نئے میثاق جمہوریت پر بات چیت کیلئے تیار ہیں: بلاول بھٹو زرداری

  • الیکشن کے بعد وزیراعظم کا فیصلہ ہوگاتاہم آصف علی زرداری کے نظریہ مخلوط حکومت سے مثبت نتائج سامنے آ سکیں گے
  • نوازشریف اور شہباز شریف نے میثاق جمہوریت پر اعتماد کھویا،کسی صورت بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، چیئرمین پی پی پی
اسلام آباد:۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پریس کانفرنس کرہے ہیں، شیر ی رحمن اور نیئر بخاری بھی ہمراہ ہیں

اسلام آباد:۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پریس کانفرنس کرہے ہیں، شیر ی رحمن اور نیئر بخاری بھی ہمراہ ہیں۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تمام جمہوری جماعتوں سے نئے میثاق جمہوریت پر بات کرنے کےلئے تیار ہیں، پارلیمنٹ میں آنے والے سیاسی قائدین بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں ،جو ظلم و زیادتی میرے والد نے نوازشریف کے دور میں سہی، نہیں چاہتا وہی سب شریف خاندان کے ساتھ ہو ، عوام میں بی بی شہید کا مشن لے کر نکلا ہوں ، محنت سے نہیں ڈرتا، نتائج کےلئے محنت ضروری ہے، گالم گلوچ کی سیاست ، گالم  گلوچ بریگیڈ کی سیاست پاکستان برداشت نہیں کرسکتا ،الیکشن کے بعد وزیراعظم کا فیصلہ ہوگا ،نواز شریف کو جیل میں بنیادی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ منگل کو پارٹی کے سینئر رہنماﺅں کے ہمراہ میڈیا سے با ت چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ عوام پیپلزپارٹی کا نظریہ قبول کرتے ہیں، اس کا نتیجہ 25 جولائی کو سامنے آئےگا،میری توجہ عوام کے مسائل اور پارٹی منشور پر رہی ہے، میرا پہلا الیکشن ہے، انتخابی مہم بھی چلارہا ہوں، میں عوام میں بی بی شہید کا مشن لے کر نکلا ہوں۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ ایک الیکشن کی بات نہیں ،یہ مشن جاری رہے گا، محنت سے نہیں ڈرتا، نتائج کےلئے محنت ضروری ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ گالم گلوچ کی سیاست ، گالم گلوچ بریگیڈ کی سیاست پاکستان برداشت نہیں کرسکتا۔انہوںنے کہا کہ گالم گلوچ اور نفرت کی سیاست کو مرکزی دھارے میں لائیں گے تو نوجوان سمجھیں گے کہ اسی طرح کرنا ہے، نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مثبت کردار ادا کریں۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ الیکشن کے بعد وزیراعظم کا فیصلہ ہوگاتاہم آصف علی زرداری کے نظریہ مخلوط حکومت سے مثبت نتائج سامنے آ سکیں گے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومتوں نے ریاست اور معیشت کو مستحکم کیا، پی پی پی ملک کی وہ سیاسی جماعت ہے جو تمام مسائل کا سامنا کرسکتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں سیاسی اتحاد حقیقی خطرہ ہوتا تو سامنے آکر مقابلہ کرتا، سندھ میں سیاسی اتحاد بیک ڈور کے ذریعے کام نہیں کرتا، اب بھی کچھ کٹھ پتلی جماعتیں 2018 ءکی آئی جے آئی کا حصہ ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ نواز شریف اور شہباز شریف کےساتھ ماضی کا ہمارا تجربہ مثبت نہیں رہا ،مسلم لیگ (ن)،نوازشریف اور شہباز شریف نے میثاق جمہوریت پر اعتماد کھویا،ہم جمہوریت پسند تمام جماعتوں سے وسیع تر میثاق جمہوریت پر بات کےلئے تیار ہیں، ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ میں آنے والی تمام جمہوریت پسند جماعتوں کے اتفاق رائے کی کوشش بھی کریں گے ، ہم کسی صورت بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، نواز شریف کو جیل میں بنیادی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔سیاسی قائدین اور امیدواروں کی جانب سے غیر اخلاقی الفاظ کے استعمال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری توجہ پارٹی منشور اور عوامی مسائل پر ہے، میں اپنے مثبت کردار اور نظریات کی مدد سے نوجوانوں کو متاثر کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اسی کی بنیاد پر نوجوان طبقہ سیاست، معیشت اور اقتصادیات میں اپنا کردار ادا کرےگا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے بعض جلسے منسوخ کیے ،ہمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے لیے کاغذی کے بجائے عملی پلان اپنانا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ تجربہ کار سیاستدان اپنی تقاریر کے ذریعے عوام کو مسائل کے بارے آگاہی دینے کے بجائے سیاسی مخالفین پر جسمانی تشدد کے حوالے سے اکسانے رہے ہیں جس سے صرف ملکی ترقی میں خلل پیدا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ شہید بینظیر بھٹو کی تربیت میرے ساتھ ہے، اپنے مثبت کردار اور نظریات کی مدد سے نوجوانوں کو متاثر کرنا چاہتا ہوں، یقینا اسی کی بنیاد پر نوجوان طبقہ سیاست، معیشت اور اقتصادیات وغیرہ میں اپنا کردار ادا کرےگا۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ فاشٹ ذہنیت کے حامل سیاستدانوں کی تعلیمات سے ملک کا ٹیلنٹ ضائع ہو جائےگا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میری توجہ پارٹی منشور اور عوامی مسائل پر ہے، خود بھی پارلیمنٹ میں ہوں گا اور پیپلز پارٹی کے نمائندے بھی ہوں گے۔

Scroll To Top