کیا یہ نظام کبھی بھی کسی عمران خان کو موقع دے گا کہ کسی انقلابی تبدیلی کو بروئے کار لائے ؟ 23-08-2013

kal-ki-baat
آج میں آنے والی بحثوں کے لئے جس موضوع کو چھیڑنا چاہتا ہوں ` اس کا تعلق وطنِ عزیز کے مستقبل سے ہے۔ جس وقت میں یہ الفاظ قلمبند کررہا ہوں` 41حلقوں میں ضمنی انتخابات کا عمل جاری ہے۔ جب آپ میری یہ تحریر پڑھیں گے اِن ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہوں گے۔ اگر یہ نتائج چونکا دینے والے ہوئے یعنی اِن سے 11مئی کے انتخابی عمل کے نتائج کی نفی ہوئی تو قوم کے دلوں میں یہ شک و شبہ مزید گہری جڑیں پکڑ جائے گا کہ عمران خان نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے جو الزامات اپنے وائٹ پیپر میں لگائے ہیں ان میں کافی حد تک صداقت ہے۔
متذکرہ وہائٹ پیپر کے بارے میں (ن)لیگ کے حلقوں نے یہ رائے دی ہے کہ خان صاحب اس موقع پر دھاندلی کے الزامات کو ضمنی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ کتنا ہی اچھا ہوتاکہ مسلم لیگ (ن)خود آگے بڑھ کر یہ پیشکش کرتی کہ وہ خان صاحب کی خواہش کے مطابق اُن ” چار “ حلقوں کی مکمل چھان بین کرانے کے لئے تیار ہے جن کی نشاندہی تحریک ِ انصاف کی قیادت کررہی ہے۔!
دھاندلی کے الزامات آج تک کسی بھی موقع پر ثابت نہیں کئے جاسکے۔ اوردھاندلی کے الزامات کے سراٹھانے کا سلسلہ بھی کبھی ختم نہیں ہوا۔ دوسرے الفاظ میںموجودہ پارلیمانی نظام کے تحت مکمل ہونے والے کسی بھی انتخابی عمل کو Legitimacyنہیں مل سکی۔ میرے خیال میں اگر کسی ایک الزام کی چھان بین ہی دیانت داری کے ساتھ کرلی جائے اور ثابت کردیا جائے کہ ڈیڑھ ہزار ووٹوں والے پولنگ سٹیشن پر آٹھ ہزار ووٹ نہیں پڑے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔
لیکن اِس نظامِ خرابی میں Legitimacyحاصل کرنے سے کسی کو دلچسپی نہیں ہے ` دلچسپی صر ف اقتدار حاصل کرنے اوراقتدار میں رہنے سے ہے۔
اور جس موضوع کو میں آج چھیڑنا چاہتا ہوں وہ ایک سوال پر مبنی ہے۔
کیا یہ نظام کبھی بھی کسی عمران خان کو موقع دے گا کہ کسی انقلابی تبدیلی کو بروئے کار لائے؟
جو لوگ اس نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں وہ کبھی اس نظام کی بنیادیں ہلنے نہیں دیں گے کیوں کہ ان کے بڑے بنیادی مفادات کی جڑیں اس نظام میں ہیں۔
انقلابی تبدیلی کی خواہش تو شاید میاں نوازشریف کے دل میں بھی ہو ` لیکن وہ یہ بات کیسے بھول جائیں کہ ان کی بزنس ایمپائر نے اسی نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اِس ایمپائرکے پھلتے پھولتے رہنے کا انحصار بھی اسی نظام کی بقاءپر ہے۔۔۔؟

Scroll To Top