چین غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے ایک بہتر پر کشش منزل ہے۔

(خصوصی رپورٹ)
People’s Daily

سرمایہ کاریعالمی سطع پر براہ راست سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کے باوجود چین غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک بہتر اور پرکشش ماحول رکھتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول اور استعمال کے حوالے سے بھی چین ایک بہتر اور مثبت شہرت اختیار کر رہا ہے، گزشتہ سال2017میں چین نے دنیا بھر سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے136بلین ڈالر حاصل کیے جو کسی بھی ملک کی جانب سے ایک تاریخی ریکارڈ ہے اورUNCTADکی جانب سے رواں سال2018کی پہلی ششماہی کے حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں مثبت انداز میں بہتری نظر آ رہی ہے اور قومی امید ظاہر کی گئی ہے کہ رواں سال غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں ایک بار پھر نمایاں بہتری کی نوید ہے۔چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے بہتر ماحول کی بنیادی وجہ چین کی تیزی سے پھیلتی بڑی مارکیٹ ہے، دوسری جانب چین کا صنعتی ڈھانچہ تیزی سے بڑھتی معاشی ڈیویلپمنٹ کیساتھ مطابقت اختیار کر رہا ہے جس کیوجہ سے ہائی کولٹی سروسزبشمول میڈیکل کئیر، فنانشل پراڈکٹس اور ثقافتی مواصلات کی مانگ میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف انٹر نیشنل بزنس اوراکنامکس کے پروفیسر سانگ بائیچوان کے مطابق اس صورتحال میں بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیز کے پاس مستقبل میں بہتر اور مستحکم مواقع حاصل کرنے کے لیے پرکشش حالات موجود ہونگے۔BPچائینہ کے مطابق چائینیز مارکیٹ میں بہتر اور آگے بڑھنے کے حوالے سے بہت سے مواقع موجود ہیں اور اس حوالے سے وہ بہت پر امید ہیں اور چین میں خاطر خواہ انداز میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں ، اس حوالے سے BPچائینہ کے ساتھ منسلک ایک زمہ دار عہدیدار نے کہا کہ BPچائینہ ملک میں پراڈاکٹس کے حوالے سے بہت سے نئے تجربات کر رہا ہے تاکہ صارفین کو جدت پسندی اور سہولت کے حوالے سے ایک حسین امتزاج مہیا کیا جا سکے، انہوں نے کہا کہ آئیندہ پانچ سال میں چین میں ایک ہزار سے زائد نئے گیس اسٹیشنز متعارف کروائیں جائیں گے جہاں صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اسی طرح سے ایک حالیہ فنانشل رپورٹ کے مندرجات کے مطابق چین کی بڑی مارکیٹ پوٹینشل کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ منافع کے مواقع حاصل ہیں ، امریکہ کی سرکردہ کافی کمپنی سٹاربکس نے ہر گزرتے سال میں منافع کی شرح میں تیس فیصد سالانہ نفع کمایا ہے اور عالمی سطع پر اس سٹور کی نئی فرنچائزز می چھ فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے، جو دنیا بھر کے مقابلے میں نمایا ں اضافہ ہے اس طرح سے چین سٹاربکس کی فرنچائزز اور نفع کے حوالے سے دوسرا بڑا ملک ہے اور یہ ہی وہ محرک ہے جس سے غیر ملکی کمپنیز چین کی جانب سرمایہ کاری کے لیے تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ، اس تناظر میں چین کی وزارتِ کامرس کے ڈپٹی ڈائریکٹربائی منگ نے کہا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں چین کی مارکیٹ نے غیر ملکی فنڈنگ پر مبنی کمپنیز کو بہت حد تک مستحکم کیا ہے، چین کی وزارتِ کامرس کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق سہولت کاری اور کھلے ماحول کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار چین میں بہت سے شعبوں میں بنا کسی روک ٹھوک کے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ، گزشتہ ماہ جون میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے منفی فہرست کے نام ایک ایسی لسٹ کا اجراں کیا گیا ہے جس میں ان عوامل کا زکر کیا گیا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے کسی بھی قسم کے منفی اقدامات ثابت ہو سکتے ہیں اور اس نئی فہرستک کے مطابق ایسے بائیس ایریاز کی نشاندہی کی گئی ہے جو کسی بھی قسم کی روک ٹوک ی اممکنہ مشکلات سے متعلق تھیں اس طرح سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالےسے ان تمام ممکنہ مشکلات کو سہولیات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس طرح سے اس فہرست کے حالیہ اجراں کے بعد پیپلز بینک آف چائینہ کو ایک برطانوی کمپنی ورلڈ فرسٹ کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی جو تھرڈ پارٹی پیمنٹ مارکیٹ میں شمولیت کی خواہاں تھی، یوں ٹیسلا (شنگھاہی) کمپنی لمیٹڈ ایسی غیر ملکی پہلی کار کمپنی کا اسٹیٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جو چین میں غیر ملکی مالکانہ حقوق کیساتھ فعال ہوئی۔ اس طرح سے شفاف اور سہولت کار سرمایہ کاری ماحول چین میں غیر ملکی کمپنیز کے پھیلاﺅ اور اعتماد کو کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے، اس طرح ایک حالیہ سروے کے مطابق ساٹھ فیصد غیر ملکی کمپنیز نے چین کو سرمایہ کاری کے حوالے سے موجود سہولیات کے حوالے سے ایک آئیڈیل اور پر کشش منزل قرار دیا ہے اور ان دس فیصد کمپنیز نے رواں سال2018میں چین میں اپنی سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کا بھی عندیہ دیا ہے اور اس حوالے سے وہ کمپنیز بہت پر عزم ہیں ، امریکن چیمبر آف کامرس کی رپورٹ کے مطابق جو چین سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں غیر ملکی سرمایہ کے حوالے سے چین کو ایک آئیڈیل منزل قرار دیا ہے۔ عالمی معیشت کی بحالی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے جو اقدامات چین جاری رکھے ہوئے ہے یہ اقدامات بہت مثبت انداز میں ثمرات کو سامنے لا رہے ہیں ، اگرچہ بین الاقوامی سطع پر اعلی معیار اور کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے سخت مسابقتی ماحول ہے، تاہم اس حوالے سے بھی چین نے اعلی سطع پر صنعتی سپورٹنگ صلاحیت متعارف کروائی ہیں ، اس ضمن میں چین کی وزارتِ کامرس کے ترجمان گاﺅ فینگ نے کہا ہے کہ چین انسانی وسائل کے حوالے سے اعلی معیار، بہتر کارکردگی، بزنس کے حوالے سے بہتر اور مثبت ماحول اور ایک بڑی مارکیٹ کی صلاحیت کے ساتھ اپنے سرمایہ کاروں کو ایک آئیڈیل ماحول فراہم کر رہا ہے، اس ضمن میں چین اس حوالے سے بہت پر امید ہے کہ کس طرح سے غیر ملکی سرمائے کو اعلی اور بہترین ہائی کوالٹی ڈیویلپمنٹ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ چین ہمیشہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک آئیڈیل منزل رہا ہے۔

Scroll To Top