پمز میڈیکل بورڈ کا مسلسل دوسرے روز نواز شریف کا اڈیالہ جیل میں معائنہ

  • نواز شریف کومستقل طبی نگرانی کی اشد ضرورت ہے، طبی ماہرین کی سفارش

پمز میڈیکل بورڈ

راولپنڈی(این این آئی)پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل میں نواز شریف کا دوبارہ طبی معائنہ کیا اور ان کے خون اور یورین کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوا دیئے گئے ، جہاں سے رپورٹ آنے کے بعد سابق وزیراعظم کی ہسپتال منتقلی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔پمز کے ڈاکٹروں کی ٹیم تقریبا ڈھائی گھنٹے تک اڈیالہ جیل میں موجود رہی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی صحت سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا اس سے قبل میڈیکل بورڈ نے سفارش کی تھی کہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کومستقل طبی نگرانی کی اشد ضرورت ہے۔واضح رہے کہ پرسوں رات اڈیالہ جیل میں نواز شریف کی طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر اظہر کیانی اور ڈاکٹر حامد شریف خان نے ان کا طبی معائنہ کیا جس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں اسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم سابق وزیراعظم نے جیل میں ہی درکار طبی سہولیات فراہم کرنے پر اصرار کرتے ہوئے ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کردیا۔جیل میں ہونے والے طبی معائنے کے بعد میڈیکل رپورٹ کے مطابق زیادہ پسینے کی وجہ سے نواز شریف کے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے ، گرمی اور کم نیند نے بھی ان کی صحت کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نواز شریف کے جسم میں پانی کی کمی کے باعث گردے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو ان کے دل کا مرض بڑھ سکتا ہے۔میڈیکل رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کہ صورتحال کے پیش نظر نواز شریف کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جائے جس کے بعد آئی جی جیل خانہ جات کی درخواست پر پمز ہسپتال کا ایک 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے گزشتہ روز 2 گھنٹے سے زائد وقت تک نواز شریف کا طبی معائنہ کیا تھا۔پمزہسپتال کے میڈیکل بورڈ کے انچارج ڈاکٹر اعجاز قدیر ہیں ، بورڈ کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر شجیع صدیقی، ڈاکٹر نعیم ملک، ڈاکٹر سہیل تنویر اور ڈاکٹر مشہود شامل ہیں۔یاد رہے کہ 6 جولائی کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال اور 80 لاکھ پاو¿نڈ جرمانہ، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 سال قید اور 20 لاکھ پاو¿نڈ جرمانہ جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

Scroll To Top