زندگی کا مقصد کیا ؟

aaj-ki-baat-new

روئے زمین پر پہلی ا نسانی قبر ہابیل کی بنی جسے اس کے بھائی قابیل نے شدید اشتعال کے عالم میں قتل کیا تھا۔ انسانی خون بہانے کا روئے زمین پر یہ پہلا واقعہ تھا اور اسے اگر انسانی تہذیب کا سب سے بڑا المیہ شمار کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ روئے زمین پر پہلا قتل ایک بھائی کے ہاتھوں دوسرے بھائی کا ہوا۔
بقول مشہور محقق کیرن آسٹرانگ کے ’ انسانی معاشرے میں قبر پرستی کا رحجان بھی اُسی دور سے شروع ہوتا ہے۔ مرنے والوں کے ساتھ ان کے عقیدت مندوں نے مافوق الفطرت روایات اور داستانیں منسوب کردیں۔ عام فانی انسانوں کو دیویوں دیوتاﺅں اور غیر معمولی صفات رکھنے والے ” خداﺅں“ کے سانچے میں ڈھال دیا گیا۔
کائنات تخلیق کرنے والے خدائے واحد کے بے شمار شریک پیدا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ قادرِ مطلق ہے ’ غیب حاضر ’ ماضی حال اور مستقبل کے بارے میںسب کچھ جانتا ہے اس لئے اس نے انسان کی تمام تر کمزوریوں کو سمجھتے ہوئے سب سے پہلے جس چیز کو گناہ کبیریٰ قرار دیا وہ ” شرک“ تھا۔ یعنی اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ ایسی صفات منسوب کرنا جو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مخصوص ہیں۔ مثال کے طور پرصرف اللہ تعالیٰ غیب کا علم جانتا ہے۔ کسی انسان کے ساتھ یہ صفت منسوب کرنا بہت بڑا شرک اوربہت بڑا گناہ ہے۔ اسی طرح صرف اللہ تعالیٰ ہی مولا ہے۔ کسی انسان کو مولا کہنا یا سمجھنا بھی شرک اور گناہ ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایک سچے مسلمان کی بنیادی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی ہر سوچ اور اپنے ہر عمل میں اللہ اور غیر اللہ کے درمیان موجود واضح فرق کو سامنے رکھتا ہے۔ مانگتا وہ اللہ سے ہے اور دعا کی صورت میں مانگتاہے۔ غیر اللہ سے مانگنے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔
میں عالمِ دین نہیں ہوں۔ بڑا حقیر اور کم علم آدمی ہوں۔ مگر مردِ مومن اور حقیقی مسلمان کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ ساری زندگی خداکی ذات کے سوا کسی کے بھی سامنے نہ جھکا جائے۔ مانگا جائے تو صرف خدا سے مانگا جائے۔ ڈرا جائے تو صرف خدا سے ڈرا جائے اور اگر عشق کیاجائے تو اس رجلِ عظیم ترین سے کیا جائے جنہوں نے ہمارا رشتہ خدائے واحد سے قائم کیا۔
زندگی کا مقصد کیا ۔؟
خوفِ خدا ۔ حبِ رسول ۔ شرک سے اجتناب۔

Scroll To Top