترد کردیا۔
25جولائی کو ہونے والے الیکشن کا دھاندلی ذرد قرار دینے والے سمجھ لیں کہ مسقبل قریب میں بھی ان کی مشکلات ختم نہیںہونے والی۔ غالب امکان ہے کہ پاکستان تحریک انصاف وفاق ، کے پی کے اور سب سے بڑھ کر پنجاب میں اس طرز کی حکومت دے جس میں عوامی رنگ نمایاں ہو۔ روایتی سیاسی قوتیں سمجھ لیں کہ پاکستان جس تیزی سے تبدیل ہورہا انھیں بھی خود کو کو بدلنا ہوگا۔ عوام اور صرف عوام کا مفاد اگر مدنظر نہ رکھا گیا تو 2023کا انتخاب بھی ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لانے والا۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ شکست خودہ سیاسی قائدین کی پکار پر عوام کی اکثریت توجہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فورا سے ملک کسی طور پر نئے الیکشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
جمہوریت میں اختلاف رائے کی حثیثت مسلمہ ہے مگر اس کا ایک طریقہ کار ہے۔ پارلمینٹ کی بالادستی کی دہائی دینے والوں کے لیے نادر موقعہ ہے کہ وہ پارلمیان میں آکر حکومت کو ٹف ٹائم دیں۔ اپوزیشن کی جانب سے ایسی تجاویز سامنے آنی چاہیں جس کی بدولت پاکستانیوں کی مشکلات میں نمایاں کمی ہوسکے۔اب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات لینے والوں کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے سرکاری خزانے کا پیسے جائز ثابت کریں۔ جان لینا چاہے کہ ارض وطن میں تادیر سیاست تجارت کی شکل میں نہیں رہ گی ۔ ہر گزرتا دن منتخب نمائندوں کو مجبور کریگا کہ وہ اپنے طرزعمل کا حساب دے۔ اب یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ جمہوریت کا پودا جڑ پکڑ رہا جسے غیر یقینی کا ماحول نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی مخالف سیاسی جماعتیں جلسے جلوس کرکے دیکھ لیں۔ قوی امکان ہے کہ دوسرے کیا خود ان کے حامی بھی ان دنوں ان کے احتجاج پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیں گے۔ اب تک یہی دیکھا گیا کہ ہر نئی حکومت کو عوام وقت دینے کے حامی ہوا کرتے ہیں تاکہ اپنے وعدوں کو وفا کرنے کا اسے موقعہ مل سکے۔

Scroll To Top