قائداعظم ؒ کا پاکستان رحم کے لئے پکار رہاہے لبیک کی آواز کب اور کہاں سے بلند ہوگی ؟

aaj-ki-baat-new

اس کالم کا آغاز میں اس دعا سے کررہاہوں کہ ہماری آنے والی نسلیں پاکستان کا 100واں یوم ِ آزادی دھوم دھام کے ساتھ منائیں۔ اس سے زیادہ دھوم دھام کے ساتھ پاکستان کا 150واں اورپھر 200یومِ آزادی منایا جائے۔
لیکن آج وطنِ عزیز کی فضاﺅں سے کچھ اس نوعیت کے نوحے بلند ہورہے ہیں کہ میرے وجود میں جن خوفناک بلاﺅں کے پنجے گڑے ہوئے ہیں ان کے سفاک اور خونی عزائم سے بچانے کے لئے میری مدد کو آﺅ اور مجھے رہائی دلاﺅ۔۔۔
جسدِ پاکستان کی نوحہ کناں روح کی اس دردناک پکار کو لبیک کون اور کب کہے گا۔۔۔؟
یہ سوال ہر ایسے شخص کے دل و دماغ میں پھڑ پھڑا رہاہے جو سرزمین پاک کو ریاستِ مدینہ کا تسلسل سمجھتا ہے اور جس کا ایمان ہے کہ علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒنے جس پاکستان کے قیامِ کی جدوجہد کو کروڑوں مسلمانانِ ہند کا مقصدِ حیات قرار دیا تھا اس پاکستان میں صرف اور صرف وہ قوانین اور ضوابط نافذ کئے جانے تھے جن کا نفاذ سب سے پہلے ریاستِ مدینہ میں ہوا تھا۔
آزاد قومیں اپنا یومِ آزادی بڑے جوش و خروش اور اہتمام کے ساتھ منایا کرتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنی ” آزادی “ پر نازاں ہونے میں بخیلی سے کام نہیں لینا چاہئے۔۔۔ مگر جس بے حسی اور بے نیازی کا مظاہرہ ہم اپنی آزادی کے تحفظ کے معاملے میں کررہے ہیں وہ ایک آزاد قوم کو کسی بھی صورت میں زیب نہیں دیتی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ خدانخواستہ ہماری آزادی خطرے میں ہے۔۔۔ مگر جس قوم کو دشمنوں نے اندر سے باہر سے اور تمام اطراف سے اس انداز میں گھیر رکھا ہو جس انداز میں آج کا پاکستان گھِرا ہواہے ` اسے سکون کی نیند اپنے آپ پر حرام قرار دے دینی چاہئے۔
گزشتہ شب کاشف عباسی کے پروگرام میں یہ بحث جاری تھی کہ پاکستان پر جو جنگ مسلط کی گئی ہے وہ ہماری جنگ ہے یا نہیں ۔۔۔ مجھے اس بحث پر رونا آئے بغیر نہ رہ سکا۔
جس جنگ میں ہمارے بہادر فوجی ` پولیس کے جواں اور نہتے شہری روزانہ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیںوہ جنگ ہماری کیسے نہیں ہوسکتی۔ ؟ جس جنگ میں بابائے قوم کی رہائش گاہ کو اس قدر سفاکی کے ساتھ تاراج کیا گیاہے اور ان کی تصاویر کو حقارت کے ساتھ پاﺅں تلے روندا گیا ہے اس جنگ سے آنکھیں چرانا ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔
لیکن کوئی بھی جنگ کا میابی کے ساتھ تب تک نہ تو لڑی جاسکتی اور نہ ہی جیتی جاسکتی ہے جب تک ہمیںیہ معلوم نہ ہو کہ ہمارے حقیقی دشمن کون ہیں۔
کیا یہ بات ایک خوفناک المیے سے کم ہے کہ جو دشمن قوتیں ہمارے خلاف اس جنگ کی منصوبہ بندی اور قیادت کررہی ہیں ` ہمارے حکمران انہیں سینے کے ساتھ لگانے کے لئے بے چین ہیں ؟ اس ضمن میں زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری دشمن قوتوں کو ہمارے ” روشن خیال“ اور ” امن دوست “ میڈیا کے اندر بے پناہ حمایت حاصل ہے !
(یہ کالم14اگست 2013ءکو یوم آزادی پر شائع ہوا تھا۔ پانچ برس بعد بھی ہم اُسی موڑ پر کھڑے ہیں۔۔۔)

Scroll To Top