اللہ ملک کو ایسا حکمران دے جو عمر ثانی کے نقش قدم پر چلے: چیف جسٹس ثاقب نثار کی دعا

  • وعدہ کیا تھا کہ جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دوں گا، الیکشن وقت پر ہوں گے جو کہ ہو رہے ہیں، بدقسمتی سے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب تک طاقت ور عدلیہ موجود ہے ملک پر اللہ کا فضل رہے گا،جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہوں گی،تقریب سے خطاب
  • کسی سے نا انصافی نہیں کرینگے،جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہوگا، اگر آپ اس معاملے پر پٹیشن دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، اس معاملے پر پہلے ہی نوٹس لیا جا چکا ہے، جسٹس صدیقی کے متنازعہ بیان پر ازخود نوٹس لینے سے متعلق درخواست پر دوران سماعت پٹیشنرز سے مکالمہ

چیف جسٹس ثاقب نثارلاہور (ا ین این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اللہ کرے عام انتخابات کے نتیجے میں اس ملک کو ایماندار وزیراعظم نصیب ہو،قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ ہے جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دوں گا، عدلیہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کو قائم رکھے گی اور جمہوریت کا علم بلند رکھے گی،عدلیہ کی بدنامی پاکستان کے لیے المناک دن ہو گا اور اگر ہمارا ادارہ کمزور پڑ گیا تو ملک کی بقاءمشکل ہو جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے لاہور میں جسٹس (ر) فخر النسا کھوکھر کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں چھوٹا انسان ہوں مجھ میں تکبر نام کی کوئی چیز نہیں، میں نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ناانصافی نہیں کی بلکہ عملی طور پر لوگوں کو انصاف دینے کی کوشش کی لیکن مجھے دکھ ہے کہ ہمارے ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، ہمارے ادارے کے خلاف ایسے الزامات عائد کیے جاتے ہیں جس سے یہ کمزور ہوتا ہے اور خدا نخواستہ ایسا ہوگیا تو پاکستان کی بقاءمشکل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دوں گا اور الیکشن ہوں گے اب الیکشن ہو رہے ہیں، یہ ہے عدلیہ کی طاقت، اسٹیٹس اور پوزیشن جبکہ عدلیہ کی طاقت سے آئین اور جمہوریت ملک میں قائم رہے گی۔دعا گو ہوں اللہ تعالی اس قوم کو ایک اچھا لیڈر عطا فرما دے جو عمر فاروق جیسے اقدامات کرسکے ۔وہ چاہے کسی بھی پارٹی سے ہو کیونکہ جب اچھا لیڈر بھاگ دوڑ سنبھالے گا تو ہمیں مشکلات سے چھٹکارا دلائے گا۔ جب اچھا لیڈر ملے گا تو ہمیں جوڈیشل ایکٹوزم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب عہدہ سنبھالا تو بچوں کا دودھ تک خالص نہیں مل رہا تھا، بنیادی حقوق جیسے ایکٹوازم کا حامی نہیں تھا لیکن خلا پر کرنے کے لیے جوڈیشل ایکٹوازم کی طرف آنا پڑا، بچوں کے دودھ اور کمی کی قلت سے کام شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے بغیر کوئی زندگی نہیں اور ڈیم کسی سازش کے تحت بننے نہیں دیا گیا، چین کے ساتھ مل کرکام ہو رہا ہے کہ ہوا سے بھی پانی حاصل کیا جا سکے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہماری 15دن کی کوشش سے بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کا آغاز ہوا، ان ڈیموں کے بننے سے پاکستان میں بہتری آئے گی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس طاہرہ صفدر کو بلوچستان ہائی کورٹ کی اگلی چیف جسٹس نامزد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کی اگلی چیف جسٹس خاتون ہوں گی ،یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس خاتون ہوں گی۔ دریں اثناءچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے متنازعہ بیان پر ازخود لینے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے،فاضل جج جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہوگا۔گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے متنازعہ بیان کے خلاف از خود نوٹس لینے کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی گئی ۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہوگا، کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے عدالت کے اندر آئین سے اپنا حلف پڑھ کر بھی سنایا۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے خلاف کچھ نہیں ہو رہا، جب تک طاقتور عدلیہ موجود ہے ملک پر اللہ کا فضل رہے گا، اگر آپ اس معاملے پر پٹیشن دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں، اس معاملے پر پہلے ہی نوٹس لیا جا چکا ہے، میں اس معاملے پر از خود نوٹس نہیں لے رہا۔درخواست گزار نے موقف پیش کیا کہ جسٹس شوکت صدیقی ،نواز شریف کے قریبی ساتھی اور عرفان صدیقی کے عزیز ہیں، وہ عدلیہ کے مخالف اور سیاسی ایجنڈے کے حامل ہیں، ان کی متنازعہ تقریر سے لگتا ہے کہ وہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اپیل کی سماعت کرنا چاہتے تھے۔درخواست کے متن میں ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے ملکی ادارے کے خلاف بیان دیا جو ان کے اپنے حلف کی خلاف ورزی اور ملکی وفاداری سے روگردانی کے مترادف ہے، جسٹس شوکت صدیقی اپنے عہدے پر برقرار رہنے کی اہلیت کھو چکے ہیں لہٰذا اعلی عدلیہ ان کے خلاف کارروائی کےلئے ازخود نوٹس لے۔

Scroll To Top