جیسے عمران خان کو اب روکا نہیں جاسکتا ` اسی طرح عمران خان بھی تبدیلی کے عمل کو نہیں روک پائیں گے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new
پولرائزیشن کس قدر خوفناک چیز ہے اس کا اندازہ مجھے پہلی مرتبہ 1970ءکی انتخابی مہم کے دوران ہوا تھا ` دوسری مرتبہ 1977ءکی انتخابی مہم ` تیسری مرتبہ 1990ءکی انتخابی مہم اور چوتھی مرتبہ اب ہورہا ہے۔۔۔
1970ءکی انتخابی مہم کے دوران فریقین کے لب ولہجے نے ماحول کو اسلام اور غیر اسلام کی جنگ میں تبدیل کردیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو غیر اسلام قرار دینے والوں میں بعض نام بے حد اہمیت کے حامل تھے۔میں شروع میں بھٹو کا زبردست حمایتی تھا کیوں کہ میں انہیں جمود توڑنے والی ایک نہایت فعال قوت سمجھتا تھا۔
یہ جمود توڑنے والی بات بے حد اہم ہے۔ پولرائزیشن کی ساری جزویات اسی کے اردگرد گھومتی ہیں۔ کچھ لوگ جمود کے عادی ہوجاتے ہیں اور کسی بھی قسم کی تبدیلی ان کے مزاج پر گراں گزرتی ہے۔ جمود پرستی کی جڑیں دراصل روایت پرستی میں ہوتی ہیں۔ اہلِ مکہ نے آنحضرت ﷺ کو صادق و امین تسلیم کرنے کے باوجود آپ ﷺ کے پیغام کو اس لئے مسترد کیا تھا کہ ان کے نزدیک باپ دادا کی روایات سے انحراف کرنا ناقابلِ تصور تھا۔ میں نے یہ مثال صرف اپنی بات سمجھانے کے لئے دی ہے۔
جمود پرستی یا روایت پرستی کو سیاسی لغت میں Status Quoکہا جاتا ہے۔
ایک زمانے میں Status Quoکی علامت ایوب خا ن تھے۔ پھر Status Quoکی علامت میاں نوازشریف بن گئے۔۔۔
میں جنرل ضیاءالحق کو Status Quoکی علامت اس لئے نہیں کہوں گا کہ وہ پہلے حکمران تھے جنہیں یا د آیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو کچھ اسلامی قوانین کی بھی ضرورت ہے۔
میاں نوازشریف ایک تہائی صدی سے جمود پرستی روایت پرستی اور Status Quoکی علامت بنے ہوئے ہیں۔ کمال کی بات یہاں یہ ہے کہ انہوں نے اسلام سے لادینیت کی طرف جو چھلانک لگائی ہے وہ بھی ان کے حامیوں کی وفاداریوں میں دراڑیں نہیں ڈال سکی۔ ان کے حامی اور وفادار جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کو ” بدی “ کی علامت سمجھتے تھے اسی طرح ” عمران خان “ کو بدی کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ ان کا لیڈر پاکستان کی دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر پاک فوج اور پاک عدلیہ کو تضحیک کا نشانہ بنا رہا ہے۔
مگر جیسے بھٹو تبدیلی کی علامت بنے تھے ` اسی طرح عمران خان بھی تبدیلی کی علامت بن چکے ہیں۔
تبدیلی اب وقت کا تقاضہ ہے۔
دنیا کا سیاسی نقشہ بھی تبدیل ہورہا ہے۔ پاک فوج کی ترجیحات بھی تبدیل ہورہی ہیں اور پاکستان کی پالیسیاں بھی تبدیلی کی متقاضی ہیں۔
اس وقت عمران خان تبدیلی کی علامت ہیں۔ ان کا مقابلہ ایک طرف ان قوتوں سے ہے جن کے مفادات کی جڑیں ” جمود“ میں ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا مقابلہ اس عمران خان سے بھی ہے جو اس جنگ میں ان قوتوں کو اپنے لشکر میں شامل کرنے پر مجبور ہوا ہے جن کا رشتہ ” جمود “ سے تھا مگر جو جمود کی دیواروں میں دراڑیں دیکھ کر ان کے ساتھ آملی ہیں۔ جیسے عمران خان کو اب روکا نہیں جاسکتا ` اسی طرح عمران خان بھی تبدیلی کے عمل کو نہیں روک پائیں گے۔ جمود کی قوتوں کو تبدیلی کی آواز کے سامنے ہتھیار ڈالنے ہی پڑیں گے۔

Scroll To Top