ناسا کا ایئر کرافٹ سورج کو چھونے کے لیے تیار

e

سورج اور زمین کے درمیان فاصلہ تقریباً 14 کروڑ 95 لاکھ اور 98 ہزار کلومیٹر ہے (فوٹو : فائل)

فلوریڈا: ناسا سورج کو چھونے کے لیے 6 اگست کو خصوصی اسپیس کرافٹ سولر پروب بھیجے گا۔

ناسا نے مریخ اور چاند کے بعد اب سورج کو چُھونے کی کوششیں شروع کردی ہیں جس کے تحت 6 اگست 2018 کو ایک خصوصی اسپیس کرافٹ سولر پروب لانچ کیا جائے گا جسے انتہائی طاقتور راکٹ ڈیلٹا 4 لے کر جائے گا جو عام ڈیلٹا کے مقابلے میں 55 گنا زیادہ توانائی رکھتی ہے۔ اسپیس کرافٹ سولر پروب پر 5 انچ کا کاربن کمپوزٹ سولر شیلڈ اسے سورج کی قہر ڈھانے والی شعاعوں اور حرارت سے محفوظ رکھے گا۔

پارکر سولر پروب مشن کے سائنس دان نکی فوکس نے  بتایا کہ گو کہ سورج پر تحقیق کا کام کافی عرصے سے جاری تھا تاہم اب اس پارکر سولر پروب کی وجہ سے سورج کی ساخت، افعال اور کردار کا مطالعہ کرے گا جس سے اہم معلومات حاصل ہونے کی امید ہیں اور ایسا انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے جا رہا ہے۔

ہائیڈروجن اور ہیلیم مل کر سورج کی سطح کو بناتے ہیں جس میں کمیت کے حساب سے ہائیڈروجن کا تناسب تقریباً 74 اور ہیلیم کا تناسب 24 فیصد ہے اس کے علاوہ دوسرے عناصر جیسے لوہا، نکل، آکسیجن، سیلیکان،سلفر، میگنیشیم، کاربن، نیون، کیلشیم اور کرومیم کی بھی معمولی مقدار موجود ہیں۔ دھوپ کی شکل میں سورج سے آنے والی توانائی ضیائی تالیف کے ذریعے زمین پر تمام حیات کو خوراک فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور زمین پر موسموں کی تشکیل میں بھی سورج کا اہم کردار ہوتا ہے۔

زمین سے 14 کروڑ 95 لاکھ اور 98 ہزار کلومیٹر فاصلے پر موجود سورج نظام شمسی کے مرکز میں واقع ایک سیارہ ہے جس کے گرد زمین سمیت دیگر سیارے، سیارچے اور دوسرے اجسام گردش کرتے ہیں جس کا حجم نظام شمسی کی کل کمیت کا تقریباً 99 فیصد ہے جب کہ سورج سے روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ اور 19 سیکنڈ لگتے ہیں۔

Scroll To Top