سیاست میںقومی اداروں کو ملوث نہ کیا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کے نتیجہ میں اگر تیسری قوت آتی ہے تو اس کے زمہ دار نوازشریف ہونگے۔ پیر کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ کا موقف تھا کہ فوج کو تنہا کرنے کی کوشیش کی جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کی جانب سے وزیراعظم، آرمی چیف اور آئی ایس آئی بارے مختلف باتیں کی جارہی ہیں مگر وزیر دفاع نے کوئی بیان جاری نہیں کیا الٹا وہ وزیراعظم کی کرپشن بچانے کے لیے شوکت خانم کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ دو نومبر کو اسلام آباد میں دس لاکھ لوگ ہونگے ۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم یا مستفی ہوں یا خود کو احتساب کے لیے پیش کریں“۔
وطن عزیز میں انواع واقسام کے بحران سر اٹھا رہے ہیں ۔ چند روز قبل معروف انگریزی روزنامہ میں اعلی سطحی اجلاس میں قومی اداروں کے سربراہوں سے منسوب ایسی خبر شائع کی جسے بھارت سمیت پاکستان کے بدخواہوں نے پوری قوت سے اپنے حق میں استمال کیا ۔ درست کہ وزیراعظم کے ترجمان، پنجاب حکومت سمیت قومی اداروں کی جانب سے خبر کی تردید آچکی مگر اب بھی اس معاملہ کی شدت کم نہیں ہوئی۔ بعض حلقے اعلانیہ اس موقف کا اظہار کررہے کہ انگریزی اخبار میں مذکوری سٹوری پوری منصوبہ بندی سے شائع کروائی گی تاکہ قومی اداروں کی عالمی سطح پر ساکھ کو مجروع کیا جائے۔اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاچکی مگر ایسا امکان کم ہے کہ شفاف جانچ پڑتال کے نتیجے میں درپردہ سازشی عناصر بے نقاب ہوں۔
اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ ایسے میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی کئی چیلنجز درپیش ہیں حکمران جماعت محاذآرائی پر کمر بستہ نظرآتی ہے۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر ہونا تو یہ چاہے تھا کہ فوری اور غیر جابندانہ تحقیقات کے نتیجے میں دودہ کا دودہ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ اب یہ راز کسی طور پر راز نہیں رہا کہ حکمران خاندان اس بڑے عالمی مالیاتی سکینڈل کو پس پشت ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیراءہے۔یہ یقینا قابل تحسین ہوتاکہ خیر سے شر پیدا کرتے ہوئے اس اہم سیکنڈل کے سامنے آنے پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ایسی قانون سازی کی جاتی کہ مسقبل میں کسی کو بھی پاکستان سے بیرون ملک غیر قانونی طور پر رقم بھیجنے کی جرات نہ ہوتی مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا۔
ایک نقطہ یہ ہے کہ اقتدار سے لطف اندوز ہونے والے بعض عناصر ایک بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے کوئی دوسرا بحران پیدا کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ چنانچہ حالیہ سالوں کے نتیجے میں یوں بھی ہوا ایک معاملہ حل نہیں ہوتا تو دوسرا سر اٹھائے آموجود ہوتا ہے ۔ ستم ظریفی کہ اس کھیل میں عام آدمی کی مشکلات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ میڑو بس جیسے میگا پراجیکٹ پر کام تو کیا گیا مگر صحت اور تعیلم جیسے مسائل تاحال موجود ہیں۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر بدعنوانی ماضی کی طرح آج بھی اہل پاکستان کے لیے بڑی مصبیت ہے۔ بیشتر سرکاری محکموںمیں جائز کام کے لیے رشوت دینا اور لینا عام ہے۔ بادی النظر میں اہل سیاست اور عوام کے مسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔جمہوریت جمہوریت کی دہائی تو ہمہ وقت دی جارہی مگر جمہور کے مفادات کا پاس رکھنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ رائج سٹم کے محافظوں سے بڑا شکوہ یہی ہے کہ وہ سسٹم پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔
قومی منظر نامہ ہر آن رنگ بدل رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اور حکمران جماعت کے درمیان فیصلہ کن سیاسی معرکہ لڑنے کے امکانات روشن ہورہے تو طرف بعض حلقے دفاعی اداروں پر تنقید کے تیر برسانے کا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔ عمران خان کا یہ کہنا غلط نہیں کہ وفاقی وزیر دفاع کو آگے بڑھ کر امریکہ اور بھارت کے ان الزمات کا بھرپور طور پر جواب دینے کی ضرورت ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر عسکری اداروں کو نشانہ بنانے کے منصوبہ پر کاربند ہیں۔ مگر افسوس کہ سیاسی لڑائی میں دفاعی اداروں کو ملوث کیا جارہا ہے۔ ”قائدین “ نہ جانے کیوں بھول رہے کہ پاک فوج سرحدوں پر اور سرحدوں کے اندار ایسے دشمن سے نبرد آزما ہے جس کا ایجنڈا تو واضح ہے مگر اس کے ٹھکانے کا پتہ نہیں۔ محض تین سال قبل جب پورا ملک مقتل کا منظر پیش کررہا تھا تو یہ عسکری قیادت ہی تھی جس نے آگے بڑھ کر ضرب عضب آپریشن کا پوری قوت سے آغاز کرڈالا۔ درست کہ سیاسی قیادت بھی بعدازاں اس مشن میں آگے بڑھ کر شامل ہوگی مگر پہلا قدم عسکری قیادت ہی نہ اٹھایا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سیاسی مسائل کو سیاسی انداز میں حل کرکے ثابت کریں کہ ملکی قائدین بصیرت کے ساتھ ایسا اخلاص بھی رکھتے ہیں جو اس مملکت خداداد کے مسائل حل کرنے کے لیے لازم ٹھرا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا تیسری قوت کی آمد کی وجہ حکومت کو قرار دینا دراصل ان مسائل کی جانب اشارہ ہے جو حالیہ بحران کا باعث بن رہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگر پانامہ لیکس کا معاملہ حکومت کھلے دل سے حل کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو آج صورت حال یقینا مختلف ہوتی۔آنے والے دوہفتوں کو شائد اس لیے اہم قرار دیا گیا ہے کہ وہ بڑی حد تک ملکی سیاست کا رخ متعین کرڈالیں گے۔

Scroll To Top