افغانستان میں کشت وخون کا کھیل جاری

zaheer-babar-logo
اففانستان میں جہاں ایک طرف مسلسل غیر یقینی ہے وہی اس میں شبہ نہیں کہ بات چیت کے زریعہ قیام امن کی کوشش بدستور جاری وساری ہیں۔ امریکہ ہو یا کابل حکومت ہر کوئی بظاہر امن کے لیے کوشش کرنے کا دعوی کرتا نظر آرہا ہے ۔ ادھر افغان طالبان ایک عرصے سے کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات کو مسترد جبکہ امریکہ سے بات چیت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں مگر امریکی موقف یہ رہا کہ وہ صرف کابل حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے کی صورت میں ہی طالبان سے مذاکرات کرے گے۔ مگراب طالبان سے بات چیت واشنگٹن حکومت کے اس نئے اعلان کو سترہ سالہ افغان جنگ کے خاتمے کے لیے نئی امریکی حکمت عملی قرار دیا گیا ۔ دوسری جانب تاحال یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کہ کیا نئی امریکی حکمت عملی افغانستان میں مسائل حل کرنے میںمعاون ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکہ کے بعقول طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اصل مقصد یہی ہے کہ افغان ٹو افغان مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔ اس میں شبہ نہیں افغانستان میں طالبان تنازعے کا حل، سیاسی مفاہمت سے ہی ممکن ہے۔
افغانستان میں جس انداز میں آئے روز قتل عام کے واقعات ہورہے اس کے لیے لازم ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر مذاکرتی عمل کا آغاز کیا جائے۔ یاد رکھا جائے کہ اس سلسلہ میں کسی قسم کی تاخیر مسائل کم کرنے کی بجائے انھیں بڑھا سکتی ہے۔مبصرین کے خیال میں اگر امریکا مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے سب سے پہلے طالبان رہنماں پر پابندیاں ختم اور انہیں بلیک لسٹ سے نکالنا چاہیے۔ مذید یہ کہ امریکا کو قطر میں طالبان آفس کے باقاعدہ افتتاح کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو سکے۔
دوسری جانب افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار اور شمالی صوبے سرپل میں دولت اسلامیہ عراق و شام اور طالبان کے حملوں میں 9 پولیس اہلکاروں سمیت 29 افراد جان بحق ہوگئے۔ تشدد کی تازہ لہر میں جہاں طالبان پیش پیش ہیں وہی داعش بھی اپنی موجودگی ثابت کررہی۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان اور داعش میں بھی کشیدگی جاری ہے جس میں ایک دوسرے کو جانی نقصان پہنچانے کے علاوہ زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کرنا بھی شامل ہے۔ تاحال یقین سے نہیں کہاجاسکتا کہ افغانستان می طاقت اور اقتدار کے کھیل میں مذید کتنا خون بہے گا۔ عام افغان ہی نہیں جنگ سے تباہ حال ملک کے پڑوسی بھی اب امن کی خواہش رکھتے ہیں۔
درحقیقت افغانستان میں جس نوعیت کی لڑائی جاری ہے اس کے اثرات دیگر ملکوں پر پڑنے کے روشن امکانات ہیں۔ پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ یہاں ہزاروں نہیں لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں جو کسی نہ کسی شکل میںاپنے افغان شہریوں سے رابطے میں ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی کئی کاروائیوں کے تانے بانے افغانستان کے مسلح گروہوں سے جا ملے۔ پاکستان نے ضرب عضب اور ردالفساد کی شکل میں دہشت گردوں کے خلاف ایسی کامیاب کاروائیاں کی ہیں جس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں ایک پھر دہشت گرد کاروائیاں بڑھیں مگر امکان یہی ہے کہ اس تازہ لہر کا جلد ہی سدباب کرلیا جائیگا۔
افغانستان میں قیام امن کے لیے خطے کے بشیتر ممالک اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ پاکستان ، روس ، چین اور ایران ایک سے زائد بار کوشش کرچکے کہ جنگ بندی ہو اورتنازعات کچھ دو اور کچھ لو کے فارمولے کے تحت حل کرلیے جائیں۔مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ افغانستان کی جنگ سے بعض قوتوں کے مفادات وابستہ ہوچکے یعنی افغانستان میں آگ اور خون کا کھیل جاری رہنا بعض علاقائی اور عالمی طاقتوں کی مجبوری بن چکا۔
پڑوسی ملک میں بھارت کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مودی سرکار کی کوشش یہی ہے کہ جہاں ایک طرف افغانستان میںاس کا اثر رسوخ بڑھے وہی پاکستان مخالف قوتوں کو بھی مضبوط کیا جائے۔ چانکیہ سیاست کے پیروکار یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ آج اگر وہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو کل ان کی باری بھی آسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دو روز قبل جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران سب سے زیادہ شہری جاں بحق ہو ئے۔افغانستان میں اقوام متحدہ اسسٹنس مشن نے بتایا کہ عسکری اور خود کش حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار 6 سو 29 معصوم شہری جاں بحق ہوئے جو گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے جبکہ 2009 کے بعد ہلاکتیں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حملوں میں مجموعی طور پر تقریبا 3 ہزار 4 سو 30 افراد زخمی ہوئے یعنی مذکورہ زخمیوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5 فیصد کمی رہی۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ افغانستان میں امن نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اس میں سنجیدہ نہیں۔ انکل سام کی خواہش اور کوشش یہی ہے کہ افغانستان میں جتنا مرضی ظلم ہوجائے مگر اس خطے میں اس کے مفادات کو ضرور پورے ہوں۔ تاحال یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں روس، چین اور ایران جیسے ملک امریکہ کو کس حد تک مجبور کرسکتے ہیں کہ انکل سام امن کے لیے پیش قدمی کرے۔ پاکستان کی خواہش یہی ہے کہ کابل میںمضبوط حکومت قائم ہو جو اندرون خانہ کارکردگی دکھانے کے علاوہ پڑوسی ملکوں سے بھی تعمیری تعلقات بحال کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔

Scroll To Top