جسٹس صدیقی کا فوج مخالف خطاب: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے رائے طلب

  • جسٹس محمد انور خان کاسی اپنی رائے کےساتھ دستیاب شواہد چیف جسٹس کو بھجوائیںجو شواہد ،مواد کا جائزہ لےکرمناسب کارروائی کرینگے،رجسٹرار سپریم کورٹ
  • لاہورئیکورٹ بار کا شوکت عزیز صدیقی کے ٹرائل کا مطالبہ، راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کا جج کے الزامات سے اظہار لا تعلقی

اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ( الاخبار نیوز)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کے معاملے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے رائے طلب کر تے ہوئے لگائے گئے الزامات سے متعلق شواہد اور مواد بھی دینے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے عائد کئے جانے والے الزامات کے سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس محمد انور خان کاسی سے رائے طلب کرلی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامئے کے مطابق چیف جسٹس نے جسٹس محمد انور خان کاسی سے کہا ہے کہ وہ اپنی رائے کے ساتھ دستیاب شواہد چیف جسٹس پاکستان کے دفتر بھجوائیں۔اعلامئے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان شواہد اور مواد کا جائزہ لے کرمناسب کارروائی کریں گے جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو چیف جسٹس پاکستان کے احکامات سے آگاہ کر دیا ہے۔ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ اور ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔دریں اثناءپاکستان بار اور لاہور ہائیکورٹ بار نے متنازعہ بیان پر جسٹس شوکت صدیقی کے ٹرائل کا مطالبہ کردیا ہے۔صدر ہائیکورٹ بار انوار الحق پنوں نے کہا ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کو کسی نے اس طرف راغب کیا ہے۔ ان کے پاس دیگر آپشن موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ادھرڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے عدالتی معاملات میں سیکیورٹی اداروں کی مداخلت سے متعلق تقریر کی مذمت کرتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خرم مسعود کیانی اور جنرل سیکریٹری راجا عامر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو نوجوان وکلا کے لیے قانونی اخلاقیات پر لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا تاہم انہوں نے تقریر کے دوران اداروں کی تضحیک شروع کر دی۔راولپنڈی بار کے صدر و جنرل سیکریٹری نے کہا کہ بار عہدیدارن اداروں کے خلاف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کی مذمت کرتے ہیں اور ان کی تقریر کا بار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Scroll To Top