پنجاب کی حکومت پی ٹی آئی کا حق !

اگرچہ اب تک کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی سے چند ہی سیٹیس زیادہ حاصل کیں مگر پی ایم ایل این دعوی کررہی کہ وہ پانچ دریاوں کی سرزمین پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان دعوی کررہے کہ آزاد اراکین کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے ساتھ رابطے میں ہے اور وہ ہی تخت لاہور کے زیادہ حقدار ہیں۔ “
اس میں شبہ نہیںکہ حالیہ انتخاب میں پنجاب میں نمایاں سیاسی جماعتوں کے درمیان بھرپور مقابلے دیکھنے میں آیا۔ عمران خان جن کا تعلق خود بھی پنجاب کے شہر میانوالی سے ہے صوبے میں درجنوں انتخابی جلسے کیے۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ اہل پنجاب نے عمران خان کے حق میں بھرپور طور پر سامنے آئے جس کا بڑا ثبوت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا لاہور میں مسلم لیگ ن کے معروف رہنما سعد رفیق کو ہرا کر قومی اسمبلی کی نشست جیت جانا ہے۔
یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مسلم لیگ ن کی سیاسی طاقت کا مرکز کئی دہائیوں سے پنجاب ہی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اسی حکمت عملی پر کاربند رہے کہ اگر وہ آبادی کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنی گرفت مضبو ط رکھیں گے تو وزارت عظمی تک پہنچنا ان کے لیے قطعا مشکل نہ ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ کئی بار حکومت کرنے کے باوجود مسلم لیگ ن پنجاب میں ایسی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی جس کے نتیجے میں صوبے میں بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکتی ۔ حد تو یہ ہے کہ آج بھی پنجاب کا شائد ہی کوئی شہر ایسا ہو جہاں پینے کا صاف پانی ہر کسی کے لیے دستیاب ہو۔
شریف فیملی نے لاہور میںاربوں نہیں کھربوں روپے کے منصوبہ لگائے مگر وہ میگا پراجیکٹ سے آگے دیکھنے کی زحمت نہ کرسکے۔ ناقدین کے بعقول چونکہ بڑے منصوبوں میں مال بنانے میں آسانی ہوا کرتی ہے لہذا پی ایم ایل این قیادت اسی پر کاربند رہی۔ادھر عمران خان نے کے پی کے میں حکومت ملتے ہی اداروں کو مضبوط کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ کے پی کے عوام کی تعلیم ، صحت اور پٹوار کے نظام میں ان خرابیوں سے جان خلاصی کروائی جس میں وہ کئی دہائیوں سے پھنسے پڑے تھے یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہی مرتبہ کے پی کے عوام نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف پر مہر تصدیق ثبت کردی۔
آئندہ چند دنوں میں مسلم لیگ ن کے لیے پنجاب کی حکومت حاصل کرنا زندگی اور موت کا مسلہ بنا رہیگا ۔ شریف خاندان باخوبی جانتا ہے کہ مرکز نہ سہی مگر پانچ دریاوں کی سرزمین کی حکمرانی سے کسی طور پر دستبردار نہیں ہونا۔ بعض باخبر حلقوں کا یہ دعوی غلط نہیںکہ مسلم لیگ ن حکمرانی کی اس قدر خوگر ہوچکی کہ اب مکمل طور پر اپوزیشن میں رہنا اس کے لیے ناممکن ہوچکا۔
(ڈیک)اہل پنجاب نے جس طرح پاکستان تحریک انصاف کو بھرپور اعتماد سے نوازا ہے اس کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پی ٹی آئی پنجاب حکومت کی بجا طور پر حق دار ہے۔ مسلسل دس سال تک پنجاب پر حکومت کرنے والے شہباز شریف نے جس طرح بیڈ گورنس کا مظاہرہ کیا اس کے بعد مسلم لیگ ن کا تخت لاہور کے لیے کوشش کرنا کسی طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ۔ (ڈیک)
سوال یہ بھی ہے کہ عمران خان وزیر اعلی پنجاب کے لیے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی صوبائی بیوروکریسی سمیت مختلف سرکاری محکموں میں جس طرح حمایت موجود ہے وہ تقاضا کررہی کہ کسی ایسی شخصیت کو وزیر اعلی پنجاب کے منصب پر فائز کیا جائے جو حقیقی معنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی ترجمانی کرے۔ درحقیقت گذشتہ چند مہینوں میں مختلف سیاسی جماعتوں سے ایسی شخصیات پی ٹی آئی میں آچکیں جن کا نام بھی ہے اور وہ اثر رسوخ بھی رکھتی ہیں مگر عمران خان نے آبادی کے اعتبار سے ملک سکے سب سے بڑے صوبے میں اپنی سیاسی حمایت میں استحکام لانا ہے تو اس کے لیے ایک متحرک شخصیت کو وزیر اعلی پنجاب کے منصب پر لانا ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کچھ حلقے ڈاکڑ یاسمین راشد کو بطور وزیر اعلی پنجاب دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ حالیہ انتخاب میں ڈاکر یاسمین راشد پاکستان مسلم لیگ ن سے ہار چکیں مگر انھوں نے کم وبیش ایک لاکھ ووٹ حاصل کیے ۔ ڈاکڑ یاسمین راشد کا شمار پاکستان تحریک انصاف کے بانی کارکنوں میں کیا جاتا ہے ، سماجی شعبہ میں ان کی خدمات بھی کسی سے ڈھکھی چھپی نہیں۔ پی ٹی آئی میں یہ تجویز بھی دی جارہی کہ خواتین کی مخصوص سیٹیس پر ڈاکڑ یاسمین راشد کو منتخب کرکے وزیر اعلی پنجاب لایا جائے۔
اس پر کسی کو شک نہیںہونا چاہے کہ عمران خان کی نظروں میں پنجاب کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی اور موثر مخالف قوت پاکستان مسلم لیگ ن ہے جس کی طاقت کا واحد مرکز پانچ دریاوں کی سرزمین ہے۔ آنے والے چند روز پنجاب میں حکمرانی کے حوالے سے اہمیت اختیار کرچکے ۔ تخت لاہور کے لیے جوڈ توڈ کا سلسلہ پوری قوت کے ساتھ جاری وساری ہے چنانچہ قوی امکان ہے کہ اس کا فیصلہ جلد ہوجائے کہ پنجاب پر کس جماعت کی حکمرانی ہوگی۔ بظاہر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے آزاد اراکین کے علاوہ مسلم لیگ ق کے اراکین فیصلہ کن کردار ادا کرتی نظر آرہے ہیں۔

Scroll To Top