عمران خان کی خواہش بلاوجہ نہیں

zaheer-babar-logo

عمران خان نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ وہ عام انتخابات میں مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ سکتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ وہ کسی بھی صورت میں پی پی پی سے انتخابی اتحاد کرسکتے ہیں۔ “
وطن عزیز جن مسائل سے دوچار ہے ان سے کامیابی کے ساتھ اسی وقت نمٹا جاسکتا ہے جب نئی آنے والی حکومت بھرپور سیاسی عزم سے سرشار ہو۔ افسوس صد افسوس کہ پی پی پی اور پی ایم ایل این کی حکومتوں نے جس غیر زمہ داری یا غفلت کا مظاہرہ کیا کہ وہ اپنی مثال آپ ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں نے یہ عوام کو یہ امید دلائی تھی کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو لوگوں کی مشکلات میں نمایاں کمی لانے کے لیے اقدمات اٹھائیں گی مگر باجوہ ایسا نہ ہو۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وطن عزیز کی بیشتر سیاسی جماعتیں جمہوریت کا مخصوص تصور رکھتی ہیں یعنی قائدین کے خیال میں جمہوری نظام وہی ہے جس میں وہ ان کا خاندان یا پھر اس کے قریبی رفقاءاپنے مالی مفادات کو کئی گنا بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں یہی کھیل جاری وساری رہا مگر اب باآسانی ایسا ہونا ممکن نہیں نظرآرہا۔ عام پاکستانی جمہوری نظام سے بتدریج آگاہ ہورہا۔اسے یقین ہوچلا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رائج طور طریقوں سے اس کی مشکلات میں کمی نہیںہونے والی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی آدھی آبادی غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزار رہی۔آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ کروڈوں پاکستانیوں کو پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔
اب تک یہی ہوتا چلا آیا کہ غیر متنازعہ احتساب کا عمل شروع نہیںکیا جاسکا۔ وجہ یہ کہ طاقتور طبقات کا اس انداز میں باہم مک مکا رہا کہ وہ ایک دوسرے کو تحفظ دینے کے عمل میں پوری طرح شریک رہے۔ عمران خان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے پوری قوت کے ساتھ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان غیر اعلانیہ معاہدہ کو بے نقاب کردیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کی قیادت اندرون خانہ معاہدہ تھا کہ باری باری وفاقی حکومت کے مزے لیے جائیں۔ مذید یہ بھی طے ہوا کہ کسی صورت ایک دوسرے کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچیں۔
پانامہ لیکس نے دراصل دونوں سیاسی جماعتوں کا کھیل خراب کردیا۔ میاںنوازشریف اور ان کے بچوں کے مالی اثاثہ جس طرح بین الاقوامی مالیاتی سکینڈل میں بے نقاب ہوئے اس سے مسلم لیگ ن کی مشکلات میں تو اضافہ ہوا ہی مگر پی پی پی کے معاملا ت بھی خراب ہوگے۔ یقینا ماضی کے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ممکن حد تک کوشش کی کہ میاں نوازشریف کو اس بحران سے بچا لیا جائے مگر خود سابق وزیر اعظم حالات کا درست جائزہ لینے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ پی پی پی اس سے زیادہ مسلم لیگ ن کی کیا مدد کرتی کہ اس نے پانامہ لیکس کے معاملہ کو پارلمینٹ میں حل کرنے کی بھرپور حمایت کی ۔اس ضمن میں اسحاق ڈار کی سربراہی میںپارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس بھی ہوتا رہا مگر پھر میاں نوازشریف نے ایک طرف پارلمینٹ میں اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں سے متعلق تقریر کرڈالی تو ساتھ ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط بھی لکھ ڈالا ۔ میاں نوازشریف یہ نہ جان سکے کہ موجودہ عدالت عظمی ماضی کے طور طریقوں کو کسی طور پر قبول نہیںکرنی والی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے معاملہ میں پوری قوت سے احتجاج کرنا شروع کردیا ۔ اسلام آباد میں ان کی احتجاجی مہم کے نتیجہ میں سپریم کورٹ میدان میں آئی اور دونوں فریقوں سے تحریر ضمانت حاصل کی گی کہ وہ عدالت عظمی کا فیصلہ قبول کریں گے۔ بعدازاں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا جس نے شب و روز کی انتھک محنت کے بعد سارے ثبوت اکھٹے کرلیں۔
آج اگر میاں نوازشریف ، مریم نواز اور کپٹن ریٹائر صفدر اڈیالہ جیل بند ہیں تو یہ تاریخ لمحات ہیں۔ وطن عزیز کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کو بدعنوانی کے مقدمہ میں سزا نہ ہوئی مگر سابق وزیر اعظم نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ آج وہ جیل کی سلاخوں کے پچھے ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت ارتقائی عمل کا نام ہے، ارض وطن میں جمہوریت کا پودا بتدریج تناور درخت بن رہا ہے۔ اب پاکستان کے کونے کونے میں ووٹر اپنے منتخب نمائندوں سے ان کی ماضی کی کارکردگی کا حساب لینے کے لیے کوشاں ہیں۔ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم پاکستانیوں کی اکثریت اب وعدوں اور دعووں پر بہلنے کے لیے تیار نہیں۔
دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کا کچھ بھی نتیجہ نکلے مگر حقیقت یہ ہے کہ باشعور پاکستانی اپنے ہونے کا احساس دلا رہے۔ اس میں یہ خواہش انگڑائی لے رہی کہ خواص اور عام کا فرق بتدریج ختم کرنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبوں میں جس کی بھی حکومت آئے مگر اسے بڑے چیلنجر درپیش ہونگے۔ پانی کا بحران اور غیر ملکی قرضہ بڑے مسائل کی شکل میں موجود ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل بھی کسی طور پر نظرانداز کرنے کے قابل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان مخلوط حکومت کی بجائے پی ٹی آئی کے لیے بھرپور اکثریت ملنے کی خواہش کا اظہار کررہے۔

Scroll To Top