پیٹ چیر نا کوئی قبیح فعل نہیں ` قبیح فعل خاموشی اور بے بسی سے کسی بھوکے اور بیمار کو تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھنا ہے۔۔۔

aaj-ki-baat-new

آج میرے پاس موضوعات کا انبار ہے۔ سب کا تعلق 25جولائی 2018ءکو ہونے والے اُن عام انتخابات سے ہے جن میں اِس بدنصیب قوم کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ کسی بھی قوم کے لئے اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی ایک اعلیٰ عدالت کا چیف جسٹس اس ملک کے ایسے غداروں کے ساتھ مل کر سازشیں کررہا ہو جو اس ملک کے ازلی دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔۔۔؟
چونکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار اِس بدبخت کے شرانگیز بیانات کا نوٹس لے چکے ہیں اور چونکہ ہماری فوج کے ترجمان نے ریکارڈ پر سپریم کورٹ سے مطالبہ کردیا ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کی ہرزہ سرائی کی تحقیقات کرائے ` اس لئے میں اس موضوع کو اِن ہی الفاظ تک محدود رکھوں گا کہ جس شخص نے اتنے بڑے منصب کی توہین کی ہے جس پر وہ فائز اس کی سزا دوسروں کے لئے باعث عبرت بننی چاہئے۔
میرے دوسرے موضوع کا تعلق ان اطلاعات سے ہے کہ جیل میں دوسرے مجرموں کے موازنے میں بہت بہتر سہولتیں رکھنے کے باوجودمیاں نوازشریف کو صحت کی خرابی کی شکایت ہونے لگی ہے اور اپنے طبی معائنے کے لئے وہ ایک ایسے ڈاکٹر کا مطالبہ کررہے ہیں جو انہیں بھی وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی سفارش کرے۔
اگر میاں نوازشریف صرف ایک عدد بھینس یا بکری چرانے والے قیدی ہوتے تو اب تک وہ اپنی سلامت رہ جانے والی ہڈیاں اور پسلیاں گن رہے ہوتے۔ مگر ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہوں نے اربوں کی چوری کی ہے اور قانون ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کو ان کے شایان شان دیکھنا چاہتا ہے۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف نے ایک جلسے میں بڑے جوشیلے اور غضبناک انداز میں کہا تھا کہ وہ ” زرداری صاحب کا پیٹ چیر کر قومی خزانے سے چرایا ہوا مال نکالیں گے ۔۔۔“
گویا چرایا ہوا مال برآمد کرنے کے لئے پیٹ چیرنے کے عمل کو خود ایک معتبر ” شریف “ جائز قرار دے چکا ہے۔
میاں صاحب جس مال کو چرانے کی پاداش میں دس سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں وہ انہوں نے ایک چوتھائی صدی قبل چرایا تھا `چرا کر باہر لے گئے تھے اور اپنی اولاد کے نام پر لندن میں جائیداد خریدی تھی۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ جب وہ اتنی بڑی چوری کررہے تھے تب وہ قوم کو تلقین یہ کررہے تھے کہ ملک کا پیسہ ملک سے باہر نہ لے کر جاﺅ اور اسے ملک کی ترقی کے لئے ہی استعمال ہونے دو۔
تب سے اب تک میاں صاحب نے کتنی چوریاں کی ہیں اور کتنا مال چرا کر باہر لے گئے ہیں ` کوئی نہیں جانتا۔
لیکن اگر میاں شہبازشریف کے نسخے پر عمل کرلیا جائے اور ان کے بڑے بھائی کا پیٹ چیر کر دیکھا جائے کہ وہاں کتنے سو ارب کا مال چھپا ہوا ہے تو جسٹس ثاقب نثار کو ڈیموں کی تعمیر کے لئے چندوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔جہاں تک زرداری صاحب کا تعلق ہے انہیں اِس عمل سے گزرنے پر اعتراض اِس لئے نہیں ہوگا کہ وہ خود اپنے بقول عدالتوں سے اپنی معصومیت کی سندیں حاصل کرچکے ہیں۔
میرے خیال میں ہر بھاری بھر کم پیٹ کو ضرور چیر کر دیکھا جانا چاہئے کہ اندر کتنا مال چھپا ہوا ہے۔
اور عقل یہ کہتی ہے کہ میاں برادران اور زرداری فیملی کے اردگرد موجود رہنے والے اصحاب میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کا پیٹ سرجری کی دعوت نہ دے رہا ہو۔
فیض احمد فیض نے اُس وقت کی بات کی تھی جب تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے ۔ مگر ہمیں انتظار ہے اُس وقت کا جب بڑے بڑے پیٹ چیرے جائیں گے اور اندر سے ڈالروں کے انبار برآمد ہوں گے ۔
ہمیں ڈالروں کی ضرورت ہے۔
ہمیں قرضے ادا کرنے ہیں۔
ہمیں ڈیم بنانے ہیں۔
ہمیں عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں مہیا کرنی ہیں۔
ہمیں ترقی کی رکی ہوئی گاڑی میں پٹرول ڈالنا ہے۔
ہمیں پیسہ چاہئے۔۔۔ اور پیسہ جس جس پیٹ میں چھپا ہوا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔
پیٹ چیرنا کوئی قبیح فعل نہیں ۔ قبیح فعل بھوک اور بیماری سے تڑپ کر مرنے والے کو خاموشی اور بے بسی سے مرتے دیکھنا ہے۔
25جولائی کو آپ ووٹ کس کو دیں گے ؟
اس پیٹ کو جس میں قوم کے چرائے گئے خزانے دفن ہیں۔۔۔؟
یا اس نشتر کو جس سے ایسے پیٹ چیرے جاتے ہیں ۔۔۔؟

Scroll To Top