انصاف کی ذمہ داری قاتلوں کے ہاتھ میں ! 03-09-2013

kal-ki-baat
جرائم پیشہ لوگوں نے کراچی میں قتل و غارت کا جو بازار گرم کررکھا ہے اسے ختم کرنے کے لئے ایک بڑا آپریشن زیرِ غور ہے جس کا کنٹرول وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں قائم ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ہاتھوں میں ہوگا۔ یہ بات اگر اِسی قدر آسان ہوتی جس قدر نظر آتی ہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ جرائم پیشہ گروہ خواہ کس قدر ہی طاقتور کیوں نہ ہوں وہ ریاست کی طاقت کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں یا گروہوں کو جن عناصر کی درپردہ سرپرستی اور حمایت حاصل ہے ا ن کے پاس ہی ریاستی طاقت کے استعمال کا اختیار ہے۔ دوسرے الفاظ میں کراچی کے وہ ادارے جن کے ہاتھوں میں ریاستی اختیار ہے وہ ایک طرف تو قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں ` اور دوسری طرف قانون توڑنے والے افراد اور گروہوں کے درپردہ سرپرست ہیں۔کراچی میں جو جرائم بہت بڑے پیمانے پر فروغ پا رہے ہیں اُن میں سرفہرست بزور طاقت بھتہ وصول کرنا ` تاوان لینے کے ارادے سے اغوا کی وارداتیں کرنا اور جب بھی اور جہاں بھی موقع ملے سرکاری نیم سرکاری یا متنازعہ زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔
ان تینوں جرائم کو تیزی سے فروغ پانے والی انڈسٹری کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ اور اس انڈسٹری سے ایک طرف بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے مفادات وابستہ ہیں ` اور دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے با اختیار اہلکاروں کی اس انڈسٹری کی پھلتی پھولتی آمدنی میں حصہ داری ہے۔
دوسرے الفاظ میں ایسے مفادات کا ایک وسیع جال بچھا ہوا ہے جو اکثرو بیشتر ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہوتے ہیں۔ ان متصادم مفادات کے سرپرستوں نے ایسے اسلحہ بردار گروہ بنا رکھے ہیں جنہیں خفیہ پناہ گاہیں بھی میّسرہیں اورجنہیں بوقت ضرورت قانونی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ان کے سرپرست ہی مل کر آپریشن کرنے والے ہیں۔
یہ بات ایک معجزے سے کم نہیں ہوگی کہ مجوزہ آپریشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ جو تین بڑی سیاسی جماعتیں اس خونی کھیل میں سر سے پاﺅں تک ملوث ہیں وہ چند ماہ قبل تک حکومت میں ایک دوسرے کی اتحادی تھیں ۔ ان میں سب سے بڑی جماعت آج بھی سندھ کی حکمران ہے۔ اگر اس کی سوچ اور نیت میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو اس کا اظہار کم ازکم نظر آنے والے زمینی حقائق سے نہیں ہورہا۔
سید قائم علی شاہ پہلے بھی وزیراعلیٰ تھے۔ آج بھی وزیراعلیٰ ہیں۔ اور ان کے پیچھے متحرک قوت پہلے بھی زرداری صاحب کے بھائی کی تھی اور آج بھی زرداری صاحب کے بھائی کی ہے۔

Scroll To Top