دشمنوں کو جشنِ فتح منانے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ! 31-08-2013

kal-ki-baat
پاکستان کے خلاف ایک محاذ پر نہیں کئی محاذوں پر سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ میرے خیال میں وطنِ عزیز کے خلاف سب سے بڑی سازش اس کا فکری اور روحانی رشتہ اس نظریے کے ساتھ توڑنے کے شعبے میں ہورہی ہے جو اس کے قیام کی بنیاد بنا تھا۔ میری مراد دو قومی نظریہ ہے جس کی رُو سے پاکستان کے فاﺅنڈنگ فادرز نے مسلمانانِ ہند کو ایک الگ قوم قرار دیا تھا۔ آج قوم کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ قائداعظم ؒ کے ذہن میں جس پاکستان کا خاکہ تھا وہ ایک بڑی مسلم اکثریت کا ملک تو ضرور تھا لیکن اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانا ہرگز مقصود نہیں تھا۔
اس نقطہ نظر کو فروغ دینے والے اہلِ فکر و دانش قوم کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے حقیقی مقاصد میں یہ بات ہر گز شامل نہیں تھی کہ ایک ایسی مملکت تعمیر کی جائے جہاں اسلام کے قوانین زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ نظر آئیں۔قائداعظم ؒ پاکستان کو ایک جدید سیکولر ریاست بنانے کے متمنی تھے اور اپنی اس خواہش کا اظہار انہوں نے اپنی 11اگست 1947ءوالی تقریر میں کھل کر کردیا تھا۔
اس سازشی سوچ کا کمال یہ ہے کہ اس کے علمبردار حوالہ ہمیشہ11اگست 1947ءکی تقریر کا دیا کرتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہ تقریر قائداعظمؒ کی واحد تقریر نہیں تھی ۔ قائداعظمؒ نے درجنوں ایسی تقاریر بھی کی تھیں جن میں انہوں نے پاکستان کو ایک فلاحی اسلامی مملکت بنانااپنی جدوجہد کا ایک بنیادی نصب العین قراردیاتھا۔پاکستان کے خلاف دوسری بڑی سازش یہ کی جارہی ہے کہ کراچی سے خیبر تک یہ ملک بدامنی ¾ لاقانونیت ¾ قتل و غارت اور اخلاقی افلاس کا گہوارہ بن جائے تاکہ اسے تیزی کے ساتھ اس مقام کی طرف دھکیلا جا سکے جہاں وہ خود کو دنیا کی ناکام ریاستوں کی فہرست میں شامل پائے۔
کراچی اور فاٹا میں ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے اس کا تجزیہ پاکستان کے دشمنوں کے اِن ہی مقاصد کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہئے۔
یہ موضوع کافی تفصیلات طلب ہے لیکن مختصراً یہ بات پورے تیقّّن کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو جس نوعیت کی سنگین سازشوں کا سامنا ہے ان سے بچ نکلنے کے لئے روایتی انداز کے حکومتی اقدامات کا فی نہیں ہوں گے۔ ریاست کو پوری قوت کے ساتھ اپنے دشمنوں کے مقابلے پر آنا ہوگا۔ اگر ریاستی ادارے بے یقینی اور بے بسی کے ساتھ آئین کی طرف دیکھتے رہے تو بہت جلد ہمارے دشمنوں کو شادیانے بجانے اور خوشیاں منانے کا جواز مل جائے گا۔
تاریخ کے اس موڑ پر بڑے مضبوط فیصلوں اور آہنی قوتِ ارادی کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top