اہلِ پشاور کی کشادہ دلی 24-08-2013

kal-ki-baat
غلام محمد بلور بڑی اچھی شہرت رکھنے والے لیڈر ہیں ان کی شہرت اتنی اچھی رہی ہے کہ پاکستان ریلوے کی تباہی بھی ان کی نیک نامی میں کوئی کمی نہیں کرسکی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ عمران خان کے مقابلے میں انہیں جس قسم کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس پر ان کے مخالفین کو بھی زیادہ خوشی نہیں ہوئی تھی۔ 22اگست2013ءکا الیکشن بلور صاحب کی زندگی کا غالباً آخری سیاسی معرکہ ہوگا ۔ جس طرح سرحدی گاندھی کی سیاست کو 11مئی2013ءکے انتخابی نتائج نے زبردست دھچکا پہنچایا اسی طرح خیبر پختون خواہ میں ” گاندھی “ کا نام زندہ رکھنے کے خواہشمند بھی بڑی تیزی کے ساتھ اپنی سیاسی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ایک عرصے سے اے این پی پر جو نسل حکمران رہی ہے اس نے آج تک اپنے قبلے کا رخ نئی دہلی سے موڑ کر پاکستان کی طرف کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور اب یہ نسل اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔
غلام محمد بلور کو پشاور کے لوگوں نے ان کی اچھی شہرت کے پیش نظر اچھے انداز میں الوداع کہہ کر اپنی کشادہ دلی کا ثبوت دیا ہے۔ مگر ہمارے جو روشن خیال سیکولر تجزیہ کار غلام محمد بلور کی کامیابی کو اے این پی کی واپسی کی طرف ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ بلور صاحب نے جتنے ووٹ 11مئی اور 22اگست کو مجموعی طور پر لئے ہیں ان میں اگر گل بادشاہ کے ووٹ بھی شامل کردیئے جائیں تو کل ووٹوں کی تعداد اتنی نہیں بنتی جتنی تعداد کے ساتھ عمران خان 11مئی کو جیتے تھے۔غلام محمد بلور کی حالیہ جیت سے اگر کوئی پیغام ملتا ہے تو یہ پیغام ملتا ہے کہ اہلِ پشاور کو گل بادشاہ کی جیت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اگر22اگست کے انتخابات کے نتائج کسی انقلاب کا پیش خیمہ بننے کا امکان اپنے دامن میں لئے ہوتے ` تو عمران خان کے حامی زیادہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے ضرور نکلتے۔
آنے والا وقت سرحدی گاندھی کے چیلوں کے لئے حوصلہ افزا خبریں نہیں لائے گا۔ اُن کے لئے اس سے زیادہ دل خوش کن خبر شاید کبھی نہ آئے کہ اسلام کی تسبیح پڑھنے والے مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی بقاءاے این پی کے ساتھ اتحاد میں تلاش کی ہے۔ اگر نظریاتی سیاست اِس کو کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم کرے۔۔۔

Scroll To Top