سپریم کورٹ نے جسٹس صدیقی کے شرانگیز الزامات کا نوٹس لے لیا:فوج نے تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کر دیا

  • ہم پر کسی قسم کا دباﺅ نہیں،قانون کی بالادستی کے تحت کام کررہے ہیں، بیانات ناقابلِ فہم و ناقابلِ قبول ہیں،جج کے بیان کا جائزہ لے کر قانونی کارروائی کرینگے ، حقائق عوام کے سامنے لائیں گے، چیف جسٹس ثاقب نثار
  • معزز جج نے عدلیہ سمیت ملک کے اہم ادارے پر سنگین الزامات لگا ئے ہیں، ملکی اداروں کے وقار اور تکریم کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے ، ڈی جی آئی ایس پی آ ر میجر جنرل آصف غفور

سپریم کورٹ نے جسٹس صدیقی کے شرانگیز الزامات کا نوٹس لے

کراچی/ اسلام آباد( ایجنسیاں)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی جو کہ نااہل وزیر اعظم نواز شریف کے دست راست پروفیسر عرفان صدیقی کے ایک قریبی رشتہ دار ہیں اور کرپشن الزامات کے تحت سپریم جو ڈیشنل کونسل میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں کی متنازعہ تقریر کا نوٹس لے لیاہے ،پیمر ا سے ان کے خطاب کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا ہے ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنے عدلیہ مخالف بیانات اور ملک کے اہم قومی اداروں میں تناﺅ اور اختلافات کی کیفیات پیدا کرنے کے لئے شہرت رکھتے ہیں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی آراءمیں وہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ ایک خاص رغبت اور تعلق رکھتے ہیں جس کی بنا پر وہ ن لیگ کی قیادت کی کرپشن الزامات میں سزا اور جیل یاترا کی وجہ سے خاصے متزبزب ہیں۔ تجزیہ نگاروں کی آراءمیں موصوف آئندہ انتخابات کو متنازعہ بنانے بنانے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں اور اسی بنا پر نہ صرف اپنے ادارے بلکہ ملک کی انتہائی محترم انٹلی جنس ایجنسی کے خلاف بھی تقاریر اور بیانات دینے میں مصروف عمل ہیں۔ یاد رہے کہ موصوف کو آئندہ چند روز میں سپریم جوڈیشنل کونسل میں پیش ہو کر اپنے خلاف کرپشن الزامات کو غلط بھی ثابت کرنا ہے جو کہ بظاہر مشکل نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ موصوف اپنا انجام دیکھتے ہوئے اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں ۔ ادھر چیف جسٹس سپریم کورٹ شوکت عزیز صدیقی کے خطاب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پر کسی قسم کا کوئی دباﺅ نہیں ،ہم قانون کی بالاد ستی اور آئین کے تحت کام کر رہے ہیں، اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا تو افسوس ہوا ، جج کے بیان پر قانونی کارروائی کرکے حقائق عوام کے سامنے لائیں گے۔اتوار کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے ایک جج کا بیان پڑھا جس پر بہت افسوس ہوا، عدلیہ کے سربراہ کے طور پر یقین دلاتا ہوں کہ ہم پر کسی کا دباﺅ نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پوری طرح آزاد اور خود مختار کام کررہے ہیں، کسی میں جرات نہیں کہ عدلیہ پر دبا ﺅڈال سکے، ہم پر کہیں سے کوئی دباﺅ نہیں، اس طرح کے بیانات ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہیں، جائزہ لیں گے کہ جج کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے حقائق قوم کے سامنے لائیں گے، میں سختی کے ساتھ واضح کررہا ہوں کہ ہم پر کوئی دباﺅ نہیں۔بعد ازاں سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے تقریر کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت سے متعلق ہائی کورٹ کے جج کی تقریر کا نوٹس لیا، جس میں جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی میں کی گئی تقریر میں عدالتوں میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔۔یاد رہے ہفتے کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیر صدیقی نے پاک فوج اور عدلیہ کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ آج کے اس دور میں خفیہ ادارہ پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور بار ایک گھر ہے اور یہ ایک ہی گھر کے حویلی میں رہنے والے لوگ ہیں لیکن عدلیہ کی آزادی سلب ہوچکی ہے ۔۔ دریں اثناءپاک فوج نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیزصدیقی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی ادراورں کے وقار اورتکریم کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر ے ۔ اتوار کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے گزشتہ روز کی گئی تقریرپر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے جج نے سیکیور ٹی ایجنسیوں پر سنگین الزامات لگائے ہیں ۔ معزز جج نے عدالت سمیت ملک کے اہم ادارے پر سنگین الزامات لگا ئے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے الزامات کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ ملکی اداروں کے وقار اور تکریم کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرے ۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گزشتہ روز راولپنڈی بار سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ موجودہ ملکی حالات کی 50 فیصد ذمہ داری عدلیہ اور باقی 50 فیصد دیگر اداروں پر عائد ہوتی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ا±ن سے کہا گیا کہ یقین دہانی کرائیں کہ مرضی کے فیصلے کریں گے تو آپ کے ریفرنس ختم کرا دیں گے اور انہیں نومبر کے بجائے ستمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنوانے کی بھی پیش کش کی گئی۔

Scroll To Top