عمران خان کی کامیابی بھارت کی بڑی شکست ہوگی ، بھارتی میڈیا

  • عمران خان کا وزیر اعظم پاکستان بننا بھارت کے لئے گھاٹے کے سودے کے علاوہ کچھ نہیں،ہندوستان ٹائمز ، عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو بھارت کو تعلقات معمول پر لانے میں سخت مشکلات درپیش ہونگی ،انڈیا ٹو ڈے
  • عمران خان کی جیت کے لئے میدان ہموار کر دیاگیا ہے، فرسٹ پوسٹ ، عمران خان کے سیاسی حریفوں کی مشکلات اور فوج کی(مبینہ) مدد نے ان کے اقتدار میں آنے کے امکانات انتہائی روشن کر دیئے ہیں، فنانشل ٹائمز

عمران خان کی کامیابی بھارت کی بڑی شکست ہوگی اسلام آباد(ریاض ملک) پاکستان تحریک انصاف جو کہ اب تک کہ منعقد ہونے والے ملکی و غیر ملکی سرویز میں آج منعقد ہونے والے عام انتخابات میں اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے گی اور اس کے سربراہ عمران خان ملک کے آئندہ وزیر اعظم ہونگے۔ یہ سرویز جہاں وطن عزیز کی اکثریت بالخصوص نوجوان ووٹرز کے لئے نہایت امید افزا ہیں کہ بالآخر ملک کو اسٹیٹس کو کی قوتوں سے نجات دلانے والا ایک سنجیدہ رہنما میسر آ رہا ہے اور جو ملک کو گوناںگوں مشکلات سے نکال کر باہر کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے وہیں بھارتی میڈیا اس امر پر سخت اذیت کا شکار ہے اور ہرگزرتے دن اس کے پاگل پن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مثال کے طورپر انڈیا ٹو ڈے رقم طراز ہے کہ اگر عمران خان پاکستان وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو بھارت تعلقات معمول پر لانے میں سخت مشکلات درپیش ہونگی کیونکہ مبینہ طور پر انہیں فوج اور کالعدم جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ عمران خان کا وزیر اعظم بننا بھارت کے لئے گھاٹے کے سودے کے علاوہ کچھ نہیں۔ فرسٹ پوسٹ زہر افشانی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان آرمی نے ملک کی میڈیا اور عدلیہ پر اثرورسوخ حاصل کرکے عمران خان کی جیت کے لئے میدان ہموار کر دیا ہے۔ ٹائمز ناﺅ ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو بھارتی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ادھر فنانشل ٹائمز الزامات لگاتا ہے کہ عمران خان کے سیاسی حریفوں کی مشکلات اور مبینہ طور پر فوج کی مدد ان کے اقتدار میں آنے کے امکانات انتہائی روشن کر دیئے ہیں۔ دی پرنٹ نے خبر لگائی کہ عمران خان کا وزیراعظم بننا جمہوریت کیلئے بری خبرہوگی۔نیو نیوز شوروغوغا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انتخابات میں عمران خان کے حق میں دھاندلی ہونے جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دراصل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی و دیگر سیاسی لیڈر شپ اور میڈیا کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ان کے ہمدرد اور مودی کے ہمدم دیرینہ نواز شریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا اور جیل یاترا اور ان کی ن لیگ کی ممکنہ شکست اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی جیت اور بالآخر کرکٹر ٹر ن سیاستدان عمران خان کی وزیر اعظم کے عہدے تک رسائی بھارت کے لئے مشکلات کا باعث ہوگی کیونکہ وہ تمام تر معاملات کو ذاتی مفادات کوبالائے طاق رکھ کر قومی مفادات کو ترجیح دیں گے اور یہی حقیقت بھارتی سورماﺅں کو ہضم نہیں ہو رہی کیونکہ انہیں نواز شریف جیسا کٹھ پتلی وزیر اعظم ہی چاہئے جو نہ تو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر نہ ہی بھارت کی طرف سے آبی جارحیت ، دہشت گرد حملوں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری دہشت گردی کے اوپر چپ سادھ رکھیں اور صرف اور صرف اپنے کاروبار کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کیلئے راہیں ہموار کرتے رہیں۔

Scroll To Top