مصری سالار نے نوشتہءدیوار نہیں پڑھا 16-08-2013

kal-ki-baat
مصری فوج اسرائیل کے مقابلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوتی رہی ہے مگر اپنے ملک کے نہتّے شہریوں کے خلاف اس نے جس ” شجاعت “ کامظاہرہ کرتے ہوئے قاہرہ اوردوسرے مصری شہروں میں لاشوں کے ڈھیر لگائے ہیں اس پر وہ کم ازکم واشنگٹن کے خراجِ تحسین کی مستحق ضرور ہے۔
نہتّے شہریوں پر ٹینک دوڑا دینا کوئی معمولی ” کارنامہ “ نہیں۔ مصر کے فوجی حکمران عبدالفتح سلیسی نے درمیان کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے بھرپور درندگی کامظاہرہ کرڈالنے کا آپشن استعمال کیا ہے۔ وہ فوج جو بنیادی طور پر اسرائیل کے خلاف استعمال ہونے کے لئے تیار کی گئی تھی وہ اب تک صرف خود مصر کے شہریوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کی جاسکی ہے۔
لیکن یہاں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا مصر کی موجودہ فوجی قیادت اپنے عوام کو دہشت زدہ کرکے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کرسکے گی؟ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ظلم کا نشانہ بننے والوں کے حوصلوں کو ظلم کرنے والوں کے ضمیر پر ہمیشہ غلبہ حاصل ہوا کرتاہے۔
مصری فوج کی یہ جنگ صرف اپنے عوام کے خلاف نہیں ` خدا کے آخری پیغام کے خلاف بھی ہے۔
مصری فوج کے سپہ سالار نے فی الحال نوشتہ ءدیوار نہیں پڑھا۔ اسلام کے خلاف جنگ لڑنے والی کسی طاقت کے مقدر میں کامیابی نہیں لکھی ہوئی۔
عبدالفتح سلیسی جیسے سفاک درندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رسّی زیادہ عرصے تک دراز نہیں رہے گی-

Scroll To Top