اس آزادی کا ذکر امریکی آئین میں نہیں لیکن ۔۔۔ 29-08-2013

kal-ki-baat
صبح صبح دنیا نیوز پر مشہور صحافی رﺅف کلاسرہ اور مشہور دانشور سعید قاضی کے درمیان ایک مباحثہ سننے کا اتفاق ہوا۔ سعید قاضی حقیقی معنوں میں اُس انقلابی فکر کے پرچم بردار ہیں جس کے بطن سے ”شی گویرا جیسے پرستاراِنِ پرولتاریہ “ نے جنم لیا تھا۔ رﺅف کلاسرا مادی دنیا کے ٹھوس زمینی حقائق کو آئینہ دکھانے والے ایک ذہین تجزیہ نگار ہیں۔
ایک کی تان اس با ت پر ٹوٹتی ہے کہ آج کرہ ءارض پر جو جو بھی انسانی المیے جنم لے رہے ہیں ان کے پیچھے سرمایہ پرست امریکہ کی مادر پدر آزاد ” ہوسِ زر “ ہے۔
دوسرے کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ ہم اپنی ہر محرومی ہربے بسی اور ہر بداعمالی کا الزام تو امریکہ پر ہی لگاتے ہیں لیکن اپنی بقاءاور فلاح کے لئے دستِ سوال بھی امریکہ کی طرف ہی بڑھاتے ہیں۔
آج صبح بھی رﺅف کلاسرا یہی فرما رہے تھے کہ اگر امریکہ ہماری جھولی بھرنے کے لئے آئی ایم ایف والوں کو ہماری طرف نہ بھیجے تو ہم دیوالیہ پن کی آخری حدود عبور کرنے میں زیادہ دیرنہ لگائیں۔
جواب میں سعید قاضی کہہ رہے تھے کہ ہمیں اس حال تک پہنچایا بھی امریکہ کی” نوازشات “ نے ہی ہے۔ امریکہ جب چاہے ہمیں استعمال کرکے پھینک دیتا ہے اور جب چاہے ہمیں دوبارہ استعمال کرنے کے ارادے سے اٹھا لیتا ہے۔
باتیں دونوں ہی درست ہیں مگر میرا خیال ہے کہ امریکہ کو جاننے اور سمجھنے کے لئے نوم چومسکی کا مطالعہ ضروری ہے۔
یہ بات نوم چومسکی نے چار دہائیاں قبل لکھی تھی کہ امریکہ کو وہ تمام آزادیاں بے حد عزیز ہیں جن کا ذکر امریکی آئین میں موجود ہے۔ مثال کے طور پر رائے کی آزادی ۔ عمل کی آزادی۔ عقیدہ کی آزادی۔ کاروبار کی آزادی اور انتخاب کی آزادی۔لیکن ایک آزادی ایسی بھی ہے جس کا امریکی آئین میں کوئی ذکر تو نہیں پرامریکہ کو جو سب سے زیادہ عزیز ہے۔
پوری دنیا کی دولت کو لوٹ مار کے ذریعے اپنے قبضے میںلینے اور اپنے قبضے میں رکھنے کی آزادی!

Scroll To Top