مسلم لیگ ن کا بیانیہ مشکلات کا شکار !

zaheer-babar-logo

نگران وزیر اطلاعات کا یہ کہنا غلط نہیںکہ عام انتخابات میں قومی اداروں پر مداخلت کا الزام بڑی حد تک سیاسی ہے۔“اس میں شک نہیں پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کے ہم خیال حلقے پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد ”سازش“ کی دہائی دے رہے۔چونکہ میاں نوازشریف اور ان کے بچے کروڈوں نہیں اربوں روپے کی جائیداد خریدنے کے لیے منی ٹریل نہ دے سکے لہذا وہ قومی اداروں کو ہی ہدف بنا رہے۔ یقینا میاں نوازشریف کی سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اقتدارسے محرومی نے اس مہم میں شدت لائی جو اب بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری وساری ہے۔

25جولائی کے الیکشن کو اب دن نہیں گنتی کے چند گھنٹے رہ گے چنانچہ پی ایم ایل این کے پالیسی ساز پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے زریعہ یہ دہائی دے رہے کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی کسی اور جرم میں نہیںبلکہ جمہوریت کی بالادستی کی کوشش میں جیل کی سلاخوں کے پچھے ہیں چنانچہ مسلم لیگ ن کو ووٹ دے کر ان کی اس ”قربانی“ کا صلہ دیا جاسکتا ہے ۔ پی ایم ایل این کے پرویز رشید ٹائپ عناصر ملکی وبین الاقوامی سطح پر قومی اداروں کے خلاف مہم پرپا کیے ہوئے ہیں سمجھ لینا چاہے کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ دفاعی اداروں کے خلاف ملکی وعالمی سطح پر ہرزہ سرائی کرنے والے مسلم لیگ ن کے ہم خیال دیکھائی دے رہے ۔
عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے قائد کا بیانیہ کس حد تک پذائری حاصل کرسکتاہے اس سلسلہ میںپیشن گوئی کرنا مشکل ہے مگر واقفان حال کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف ان کی صاحبزادی اور دیگر رفقاءنے بد عنوان کے معاملہ کو جس طرح آئین اور جمہوریت کے جنگ بنا دیا اس کی تحیسن کرنے والے کم ہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کا مسلہ یہ بھی ہے کہ وہ گذشتہ دس سال سے تواتر کے ساتھ پنجاب پر حکمران ہے مگر حالت یہ ہے کہ پانچ دریاوں کی سرزمین میں ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں کے رہنے والوں کو بنیادی ضروریات زندگی مکمل طور پر میسر ہوں۔ مثلا لاہور جس پر سابق خادم اعلی نے کروڈوں نہیں اربوں روپے خرچ کرڈالے وہاں بھی چند گھنٹے کی بارش ندی نالوں کا منظر پیش کرتی ہے۔مذید یہ کہ ماہرین کا خیال ہے کہ 2025 میں اہل لاہور کے لیے پینے کا صاف پانی بھی دسیتاب نہ ہوگا۔
افسوس ہے کہ کم وبیش 35سال تک قومی سیاست میںبالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر متحرک رہنے والے میاں نوازشریف بدلے ہوئے پاکستان کا ادراک نہ کرسکے۔ نوازشریف اور شبہازشریف شائد یہ سمجھتے رہے کہ وہ نسل درنسل پنجاب کے علاوہ وفاق پر حکومت کرتے رہیں گے اور ان سے بازپرس نہیں کی جائیگی مگر شائد ایسا نہ ہوسکا۔
2018 کے عام انتخابات اس لحاظ سے اہمیت اختیار کرگے کہ بظاہر وہ مسلم لیگ ن حامی بیوروکریسی اور ان کے ہم خیال ججوں کے اثرورسوخ سے دور ہیں۔ پنجاب اور وفاق کی نگران حکومت نے ممکن حد تک کوشش کی کہ کسی طور پر وہ جانبدار نظر نہ آئے۔ یقینا نگران وزیر اعظم ناصر الملک بطور چیف جٹس جس طرح شریف بردارن کے حوالے سے فیصلے دے چکے ان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا مگر پنجاب کے نگران وزیر اعلی حسن عسکری بڑی حد تک ایسے الزامات ہیں۔
مسلم لیگ ن کو سمجھ لینا چاہے کہ قومی سیاست جس تیزی سے تبدیل ہورہی اس میں کارکردگی دکھائے بغیر بات نہیں بنے والی۔پاکستان کا عام شہری جس طرح سیاسی شعور سے آشنا ہورہا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ 2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو دیگر عوامل کی مدد کے ساتھ ساتھ کامیابی اس لیے بھی میسر آئی کہ سابق وزیر اعظم دہائی دیتے رہے کہ ان کے پاس تجربہ کار ٹیم ہے جس قومی مسائل پوری دلجمی کے ساتھ حل کرلے گی مگر پانچ سالوں میں کچھ نہ بدلا۔
میاں نوازشریف اپنی اہلیہ کی بیماری کے بعد اب خود کو بیمار ظاہر کررہے۔ یقینا صحت اور تندرستی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے مگر سابق وزیر اعظم کی بیماری کی خبر سامنے آنے لانے کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا گیا وہ قابل غور ہے۔ مخالفین کے بعقول مسلم لیگ ن کئی دہائیوں سے سیاست میں ہے لہذا وہ باخوبی جانتی ہے کہ کس وقت کون سے کارڈ کھیل کر عوام کی توجہ حاصل کی جاسکتی ہے۔
آج میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے دیگر لوگوں کے خلا ف بدعنوانی کی تحیققات کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ باخبر حلقوں کا اصرار ہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی پارٹی جیتے مگر شریف خاندان کے خلاف جاری تحقیقات متاثر ہونے کا امکان نہیں یعنی مختصر یہ کہ میاں نوازشریف اور ان کے قریبی رفقاءکو سیاست اور کرپشن میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا۔
اس میں شک نہیں کہ سیاسی عصیبت آسانی سے ختم نہیں ہوا کرتی ، عوام ایک بار جس شخص کو اپنا ہیرو بنا لیں اسے دلوں کا نکالنا آسان نہیںہوا کرتا ۔ مسلم لیگ ن کا معاملہ یہ بھی ہے کہ یہ جماعت بہت سارے بااثر لوگوں کے لیے مفادات کے حصول کا زریعہ ہے۔ بظاہر ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پی ایم ایل این کا اثر رسوخ طویل عرصہ تک محسوس کیا جاسکتا ہے چنانچہ یہ جمہوریت ہی ہے جو لوگوں کو کسی ایسی جماعت کے اثر سے نکال سکتی ہے جو کئی دہائیوں تک ان کے لیے بہتری کا سامان پیدا نہ کرسکی۔

Scroll To Top