جیپ شیر تِیر یا پھر بَلّا ؟

aaj-ki-baat-new

نت نئی افواہوں ` سرگوشیوں اور تجزیوں کا سلسلہ انتخابات کے بہت قریب ہونے کے باوجود نہیں تھم رہا۔۔۔ جب میں یہ الفاظ قلمبند کررہا ہوں 19جولائی کی صبح کا وقت ہے۔۔۔ ٹھیک چھ روز بعد قوم اس وقت اپنے ووٹوں کا استعمال کررہی ہوگی۔۔۔ بیلٹ بکس بھرے جانے شروع ہوچکے ہوں گے۔۔۔ مگر اِس لمحے تک بہت سارے لوگوں کو یقین نہیں آیا کہ انتخابات واقعی ہوں گے اور ان کے نتیجے میں واقعی ایک وزیراعظم سامنے آئے گا۔۔۔
گزشتہ دنوں میں نے ایک عرصے کے بعد ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں حصہ لیا۔۔۔ آف دی ریکارڈ اس شو کے ایک مہمان نے کہا کہ ” یہ سارا کھیل میاں نوازشریف کو ایک ہیرو بنانے کے لئے کھیلا جارہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ آج بھی آنے والے ادوار میں شریف فیملی کے اقتدار کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔۔۔“
میں نے موصوف سے کہا کہ ” اس قسم کی سازشیں اگرچہ خارج از امکان نہیں مگر جس ادارے کی بقاءاس بات سے منسلک ہے کہ پاکستان اپنے دشمن بھارت اور اپنے سابق سرپرست امریکہ کے ” قہر و غضب“ کا شکار نہ ہو وہ کیسے اپنے آپ کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ بنے گا۔۔۔؟“
موصوف کے پاس اِس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ اسی پروگرام کے ایک مہمان کو شکایت یہ تھی کہ میڈیا پرسنسر عائد کرکے انتخابات کو شفاف کیسے بنایا یا ثابت کیا جاسکتا ہے۔۔۔ میں نے جواب میں کہا کہ سنسر شپ کا بیانیہ کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ جاننے کے لئے اپنے آپ سے صرف یہ پوچھئے کہ ” کیا ایک ایسا میڈیا جو مکمل طور پر آزاد نہ ہو وہ ایسی کوئی پریس کانفرنس ” لائیو“ نشر کرسکتا ہے جو پاکستان واپس آنے سے پہلے لندن میں میاں نوازشریف نے کی تھی اور جس میں پاکستان کے عوام سے کھل کر اپیل کی گئی تھی کہ وہ پاکستان کی فوج کے خلاف بغاوت کردیں اور اس کے قبضے سے ملک کو آزاد کرانے کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں۔۔۔؟“
جو انتخابی مہم اس وقت چلائی جارہی ہے اس میں ہر قسم کا جھوٹ کھل کر پوری بے شرمی کے ساتھ بولا جارہا ہے ۔۔۔
بلاول بھٹو کی مہم کا جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ اگر پی پی پی 25جولائی کو جیت جائے تو بلاول وزیراعظم بن جائیں گے ۔۔۔ حالانکہ وزیراعظم بننے کے لئے انہیں مزید پانچ سال انتظار کرنا ہوگا۔ ۔۔ وزیراعظم بننے کے لئے عمر کی حد 35برس ہے۔۔۔ اس جھوٹے تاثر کا فائدہ پی پی پی کو یہ ہے کہ ووٹروں کی بہت بڑی تعداد اس سوچ کی اسیر ہوسکتی ہے کہ ان کے ووٹ زرداری کے لئے نہیں بلاول کے لئے ہیں۔۔۔جہاں تک سابق ” خادمِ اعلیٰ“ کا تعلق ہے اُن کا یہ کہنا کہ وہ ” خادم ِ اعظم “ بن کر پورے پاکستان کو پنجاب بنا ڈالیں گے ۔۔۔ ہم جیسے لوگ یہاں یہ سوچ سکتے ہیں کہ اگر پورا پاکستان ماڈل ٹاﺅن بن گیا تو ہم کہاں جائیں گے۔۔۔؟
اُدھر چوہدری نثار کا لب و لہجہ ترقی کرکے اِس دعویٰ تک آپہنچا ہے کہ ان کی جیپ میں اتنے سارے لوگ سوار ہونے والے ہیں کہ برات کے اصل ” دولہا “ وہی ہوں گے ۔۔۔
اللہ کیا چاہتا ہے اس کا علم تو 25جولائی کے بعد ہی ہوگا۔۔۔25جولائی کا خاتمہ رات کو بارہ بجے ہوجائے گا۔۔۔
ایک بات یقینی ہے کہ اِس مرتبہ کا مران خان یا کوئی اور اینکرپرسن یہ اعلان نہیں کرسکے گا کہ ” ناظرین میاں نوازشریف وزیراعظم بن چکے ہیں۔۔۔“

Scroll To Top