پنجاب میں حکومت سازی: ق لیگ کا ( ن) لیگ کو انکار ، پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا بڑا فیصلہ

  • پی ٹی آئی کے اتحادی ہےں ،اس اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، ن لیگ والے ہمیشہ ذاتی مفادات کے لیے رابطے کرتے ہیں،چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں پارٹی مشاورتی اجلاس کا فیصلہ
  • یاد رہے کہ ن لیگ کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اور پارٹی رہنما ایاز صادق نے مسلم لیگ ق کی قیادت سے رابطہ کیاتھا اورق لیگ کو پنجاب میں مرضی کا عہدہ دینے کی بھی پیش کش کی تھی

پنجاب حکومتلاہور(الاخبار نیوز) مسلم لیگ (ق) نے مرکز اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ فیصلہ چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں ہوا۔اجلاس کے دوران معاملے پر غور کیا گیا اور شرکاء کی جانب سے کہا گیا کہ ق لیگ پی ٹی آئی کی اتحادی ہے اور اس اتحاد کو مزید مضبوط کی جائے گا۔ق لیگ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کا ساتھ دیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ن لیگ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ مفادات کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی اور پارٹی رہنما ایاز صادق نے مسلم لیگ ق کی قیادت سےرابطہ کیاتھا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مسلم لیگ ن نے ق لیگ کو پنجاب میں مرضی کا عہدہ دینے کی بھی پیش کش کی تھی۔ جنوبی پنجاب کے چار آزاد ارکان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد تحریک انصاف کی عددی حیثیت 127 تک پہنچ گئی اور یہ مسلم لیگ ن سے دو نشستیں پیچھے ہے تاہم پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ کل تک مطلوبہ نمبر حاصل کرلیں گے۔ نمبر گیم کی دوڑ میں تحریک انصاف کی جانب سے چوہدری سرور، جہانگیر ترین، علیم خان اور اسلم اقبال مصروف ہیں جب کہ 18 آزاد اراکین کی کل عمران خان سے ملاقات اور تحریک انصاف میں شمولیت کا بھی امکان ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری پہلے ہی دعویٰ کرچکے ہیں کہ ان کی جماعت وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔

Scroll To Top