عمران خان نے کردکھایا

zaheer-babar-logo

25جولائی کے عام انتخابات میں کامیابی پر عمران خان نے قوم سے خطاب میں اپنی حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کی نشاندہی کرڈالی۔ کپتان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مسائل گھرے پاکستان کے عالی شان وزیر اعظم ہاوس میں رہنے میں انھیں شرم محسوس ہوگی ان کے بعقول وفاقی کابینہ اس بات کا فیصلہ کریگی کہ وزیر اعظم ہاوس کا کیا کرنا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ احتساب ان سے شروع ہوگا اور پھر نیچے جائیگا۔ کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتیں جن جن حلقوں میں دھاندلی کا شور مچار رہی ہیں وہ ان تمام حلقوں میں تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔
اس میں دوآراءنہیںکہ متحرک اور بھرپور اپوزیشن لیڈر کے بعد بطور وزیر اعظم عمران خان کا امتحان شروع ہوچکا۔ پی ٹی آئی سربراہ نے الیکشن میںکامیابی کے بعد ہونے والے خطاب میں اپنے جن اہداف کا زکر کیا وہ کم وبیش وہی ہیں جن کا تذکرہ وہ حزب اختلاف کے رہنما کے طور پر کرتے رہے۔ کپتان کے خطاب سے یہ بات بڑی حد تک واضح ہوچکی کہ انھیں عوام کی ان توقعات کا باخوبی اندازہ ہے جو ان سے کی گئیں۔ قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ مختلف انتخابی حلقوں میں بیک وقت کامیابی حاصل کرنا معمولی بات نہیں۔ یہ ظاہر کررہا کہ کس طرح ملک بھر کے عوام نے عمران خان نے کے منشور پر مہر تصدیق ثبت کردی ۔
وطن عزیز جن مسائل کا شکار ہے اس کے پیش نظر اقتدار کسی کے لیے بھی پھولوں کی سیج نہیں۔ کروڈوں پاکستانی غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزار رہے جن کو مسائل سے نکالنے کے لیے انقلابی اقدمات اٹھانے ہونگے۔اپوزیشن جماعتیں بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے تیار نظر آتی ہیں یہ بات سمجھ میں آرہی کہ عمران خان نے مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی ، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی جماعتوں کو جس طرح شکست فاش دی وہ عمران خان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیں گی۔
یقینا جمہوری ملکوں میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے کہ حزب اختلاف حزب اقتدار کو ٹف ٹائم دے مگر آثار یہی ہیں کہ عمران خان اپنی مخالف جماعتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ کپتان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد خارجہ امور پر بھی بھرپور توجہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ۔ایک طرف امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں سے بہتر تعلقات کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت تسلیم کی گی تو اس کے ساتھ ایران اور سعودی عرب جیسے دوست مسلم ممالک کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ عمران خان نے گذشتہ چند دنوں میں بھارتی میڈیا میں اپنے خلاف ہونے والی تجزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا ۔مسقبل کے وزیر اعظم نے ایک طرف تنازعہ کشمیر پر بات چیت کی اہمیت بیان کی تو ساتھ ہی بھارت سے تجارت بڑھانے کی خواہش کا برملا اظہار بھی کیا۔
عمران خان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ کس طرح میاں نوازشریف تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود آج اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پچھے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن میں حالیہ کامیابی کو سابق وزیر اعظم کے خلاف عوام کے بھرپور عدم اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھنا چاہے۔ دراصل میاں نوازشریف اس حقیقت کا ادراک کرنے میںکامیاب نہ ہوسکے کہ پاکستانیون کی قابل زکر تعداد ایسے کسی بھی شخص کو حاکم تسلیم کرنے کو تیار نہیںجس کا کاروبار، بچے اور حتی کہ گھر بھی دوسرے ملک میں ہو۔۔آسان الفاظ میں یوں جو محض اپنی دولت کو بڑھانے میںاس طرح مشغول رہے کہ اسے کروڈوں پاکستانیوں کے مسائل سے قطعا کوئی سروکار نہ ہو۔
شائد ٹھیک کہتے ہیںکہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیںسیکھتا ۔ میاں نوازشریف اور آصف علی زرداری کا شمار بظاہر ان قائدین میں کیا جاسکتا ہے جنھوں نے اپنے سامنے رونما ہونے والے سیاسی اتار چڑھاو کو نظر انداز کیا۔ یاد رکھنا چاہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے بنیادی حکومتوں کے نظام کے زریعہ پاکستانیوں کی بہت ساری مشکلات حل کیں مگر جب عام شہری نے محسوس کیا کہ اب پرویز مشرف بنیادی مقاصد سے انحراف کررہے ہیں تو فورا ہی ان سے منہ موڈ لیاگیا۔ گذشتہ دس سالوں میں پی پی پی اور پی ایم ایل این کی قیادت بھی ان دعووں اور وعدوں کا پاس کرنے میں ناکام رہی جو وہ ٹی وی کمیروں کی موجودگی میں ایک سے زائد بار کرتی رہیں۔ سندھ اور پنجاب میں دس دس سال تواتر کے ساتھ اقتدار کا مزے لینے والوں نے ہرگز خاطر خواہ کارکردگی پیش نہ کی۔
تسلیم کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پی پی پی ایک بار قابل زکر سیاسی حمایت کے ساتھ موجود ہیں مگر غیر معمولی کامیابی پھر بھی ان کا مقدر نہ بنی ۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کے برعکس سندھ میں پی پی پی نے بہتر پوزیشن میں سامنے آئی مگر پاکستان تحریک انصاف نے کراچی میں نمایاںکامیابی حاصل کرکے بتا دیا کہ شہر قائد میں بھی اس کی قابل زکر حمایت موجود ہے۔ اب عمران خان جلد قومی اسمبلی میںاپنی اکثریت ثابت کرکے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے جارہے۔اہل پاکستان منتظر ہیں کہ کپتان ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ، میرٹ کی بالادستی اور عام آدمی کی مشکلات حل کرنے کے لیے تیزی سے اقدمات اٹھائیں۔ اب تک کے انتخابی نتائج کی روشنی میں قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی وفاق اورخبیر پختونخواہ کے علاوہ پنجاب میں بھی تحرک انصاف حکومت بنا لے۔

Scroll To Top