عام انتخابات:عوام کے جمہوری حق کے آزادانہ استعمال کو یقینی بنائیںگے ، آرمی چیف

  • جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر راولپنڈی کا دورہ ، آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو معاونت کے پلان پر بریفنگ، ضابطہ اخلاق کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام تر معاونت فراہم کریں گے، سربراہ پاک فوج کی یقین دہانی
  • انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ، الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں ،3 لاکھ 71 ہزار فوجی جوان ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر تعینات ہونگے،سیاسی امیدواروں کی سیکیورٹی حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، میجر جنرل آصف غفور کی قائمہ کمیٹی برائے سینٹ کو بریفنگ
راولپنڈی:۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر کے دورے کے دوران بریفنگ دی جا رہی ہے

راولپنڈی:۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر کے دورے کے دوران بریفنگ دی جا رہی ہے

راولپنڈی(این این آئی)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے عام انتخابات میں معاونت کرےگی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی الیکشن سپورٹ سینٹر راولپنڈی کا دورہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے موقع پر آرمی چیف کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو معاونت کے پلان پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ عوام کو جمہوری حق کے آزادانہ استعمال کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے کی تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے معاونت کرے گی۔ دریں اثناء سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے خصوصی اجلاس میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو ) کے نمائندے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ فوج کا انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ،ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جمعرات کو سینیٹرز رحمٰن ملک کی زیر صدارت پارلیمان ہاو¿س میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں نمائندہ جی ایچ کیو، نیکٹا کو آرڈینیٹر، وفاقی سیکریٹری داخلہ و دفاع، سیکریٹری الیکشن کمیشن، چاروں صوبوں کے آئی جیز و سیکرٹری داخلہ سمیت اہم اراکین سینیٹ نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نمائندہ جی ایچ کیو میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس ایوان میں بات کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ہمیشہ سول اداروں کو اپنی حمایت دیتی رہی ہیں، انتخابات کے لیے پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کی جارہی ہے جبکہ الیکشن میں پرنٹنگ پریس کے لیے بھی فوج ڈیوٹی دے رہی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارا انتخابات میں براہ راست کوئی کردار نہیں، ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن امان کی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ 3 لاکھ 71 ہزار فوجی جوان ملک بھر کے پولنگ اسٹیشن پر تعینات ہوں گے،کچھ افواہیں تھیں کہ فوجی جوانوں کو مختلف احکامات جاری کیے گئے ہیں جو سراسر غلط ہے۔اس موقع پر سینیٹر کلثوم پروین نے نمائندہ جی ایچ کیو سے سوال کیا کہ بلوچستان میں کتنے فوجی بھیجے جارہے ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے بلوچستان میں ضرورت کے مطابق تعیناتی کی ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے ہم نے ہر جگہ کا تجزیہ کیا ہے، پلاننگ کا معاملہ ہم پر چھوڑدیں، ہمیں پتہ ہے کہ کس جگہ کتنے بندے تعینات کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرنا ہے، باہمی رابطے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے جب تک پولیس کی استعداد نہیں بڑھتی،ہمیں پولیس کی ڈیوٹی بھی دینی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جب افغانستان میں انتخابات ہوئے تھے تو ہم نے سرحد کے اس طرف غیر معمولی اقدامات کیے تھے، اس مرتبہ افغانستان کے صدر نے وزیراعظم اور آرمی چیف کو فون کرکے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ فوج کسی سیاستدان کی سیکیورٹی کی براہ راست ذمہ داری نہیں لے رہی، سیاسی امیدواروں کی سیکیورٹی حکومت پاکستان کی اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ہم انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے الیکشن کمشن کی معاونت کر رہے ہیں۔

Scroll To Top