آج ڈاکو راج کے خاتمے کا دن ہے : ملک بھر میں پولنگ انتظامات مکمل

  • قومی اسمبلی کی 272اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577نشستوں پر پولنگ ہونے جا رہی ہے ،10کروڑ 59لاکھ 55ہزار 409 ووٹرز 85ہزار 307 پولنگ ا سٹیشنز میںحق رائے استعمال کرسکیں گے
  • پونے چار لاکھ فوجی جوان ،چار لاکھ پولیس فورس الیکشن اورساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین بھی الیکشن ڈیوٹی پر مامور ، 85ہزار میں سے 17ہزار پولنگ اسٹیشنز حساس ترین قرار

ملک بھر میں پولنگ انتظامات مکمل

اسلام آباد( الاخبار نیوز) مسلم لیگ ن ،شریفوں اور ان کے حواریوں کی کرپشن ، لوٹ مار اور ملک دشمنی سے تنگ عوام کو بالآخر آج نئی قیادت منتخب کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ایک سنہری موقع عطا کر دیا ہے توقع ہے کہ عوام آج جوق در جوق اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے تمام ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اور صرف پاکستان کو ووٹ دیں گے اور ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والے کرپٹ حکمرانوں سے نجات حاصل کرکے جینوئن لیڈر شپ کا انتخاب کریں گے جوکہ وطن عزیز کو صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست بنانے کیلئے سرگرم عمل رہیں گے۔ اس سلسلے میں آج ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 272اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577نشستوں پر عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ،پونے چار لاکھ فوج کے جوان اور چار لاکھ پولیس فورس الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہے،پہلی بارانتخابات کیلئے تین لاکھ 71ہزارفوج کے جوان پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات ہونگے ۔ عام انتخابات کے نتائج میں 43فیصد نوجوان ووٹرزکا اہم کردارہوگا۔ انتخابی سامان پولنگ سٹیشنوں پر پہنچادیاگیا ہے ۔انتخابی رپورٹ کے مطابق مجموعی طورپر10کروڑ 59لاکھ 55ہزار 409 ووٹرز ملک بھرمیں 85ہزار 307 پولنگ ا سٹیشنز میںحق رائے استعمال کرسکیں گے پنجاب کی297، خیبرپختونخوا99، سندھ 130اور بلوچستان کی 51نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے جائینگے۔ پولنگ صبح 8بجے سے شام چھ بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہے گی ۔ 22کروڑ کی آبادی میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10کروڑ 59لاکھ 55ہزار 409ہے ، جن میں چار کروڑ سے زائد یعنی 43فیصد نوجوان ووٹرز ہیں جنکی عمر 18سے 35سال کے درمیان ہے۔ ان کل ووٹرز میں سے پنجاب میں 6کروڑ 6لاکھ ، 72ہزار 870، سندھ میں 2کروڑ 23لاکھ 91ہزار 244، کے پی سابقہ فاٹا میں ووٹرز کی تعدا د ایک ایک کروڑ 78لاکھ 26ہزار 453جبکہ بلوچستان میں 42لاکھ 99ہزار 494اور اسلام آباد میں 7لاکھ 65ہزار 623 ہے۔ اقلیتی ووٹرز 36لاکھ 30ہزار ہیں، جن میں ہندو ووٹرز 17لاکھ 70ہزار ، مسیحی 16لاکھ 40ہزار ، سکھ 8ہزار 852 ، پارسی 4ہزار 235اور بدھ مت کو ماننے والے ووٹرز کی تعداد 18سو 84ہے۔ تمام متزکرہ ووٹرز ملک بھرمیں 85ہزار 307 پولنگ ا سٹیشنز میںحق رائے استعمال کرسکیں گے۔ مردوں کیلئے 23ہزار424، خواتین کیلئے 21ہزار 707اسی طرح مشترکہ 40ہزار 133 پولنگ اسٹیشنز ہیں۔وفاق اور چاروں صوبوں میں نگراں حکومتوں نے الیکشن کمیشن کوتمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی ہیں پاک فوج کے جوان محفوظ پرامن انتخابات کے لئے ملک بھر میں پہنچ گئے ۔ آئین کے مطابق انتخابات کی نگرانی اور اسکے منصفانہ اور شفاف انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا فرائض میں شامل ہے جب کہ نئی قانون سازی کے زریعے الیکشن کمیشن بہت زیادہ خود مختار اور آزاد ادارہ بنایا گیا ہے، اسے وہ اختیارات حاصل ہیں جو آج تک 70 سالہ تاریخ میں حاصل نہیں ہوئے ۔ اس ایکٹ کے تحت تمام ادارے الیکشن کمیشن کے احکامات پر عملد رآمد کے پابند ہیں۔ ساڑھے 12ہزار امیدوار الیکشن میدان میں ہیں۔ انتخابی منشور بھی جاری کئے گئے ۔الیکشن کمیشن نے 85ہزار میں سے 17ہزار پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیئے ہیں ،قیام امن کے لئے تین لاکھ 71ہزارفوج کے جوان ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر تعینات ہونگے ۔ سیکورٹی کے بڑے پیمانے پر انتخابی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ تقریبا ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین الیکشن ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ، پونے چار لاکھ فوج کے نوجوان اور چار لاکھ پولیس فورس الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہے ۔ رپورٹ کے مطابق چالیس ہزار سے زائد پاکستانی فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے جا چکے ہیں جبکہ 80ہزار قیدی جیلوں میں قید ہیں۔ یہ ووٹ پول نہیں ہوسکیں گے ۔ 18لاکھ پوسٹل بیلٹ پیپر بھی چھاپے گئے تھے معلوم نہیں ہوسکا۔ 18لاکھ میں سے کتنے پوسٹل بیلٹ استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک 58لاکھ اہل پاکستانی ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہیں ۔

Scroll To Top