آل پارٹیز کانفرنس: عام انتخابات کے نتائج مسترد

  • شہباز شریف نے حلف نہ اٹھانے کی تجویز پر معاملہ پارٹی قیادت کے سامنے رکھنے کیلئے مہلت طلب کرلی

آل پارٹیز کانفرنس عام انتخابات کے نتائج مسترد

اسلام آباد (این این آئی)ایم ایم اے کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس نے عام انتخابات 2018ءکے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پی سی میں شامل جماعتوں کے کامیاب ہونیوالے ارکان کی جانب سے قومی اسمبلی میں رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا جائیگا جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے حلف نہ اٹھانے کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کےلئے دو روز کا وقت مانگ لیا ہے ۔ جمعہ کو ایم ایم اے کی جانب سے انتخابات 2018کے نتائج پر تحفظات کےلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ، ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے مرکزی رہنما ، بلوچ رہنما میر حاصل خان بزنجو ، محمود خان اچکزئی ، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ،قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاﺅ ، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار ، پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال و دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی ۔ ذرائع کے اجلاس آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی جانب سے عام انتخابات 2018کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیاگیا ۔ اے پی سی کے بعد اجلا س میں شریک رہنماﺅں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس نے پورے اتفاق رائے کےساتھ 25جولائی 2018ءکے انتخابات کو مسترد کر دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس الیکشن اور مینڈیٹ کو عوام کا مینڈیٹ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ سمجھتے ہیں جو ڈالا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں جولوگ اکثریت کا دعویٰ کررہے ہیں ان کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ان لوگوں کو حق حکمرانی دینا چاہتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم نے از سر نو شفاف انتخابات کے انعقاد کے مطالبے پر اتفاق کیا ہے اور سب کا اتفاق ہے کہ ان جماعتوں کے جو لوگ منتخب ہوئے ہیں وہ حلف نہیں اٹھائیں گے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اے پی سی میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے کہاہے کہ مجھے حلف نہ اٹھانے کے مسئلے پر پارٹی سے مشاورت کر نے دیجئے تاکہ اپنی پارٹی کا موقف آپ کو پہنچا سکوں تاہم باقی فیصلوں کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ہماری حمایت کی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ دوبارہ انتخابات کر انے کےلئے تحریک چلائیں گے ، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہونگے اس کےلئے فوری طورپر ایک کمیٹی بنائی جائیگی جو شیڈول ترتیب دے گی اور عوام کو مظاہروں میں شرکت کی دعوت دے گی اور یہ ایک دوروز میں ہو جائیگا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جوجماعتیں اے پی سی میں میں شریک نہیں ہو سکیں جو انتخابات پر اعتراض رکھتی ہیں ان جماعتوں سے رابطے کرینگے تاکہ جامع اتفاق رائے حاصل کیا جاسکے اور پوری قوم کو ایک پلیٹ ٹارم جمع کیا جائے ۔مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں ، ہم جمہوریت کی بقاءچاہتے ہیں ، جمہوریت کےلئے قربانیاں دی ہیں ، ہم جمہوریت کو اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دینگے ، ہم نے جمہوریت کی آزادی کی جنگ لڑنی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جو قوتیں سمجھتی ہیں کہ سب کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے ،عوام فیصلہ کرینگے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کو اختیارات دیئے ، 20ارب روپے کی الیکشن کے اخراجات کی منظوری دی ،یہ الیکشن کرائے ہیں ، اتنے اختیارات اور اتنا بڑا پیسہ کیوں قوم کا ضائع کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پریذائیڈنگ افسر ، آر اوز فوجی کے ہاتھوں یر غمال بنے رہے ہیں اور کوئی نتیجہ پولنگ ایجنٹ کو مہیا نہیں کیا گیا ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اس ملک میں از سر نوجمہوریت کی بحالی اور آزادی کےلئے آگے بڑھیں گے ۔انہوںنے کہاکہ دیکھتے ہیں یہ لوگ ایوان کیسے چلاتے ہیں ، یہ لوگ ڈاکے ڈال کر آئے ہیں ،ان کو ایوان میں داخل نہیں ہونے دینگے ، اس ایوان میں ان کا راستہ روکا جائیگا ۔ ایک سوال پر شہباز شریف نے کہاکہ ایوان میں حلف نہ اٹھانے کے معاملے پر پارٹی سے مشاورت کر کے اتوار کو اے پی سی کو آگاہ کرینگے تاہم مسلم لیگ (ن)تحریک چلانے کے حوالے سے پوری طرح متفق ہے ۔ شہباز شریف نے کہاکہ اس ملک میں بد ترین بے ضابطگی ہوئی ہے جس کی مثال نہیں ملی ۔ ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ دوبارہ کر رہے ہیں چند روز میں اگلا لائحہ عمل طے کرینگے ۔

Scroll To Top