تقدیر بدلنے کا ایک اور موقعہ

zaheer-babar-logo

خدشات اور خطرات کے باوجود آج 25 جولائی کو عام انتخابات کا انعقاد بلاشبہ ایسی کامیابی ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ ہمیں دل وجان سے تسلیم کرنا چاہے کہ وطن عزیز کے دور اور نزدیک کے بدخواہ کسی طور پر یہاں امن ، خوشحالی اورسلامتی کا ماحول نہیں چاہتے۔ ان دشمنوں کی ممکن حد تک خواہش اور کوشش یہی ہے کہ سرزمین پاک پر ہمہ وقت غیریقینی کے بادل سایہ فگن رہیں۔ عام انتخابات کے انعقاد کا معاملہ بھی یہی بنا دیا گیا یعنی ایک طرف سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف پانامہ لیکس سامنے آنے کے بعد سازش کی دہائی دیتے رہے تو دوسری طرف پاکستان کے نظریاتی اور جعغرافیائی حدود وقیود کے حاسد میدان میں متحرک رہے۔
دنیا گوبل ویلج میں بدل چکی چنانچہ اب جنگوں کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی آچکی۔ اب کھل کر دشمن کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے اس کی اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ حریف ریاستوں میں ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی پیدا کی جاسکے۔ پاکستان کی حد تو کام یہ بھی آسان رہا کہ یہاں جمہوریت کے علاوہ طویل عرصہ تک فرد واحد کا دور بھی رہا چنانچہ بہت آسان تھا کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کو مسلح افواج سے بدظن کیا جائے۔
مقام شکر ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد کسی بھی سپہ سالار نے سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کی ۔ دوآئینی حکومتوں کا اپنی مدت پوری کرنا ملکی تاریخ میں اطمینان بخش پیش رفت ہے۔ دراصل نائن الیون کے واقعہ کے بعد دنیا بڑی حد تک تبدیل ہوچکی۔ امریکہ کی سرپراہی میں قائم اتحادی افواج سالوں تک دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کمربستہ رہیں۔ اب یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ طاقتور مغرب کسی طور پر نہیں چاہتا کہ اس کے ہاں مذہب کے نام پر بے گناہ لوگوں کا خون ایسے بہایا جائے جو مسلمہ اخلاقی اور قانونی اصولوں کے صریح خلاف کہلائے۔
تاریخٰی طور پر اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کی جانے والی دہشت گردی کی زمہ داری قبول کرلی تھی لہذا توقعات کے عین مطابق امریکہ بہادر افغانستان پر چڑھ دوڈا۔ تاریخ میںاس پر ایک سے زائد آراءرہیں گی کہ اگر افغان طالبان اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردیتے تو شائد یہ خطے اس قدر تباہی سے دوچار نہ ہوتا۔پاکستان اور افغانستان کے قریبی تعلقات نے ہمیں اس مسلے میں الجھا دیا۔سابق صدر پرویز مشرف نے طالبان اور امریکہ دونوں سے اپنے رویوں میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی مگر باجوہ انھیں کامیابی نہ ملی۔
پاک فوج نے ملک میں قیام امن کے حصول کے لیے ضرب عضب اوراب ردالفساد کی صورت میں بھرپور کاروائیاں کیں ، ہم میں سے شائد ہی کوئی بھولا ہو کہ چند قبل تک خبیر تا کراچی کشت وخون کے واقعات معمول بن چکے مگر آج ان میں خاطر خواہ کمی واقعہ ہوچکی۔ انتہاپسندی کے خلاف لڑائی میں جہاں عام پاکستانی ہزاروں شہید ہوئے وہی سیکورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے بھی اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کیا۔
مخصوص حوالوں سے اگر ملک میں جمہوریت کا سفر جاری وساری ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ہوچکا۔ حالیہ انتخابی مہم میں خودکش حملوں کے تین واقعات ضرور رونما ہوئے مگر جس وسیع پیمانے پر امیدوار اور عوام میدان میں موجود رہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے نقصان کم ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ اس ارض وطن میں رونما نہیں ہونا چاہے مگر ماضی کے بعض اقدمات نے ایسے حالات پیدا کردیے جن سے نمٹنا آسان نہیں۔
وطن عزیز میں جمہوری سفر کا جاری وساری رہنا خوش آئند مگر لازم ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے سیاسی جماعتیں اپنی پوری توانیاں صرف کریں۔ سیاست انفرادی اور گروہی مفادات کی تکمیل کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرے کے ان کمزور طبقات کی مشکلات کو کم کرنے کا کام ہے جو ہمہ وقت مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
وطن عزیز کی سیاست تیزی سے تبدیل ہورہی۔ قومی تاریخ کا ہر طالب علم یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ دوہزار تیرہ کے عام انتخاب میں عوامی نمائندوں سے اس طرح باز پرس نہیں ہوئی جس طرح اب کی جارہی ہے۔ دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ عام آدمی کی جمہوری نظام سے توقعات بڑھ چکیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جس طرح اپنی انتھک محنت سے لوگوں کو سیاسی شعور سے بہرور کیا ہے وہ اب اثرات مرتب کررہا۔ مثلا حالیہ انتخابی مہم میں عام شہریوں کی قابل زکر تعداد ان الیکٹ ابیلز کے سامنے آکھڑی ہوئے تاکہ انھیںاپنی پانچ سالہ ناکامیوں کا احساس دلایا جاسکے۔ جان لینا چاہے کہ جمہوریت میںکوئی شارٹ کٹ نہیں یعنی ایسا ممکن نہیں کہ کسی بھی ملک میں آج جمہوری سفر شروع کیا گیا تو کل اس کے ثمرات سے عوام مستفید ہونا شروع ہوجائیں۔
وطن عزیر کے فکر ونظر کو اہل پاکستان کو بتانا ہوگا کہ جب تک وہ بہتر سیاسی شعور کا مظاہرہ نہیںکریں گے منتخب ایوانوں میں ایسے لوگوں کے آنے کا امکان نہیں جو اپنے اور اپنے خاندان کی بجائے لوگوں کی فلاح وبہبود کوترجیح دے۔ آج 25جولائی 2018کے عام انتخابات عام پاکستانی کا ایک اور نادر موقعہ فراہم کررہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی تقدیر بدل ڈالے۔

Scroll To Top