اگر چوہدری صاحب کامیاب ہوئے۔۔۔ 30-08-2013

kal-ki-baat
ایک زمانہ تھا جب قبضہ مافیا اور بھتہ مافیا کے حوالے سے ایک ہی سیاسی جماعت کا نام زبان پر آیا کرتا تھا۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتیں اسی سیاسی جماعت سے منسوب کی جاتی تھیں۔ ماﺅں کو جب بھی اپنے بچوں کے دل و دماغ میں خوف اور ڈر پیدا کرنا مقصود ہوتا تھا تو اسی جماعت کا ذکر چھیڑا کرتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ دس برس قبل میرے ایک سینئر صحافی دوست نے یہ کہہ کر الاخبار کے لئے کالم لکھنا بند کردیا تھاکہ مجھے کراچی میں رہنا ہے اور جس قدر تندی اور تیزی آپ کے قلم میں ہے اس کے پیش نظر اپنی شناخت آپ کے اخبار کے ساتھ کرانا میرے لئے مستقلاً تلوار کی تیز دھار پر چلتے رہنا ہوگا۔
اب وہ زمانہ گیا۔ اب ” بھتہ اور قبضہ “ دونوں کو ایک ایسی انڈسٹری کا درجہ حاصل ہوچکا ہے جس کی سرپرستی بہت ساری سیاسی جماعتیں کررہی ہیں۔ جناب آصف علی زرداری کے دور میں کراچی پر ایک لسانی عصبیت کی اجارہ داری ختم ہوگئی اور نسلی اور لسانی بنیادوں پر تین بڑی سیاسی جماعتیں قبضہ گروپوں اور بھتہ خوروں کی سرپرست بن گئیں۔ اب تو صورتحال کچھ ایسی ہوچکی ہے کہ صرف ” واقفانِ حال “ کو معلوم ہوتا ہے کہ کون کس کواور کیوںماررہا ہے ` کس لاشے کو کس کی گولی گرا رہی ہے۔ کرائم انڈسٹری میں کون آگے بڑھ رہا ہے اور کون پیچھے جارہا ہے۔ اس صورتحال کو گھمبیر اس حقیقت نے بنا رکھا ہے کہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے والی تینوں لسانی جماعتیں چند ماہ قبل تک حکومت میں ایک دوسرے کی اتحادی تھیں۔ تینوں کو ایک دوسرے کی سرپرستی میں کام کرنے والے قاتلوں اور مجرموں کی شناخت معلوم ہے۔ کچھ عرصے سے یہ مطالبہ بڑی شدت اختیار کررہا تھا کہ کراچی کو جرائم سے پاک کرنے اور وہاں کی فضا کو صنعتی و تجارتی زندگی کے لئے محفوظ بنانے کے لئے ایک بڑ ا آپریشن کیا جائے۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم نے تو یہ مطالبہ تک کھل کر کردیاکہ کراچی میں فوجی آپریشن کیا جائے۔فوجی آپریشن کا مطالبہ ماضی میں اے این پی بھی کرتی رہی ہے ۔ صرف پی پی پی نہیں چاہتی کہ فوج اس کے ” دائرہ ءاختیار “ میں ایک ایسے ” عنصر “ کے طور پر شریک ہو جس پر اس کا کنٹرول نہ ہو۔ یہ بات سمجھنے کے لئے کسی قسم کی افلاطونی ذہانت کی ضرورت نہیں کہ لیاری کے حوالے سے پی پی پی کے حمایت یافتہ گینگ بہت بڑی طاقت بن کر ابھرے ہیں۔ اور کراچی میں کسی بھی قسم کے شفاف آپریشن کی زد میں یہ گینگ بھی آئیں گے جن کی سرپرستی مبینہ طور پر جناب ٹپی صاحب کررہے ہیں۔
اس وقت جس انداز کی ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وار کراچی میں ہورہی ہے اس سے 1920ءکے زمانے کی اُن ” مافیا وارز“ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جن کی وجہ سے نیویارک اور شکاگو دونوں شہر جہنم کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ کراچی کے مستقبل سے کھیلنے والے کو ن کون سے مافیا ڈان اپنے آپ کو ” ال کپون“ سمجھتے ہیں۔
اس نہایت سنگین اور حوصلہ شکن پس منظر میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا مجوزہ آپریشن امید کی ایک بہت ضروری اور بڑی کرن بن سکتا ہے۔
اگر چوہدری صاحب مجوزہ آپریشن کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور اس کے بعد اس آپریشن کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ قوم انہیں اور ان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنے میں بخیلی سے کام نہیں لے گی۔

Scroll To Top