پی سی بی میں ’’تبدیلی‘‘ کی افواہوں کا بازار گرم

ttt

مجھ سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا، عہدہ سنبھالوں گا یا نہیں اس پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا، احسان مانی۔ فوٹو: فائل

کراچی: پی سی بی میں ’’تبدیلی‘‘ کیلیے افواہوں کا بازار گرم ہوگیا، مستقبل کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کیلیے جانے والے ہر سابق کرکٹر کو چیئرمین نجم سیٹھی کا متبادل قرار دیا جانے لگا۔

عام انتخابات میں سابق کپتان عمران خان کی فتح کے بعد پی سی بی میں تبدیلی کی باتیں زور پکڑ گئی ہیں،زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ ماضی کے بعض معاملات کی وجہ سے مستقبل کے وزیر اعظم موجودہ چیئرمین کو عہدے پر برقرار نہیں رکھیں گے، بطور متبادل ہر روز نئے نام سامنے آ رہے ہیں، عمران خان کو مبارکباد دینے کیلیے جانے والے ہر سابق کرکٹر کو نیا چیئرمین کرکٹ بورڈ قرار دیا جانے لگا۔

احسان مانی کا نام گذشتہ کئی روز سے خبروں میں ہے، اس حوالے سے جب نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ نے ان سے استفسار کیا تو آئی سی سی کے سابق صدر نے کہا کہ مجھ سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا، جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پیشکش ہوئی توکیا وہ چیئرمین پی سی بی کا عہدہ قبول کرلیں گے تو احسان مانی نے کہا کہ اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب سابق کپتان وسیم اکرم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ چیئرمین کی پوسٹ میں دلچسپی نہیں رکھتے، انھیں انتظامی امور کا بھی زیادہ تجربہ نہیں ہے، عمران خان سے قربت رکھنے والے جاوید میانداد کا نام بھی سامنے آیا مگر انھیں اتنا بڑا عہدہ ملنے کا زیادہ امکان نہیں ہے۔

ماضی میں سابق صدر آصف زرداری کے کہنے پر ان کیلیے ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ تشکیل دی گئی تھی مگر وہ کم ہی دفتر آتے تھے اور تنخواہ لینے کے سوا کوئی اور کام نہیں کیا، عمران خان کے قریبی دوست سابق ٹیسٹ کرکٹر ذاکر خان کے بارے میں نئی اطلاعات یہ ہیں کہ وہ کرکٹ بورڈ کی ملازمت چھوڑ دیں گے اور وزیر اعظم کے مشیر یا اس قسم کی کوئی اور ذمہ داری پائیں گے۔

دوسری جانب نجم سیٹھی بدستور پی سی بی کے دفتر میں معمول کے امور انجام دے رہے ہیں، ان کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ انھوں نے اب تک استعفیٰ دینے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے،گذشتہ دنوں چیئرمین نے بورڈ کے کئی ملازمین کی پروموشن کر دی جس سے ان کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حلف اٹھانے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو گئی، البتہ ان کے ایک قریبی دوست نے میڈیا پر آ کر نجم سیٹھی کو مشورہ دے دیا ہے کہ مستعفی ہونا ہی بہتر ہوگا۔

دریں اثنا موجودہ صورتحال سے قومی کرکٹ ٹیم کے غیرملکی کوچ مکی آرتھر بھی متاثر ہوئے ہیں،انھوں نے بعض کھلاڑیوں سے رابطہ کر کے پوچھا کہ کیا بورڈ میں تبدیلی آنے والی ہے؟

آرتھر کو نجم سیٹھی نے فری ہینڈ دیا ہوا ہے اور ٹیم کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرتا، کوچ کو ڈر ہے کہ نئے چیئرمین کے دور میں شاید انھیں یہ آزادی حاصل نہیں ہوگی۔

Scroll To Top