اب غلطی کی گنجائش نہیں رہی

zaheer-babar-logo

مستونگ میں خودکش حملے کرنے والی شناخت ہوجانا اہم پیش رفت ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر دہشت گردی کا یہ المناک واقعہ کیونکر رونما ہوا۔ خودکش حملہ آور کی شناخت حفیظ نواز ولد محمد نواز کے نام سے ہوئی جو سندھ کے علاقے میرپورساکرو کا رہنے والا تھا مگر اس کا خاندان ابیٹ آباد سے تین چار دہائیاںقبل سندھ منتقل ہوگیا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوچکا کہ حفیظ نواز کے دو بھائی اور تین بہنیں کچھ عرصہ قبل افغانستان گے تھے جو ابھی تک وہی مقیم ہیں۔ “
سانحہ پشاور کے بعد سانحہ مستونگ نے یقینا پاکستان کے ہر باضمیر شخص کو ہلا کر رکھ دیا ۔ ایک ہی کاروائی میں 149 لوگوں کا شہید ہونا اور 186 افراد کا زخمی ہونا کسی لحاظ سے بھلانے کے قابل نہیں۔ اس واقعہ کی زمہ داری داعش نے قبول کی ۔ اب قانون نافذکرنے والے اداروں نے جس طرح اس کے خاندان سے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں وہ اس بات کا پتہ دے رہیں کہ کشت وخون کا یہ واقعہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ عمل میں لایاگیا۔
مستونگ میں شہید ہونے والے نواب ذادہ سراج ریئسانی جس طرح کی بے باک شخصیت کے مالک تھے اب ایسی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے شہید ہونے والے رہنما میں پاکستانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ سراج رئیسانی نے بہادر کی طرح زندگی بسر کی، تمام عمر انھوں نے خطرات کا مقابلہ کیا۔ ایسا نہیں کہ سراج رئیسانی کو پتہ نہیں تھا کہ دور اور نزدیک کا دشمن ان کی تاک میں ہے مگر وہ آخری دم تک ارض وطن کی جنگ لڑتے رہے۔ سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد بھارتی پرچم کو اپنے پاوں میں روندتے ہوئے ان کی سامنے آنی والی تصاویر بتا رہیں کہ وہ پاکستان کے دشمنوں بارے کیا جذبات رکھتے تھے۔سمجھ لینا چاہے کہ چانکیہ سیاست کے پیروکاروں کو باخوبی اندازہ تھا کہ بلوچستان میں ان کے منفی مقاصد کی راہ میںکون کہاں پر رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
یقینا اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے کہ ہم ایک بہادر پاکستانی کی زندگی کو نہ بچا سکے ۔ سراج رئیسانی کے ساتھ کم وبیش ڈیڑھ سو پاکستانیوں کی شہادت بھی کم نقصان نہیں۔ تسلیم کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں مگر ان ناکامیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہے جو اب تک ہمارے حصہ میں آرہیں۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کو سرحد پار سے سرپرستی میسر ہے۔ مستونگ میں خودکش حملہ آور کے بہن بھائیوں کا افغانستان میں موجود ہونا محض اتفاق نہیں۔ دولت اسلامیہ ہویا کوئی بھی پرتشدد گروہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قتل وغارت گر ی کرنے والوں کو نئی دہلی کی بھرپور مدد میسر ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ وقت کب آئیگا جب ہم بھارت کی ہر سازش ناکام بناکر سرخرو ہونگے۔ ۔ اس میں کیا شک ہے کہ چین کے پاکستان سے کہیں بڑھ کر دشمن ہیں مگر شائد ہی ایسا ہوا ہو کہ کسی سانحہ کے بعد چین نے اپنے کسی حریف کا نام کے کر اس پر الزام تراشی کی ہو۔
پاکستان کی مسلح افواج ہوں یا خفیہ ادارے کوئی بھی شعبہ کسی طور پر کم نہیں ۔ جو مسلہ ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے صفوں میں اتفاق واتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔ مذید یہ کہ خبیر تا کراچی محکمہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہے۔ اس سچائی کو دل وجان سے تسلیم کرنا ہوگا کہ قیام امن کی بڑی زمہ داری محکمہ پولیس کے سر ہے۔ اب پولیس میں میرٹ اور صرف میرٹ کی بالادستی ہونی چاہے، سیاسی تعیناتی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کبھی بہتری لانے کا باعث نہیں بن سکتیں۔
پنجاب اور سندھ میں بالترتیب مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی دس دس سے تسلسل کے ساتھ حکومت کرتی رہیں۔ مذکورہ دونوں جماعتیں یہ عذر پیش نہیں کرسکتیں کہ انھیں کارکردگی دکھانے کا موقعہ نہیں ملا۔ اٹھارہویں اور اکسویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو بڑی حد تک اندرونی طور پر خودمختاری مل چکی۔ وہ اپنے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑی حد تک وفاق کے محتاج نہیں رہے۔ حیرت ہے کہ اختیار کے باوجود کسی بھی صوبے میںایسے ٹھوس اقدمات نہیں اٹھائے گے جو قابل رشک کہلائیں۔
وقت آگیا ہے کہ سیاسی قیادت اپنی ناکامیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
25جولائی کا انتخاب اب زیادہ دور نہیں رہ گیا۔ وفاق اور صوبوں میں موجود نگران حکومتوں کی بنیادی زمہ داری ہے کہ وہ ووٹروں کو ایسا ماحول فراہم کریں جس میں وہ آزدانہ طور پر اپنے حق کا استمال کرسکیں۔ انتخابی مہم کے دوران بلوچستان اور کے پی کے میںہونے والے دہشت گردی کے واقعات ہرگز نیک شگون نہیں چنانچہ امن وامان بحال کرنے میں کوتاہی کا مرتکب جو کوئی بھی ہوا اس کے خلاف سختی سے پیش آنا چاہے۔ قانون نافذکرنے والے اداروں کی کامیابیوں سے انکار نہیں مگر عام انتخابات کے موقعہ پر کسی قسم کی لاپرواہی ہولناک نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ مقام شکر ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود سیاسی جماعتیں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک کسی بھی چھوٹی بڑی پارٹی نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان نہیں کیا۔ شکوے شکایات اپنی جگہ مگر ہم بفضل تعالی عام انتخابات کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ وطن عزیز کا جمہوری نظام مشکلات کا شکار ضرور ہے مگر وہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا۔ امید کرنی چاہے کہ اب عام انتخابات تک الیکشن عمل پرامن انداز میں آگے بڑھتا رہیگا۔

Scroll To Top