آئینِ محمد ﷺ نے عمر ؓ کو بلال ؓ اور بلالؓ کو عمرؓ بنا دیا !

عمران خان کی ” افتتاحی “ تقریر آپ نے سنی۔۔۔ میں ایک عرصے سے جانتا ہوں کہ یہی اصلی عمران خان ہیں۔۔۔ قائداعظم ؒ کے بعد پاکستان کا پہلا لیڈر جواپنی پہچان ” اسلام “ تقلید ِ رسول ﷺ “ اور ” ریاست ِ مدینہ “ کے ساتھ کرانے سے نہیں جھجکتا۔۔۔ جس نے برملا اپنا سیاسی قبلہ ” مدینہ“ کو بنایا ہے ¾ جو لبرل جمہوری سیکولر وغیرہ وغیرہ قسم کے دانشوروں کے ردّعمل سے بے نیاز ہو کر کہتا ہے کہ 2018ءمیں 632کے مدینہ کی طرف ہمارا سفر شروع ہوجائے گا۔۔۔ میں نے 632کا سنہ اس لئے منتخب کیا ہے کہ اس سال ریاستِ مدینہ کے بانی اور معمار۔۔۔ اور پوری نسل انسانی کے ہادی و محسن کا وصال ہوا تھا۔۔۔ اور آپ ﷺ اپنے پیچھے ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئے تھے جس پر آپ ﷺ کی پوری امت کو ناز تھا ناز ہے اور ناز رہے گا۔۔۔
یہ ورثہ کیا تھا؟
ایک ایسے معاشرے کا قیام جس میں بلالؓ وعمر ؓ کے حقوق یکساں ہوں گے اور ان کے درمیان اونچ نیچ کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔۔۔ یہاں میں یہ کہتا چلوں کہ بلال ؓ ایک حبشی غلام تھے جنہیں پہلی بار ” مجھے ہے حکمِ اذاں اللہ اکبر“ پر عمل کرنے کا اعزاز ہوا۔۔۔ اور حضرت عمر ؓ قبولِ اسلام سے پہلے ” سرداری روایات“ کا ایک چلتا پھرتا نمونہ تھے۔۔۔ اسلام نے بلال ؓ کو عمر ؓ اور عمر ؓ کو بلالؓ بنا دیا۔۔۔یہی ریاستِ مدینہ کا آئین ہے۔۔۔ ریاستِ مدینہ کی روح ہے ۔۔۔ اور ریاستِ مدینہ کا نصب العین ہے۔۔۔
انشاءاللہ علامہ اقبال ؒ کا پاکستان ¾ محمد علی جناح ؒ کا پاکستان ¾ میرا پاکستان آپ کا پاکستان اور عمران خان کا پاکستان ایک روز اکیسویں صدی کا مدینہ بن کر سرخرو ضرور ہوگا۔۔۔

Scroll To Top